بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مُسْنَدُ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1188
صفحہ 26 از 60
حدیث نمبر: 14612 مسند احمد
حَسَنٌ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، أَبُو الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" خَيْرُ مَا رُكِبَتْ إِلَيْهِ الرَّوَاحِلُ، مَسْجِدُ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَام وَمَسْجِدِي".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے وہ بہترین جگہ جہاں سواریاں سفر کر کے آئیں سیدنا ابراہیم کی مسجد (مسجدحرام) ہے اور میری مسجد ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14612]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف من أجل ابن لهيعة
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف من أجل ابن لهيعة
حدیث نمبر: 14613 مسند احمد
حَسَنٌ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، أَبُو الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى أَنْ يُسْتَنْجَى بِبَعْرَةٍ أَوْ بِعَظْمٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مینگنی یا ہڈی سے استنجاء کرنے سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14613]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 263، وهذا إسناد ضعيف من أجل ابن لهيعة
الحكم: حديث صحيح، م: 263، وهذا إسناد ضعيف من أجل ابن لهيعة
حدیث نمبر: 14614 مسند احمد
حَسَنٌ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، أَبُو الزُّبَيْرِ ، جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، حَدَّثَنِي جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ زَمَانَ الْفَتْحِ أَنْ يَأْتِيَ الْبَيْتَ، وَهُوَ بِالْبَطْحَاءِ، فَيَمْحُوَ كُلَّ صُورَةٍ فِيهِ، وَلَمْ يَدْخُلْهُ حَتَّى مُحِيَتْ كُلُّ صُورَةٍ فِيهِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے گھر میں تصویریں رکھنے سے منع فرمایا ہے اور فتح مکہ کے زمانے میں جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مقام بطحا میں تھے تو سیدنا عمر کو حکم دیا کہ خانہ کعبہ پہنچ کر اس میں موجود تمام تصویریں مٹا ڈالیں اور اس وقت تک آپ خانہ کعبہ میں داخل نہیں ہوئے جب تک اس میں موجود تمام تصویروں کو مٹا نہیں دیا گیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14614]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف من أجل ابن لهيعة
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف من أجل ابن لهيعة
حدیث نمبر: 14615 مسند احمد
حَسَنٌ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، أَبُو الزُّبَيْرِ ، جَابِرًا
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، قَالَ سَأَلْتُ جَابِرًا عَنِ الْمُهَلِّ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" مُهَلُّ أَهْلِ الْمَدِينَةِ مِنْ ذِي الْحُلَيْفَةِ، وَمُهَلُّ أَهْلِ الطَّرِيقِ الْأُخْرَى مِنَ الْجُحْفَةِ، وَمُهَلُّ أَهْلِ الْعِرَاقِ مِنْ ذَاتِ عِرْقٍ، وَمُهَلُّ أَهْلِ نَجْدٍ مِنْ قَرْنٍ، وَمُهَلُّ أَهْلِ الْيَمَنِ مِنْ يَلَمْلَمَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اہل مدینہ کی میقات ذوالحلیفہ ہے اور دوسرا راستہ حجفہ ہے جبکہ اہل عراق کی میقات ذات عرق ہے اہل نجد کی میقات قرن ہے اور اہل یمن کی میقات یلملم ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14615]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 1183، وهذا إسناد ضعيف من أجل ابن لهيعة
الحكم: حديث صحيح، م: 1183، وهذا إسناد ضعيف من أجل ابن لهيعة
حدیث نمبر: 14616 مسند احمد
حَسَنٌ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، أَبُو الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَرَّمَ مَا بَيْنَ حَرَّتَيْ الْمَدِينَةِ، لَا يُقْطَعُ مِنْهَا شَجَرَةٌ إِلَّا أَنْ يَعْلِفَ الرَّجُلُ بَعِيرَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مدینہ منورہ کے دونوں کونوں کا درمیانی حصہ حرم قرار دیا ہے جس کا کوئی درخت نہیں کاٹا جاسکتا الاّ یہ کہ کوئی شخص اپنے اونٹ کو چارہ کھلائے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14616]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف من أجل ابن لهيعة
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف من أجل ابن لهيعة
حدیث نمبر: 14617 مسند احمد
حَسَنٌ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، أَبُو الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كَبِّرُوا عَلَى مَوْتَاكُمْ بِاللَّيْلِ وَالنَّهَارِ أَرْبَعَ تَكْبِيرَاتٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اپنے مردوں پر " خواہ دن ہو یا رات " چارتکبیرات پڑھا کر و۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14617]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف ابن لهيعة، والتكبير على الميت أربع تكبيرات ثابت من فعله صلى الله عليه و آله وسلم من حديث جابر،انظر:14889
الحكم: إسناده ضعيف لضعف ابن لهيعة، والتكبير على الميت أربع تكبيرات ثابت من فعله صلى الله عليه وسلم من حديث جابر،انظر:14889
حدیث نمبر: 14618 مسند احمد
