بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 14745
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 14745
حدیث نمبر: 14745 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
مُوسَى ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرٌ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُوسَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، قَالَ: سَأَلْتُ جَابِرًا، عَنِ الرَّجُلِ يُوتِرُ عِشَاءً ثُمَّ يَرْقُدُ، قَالَ جَابِرٌ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" مَنْ خَافَ مِنْكُمْ أَنْ لَا يَقُومَ مِنَ اللَّيْلِ، فَلْيُوتِرْ ثُمَّ لِيَرْقُدْ، وَمَنْ طَمِعَ مِنْكُم الْقِيَامَ، فَلْيُوتِرْ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ، فَإِنَّ قِرَاءَةَ آخِرِ اللَّيْلِ مَحْضُورَةٌ، وَذَلِكَ أَفْضَلُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم میں سے جس شخص کا غالب گمان یہ ہو کہ رات کے آخری حصے میں بیدار نہ ہو سکے گا تو اسے رات کے اول حصے میں ہی وتر پڑھ لینے چاہئے اور جسے آخر رات میں جاگنے کا غالب گمان ہو تو اسے آخر میں ہی وتر پڑھنے چاہئے کیونکہ رات کے آخری حصے میں نماز کے وقت فرشتے حاضر ہوتے ہیں اور یہ افضل طریقہ ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14745]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 755، وهذا إسناد ضعيف من أجل ابن لهيعة
الحكم: حديث صحيح، م: 755، وهذا إسناد ضعيف من أجل ابن لهيعة
← پچھلی حدیث (14744) باب پر واپس اگلی حدیث (14746) →