حَسَنُ بْنُ مُوسَى الْأَشْيَبُ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، أَبُو الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى الْأَشْيَبُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّهُ قَالَ: رَمَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْجَمْرَةَ عَلَى بَعِيرِهِ بِحَصَى الْخَذْفِ، وَهُوَ يَقُولُ:" لِتَأْخُذُوا مَنَاسِكَكُمْ، فَإِنِّي لَا أَدْرِي لَعَلِّي لَا أَحُجُّ بَعْدَ حَجَّتِي هَذِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم روانہ تو سکون کے ساتھ ہوئے لیکن وادی محسر میں اپنی سواری کی رفتار کو تیز کر دیا اور انہیں ٹھیکر ی جیسی کنکر یاں دکھا کر سکون وقار سے چلنے کا حکم دیا اور میری امت کو مناسک حج سیکھ لینے چاہئیں کیونکہ ہو سکتا ہے میں آئندہ سال ان سے نہ مل سکوں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14618]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 1297، وهذا إسناد ضعيف لسوء حفظ ابن لهيعة، وقد توبع
الحكم: حديث صحيح، م: 1297، وهذا إسناد ضعيف لسوء حفظ ابن لهيعة، وقد توبع
حدیث نمبر: 14619 مسند احمد
حَسَنٌ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، أَبُو الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنْ قَالَ: حِينَ يُنَادِي الْمُنَادِي اللَّهُمَّ رَبَّ هَذِهِ الدَّعْوَةِ التَّامَّةِ، وَالصَّلَاةِ الْقَائِمَةِ، صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ، وَارْضَ عَنْهُ رِضًا لَا سْخَطُ بَعْدَهُ، اسْتَجَابَ اللَّهُ لَهُ دَعْوَتَهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص مؤذن کے اذان دینے کے بعد یہ دعاء کر ے کہ اے اللہ اے اس کامل دعوت اور نافع نماز کے رب محمد پر درود نازل فرما ان سے اس طرح راضی ہو جا کہ اس کے بعد ناراضگی کا شائبہ بھی نہ رہے اللہ اس کی دعاء ضرور قبول کر ے گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14619]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف من أجل ابن لهيعة، وصح الدعاء بعد الأذان بغير هذا اللفظ، انظر: 14817
الحكم: إسناده ضعيف من أجل ابن لهيعة، وصح الدعاء بعد الأذان بغير هذا اللفظ، انظر: 14817
حدیث نمبر: 14620 مسند احمد
حَسَنٌ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، أَبُو الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّ رَاهِبًا أَهْدَى لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جُبَّةَ سُنْدُسٍ، فَلَبِسَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ أَتَى الْبَيْتَ، فَوَضَعَهَا، وَأَحَسَّ بِوَفْدٍ أَتَوْهُ، فَأَمَرَهُ عُمَرُ أَنْ يَلْبَسَ الْجُبَّةَ لِقُدُومِ الْوَفْدِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يَصْلُحُ لِبَاسُهَا لَنَا فِي الدُّنْيَا، وَيَصْلُحُ لَنَا فِي الْآخِرَةِ، وَلَكِنْ خُذْهَا يَا عُمَرُ"، فَقَالَ: تَكْرَهُهَا وَآخَذُهَا! فَقَالَ:" إِنِّي لَا آمُرُكَ أَنْ تَلْبَسَهَا، وَلَكِنْ أَرْسِلْ بِهَا إِلَى أَرْضِ فَارِسَ فَتُصِيبَ بِهَا مَالًا" فَأَرْسَلَ بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى النَّجَاشِيِّ، وَكَانَ قَدْ أَحْسَنَ إِلَى مَنْ فَرَّ إِلَيْهِ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک راہب نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں ایک ریشمی جبہ ہدیہ کے طور پر بھیجا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس وقت تو اسے پہن لیا لیکن گھر آ کر اتار دیا پھر کسی وفد کی آمد کا علم ہوا تو سیدنا عمر نے درخواست کی کہ وہ جبہ زیب تن فرما لیں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ دنیا میں ہمارے لئے ریشمی لباس مناسب نہیں ہے یہ آخرت میں ہمارے لئے مناسب ہو گا البتہ عمر تم اسے لے لو سیدنا عمر کہنے لگے کہ آپ تو اسے ناپسند کر یں اور میں اسے لے لوں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: میں تمہیں اسے پہننے کا حکم نہیں دے رہا بلکہ اس لئے دے رہاہوں کہ تم اسے سر زمین ایران کی طرف بھیج دو اور اس کے ذریعے مال حاصل کر لو پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے خود ہی وہ جبہ شاہ حبشہ نجاشی کو بھجوادیا جس نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے مہاجر صحابہ کو پناہ دے رکھی تھی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14620]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف من أجل ابن لهيعة، وقد صح بغير هذا اللفظ فى قصة الجبة التى أهداها النبى صلى الله عليه و آله وسلم لعمر، انظر: 15107
الحكم: إسناده ضعيف من أجل ابن لهيعة، وقد صح بغير هذا اللفظ فى قصة الجبة التى أهداها النبى صلى الله عليه وسلم لعمر، انظر: 15107
حدیث نمبر: 14621 مسند احمد
حَسَنٌ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، أَبُو الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَطْعِمُهُ، فَأَطْعَمَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسْقَ شَعِيرٍ، فَمَا زَالَ الرَّجُلُ يَأْكُلُ مِنْهُ هُوَ وَامْرَأَتُهُ وَوَصِيفٌ لَهُمْ حَتَّى كَالُوهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَوْ لَمْ تَكِيلُوهُ، لَأَكَلْتُمْ مِنْهُ، وَلَقَامَ لَكُمْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں غلہ طلب کرنے کے لئے حاضر ہوا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے ایک وسق عطا فرما دیا اس کے بعد وہ آدمی اس کی بیوی اور ان کا ایک بچہ اس میں سے مستقل کھاتے رہے حتی کہ ایک دن انہوں نے اسے ناپ لیا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ اگر تم اسے نہ ماپتے تو تم اس میں سے نکال نکال کر کھاتے رہتے اور یہ تمہارے ساتھ رہتا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14621]
حکم دارالسلام
إسناده حسن، قاله أحمد شاكر، م: 2281، وهذا إسناد ضعيف من أجل ابن لهيعة، وقد توبع
الحكم: إسناده حسن، قاله أحمد شاكر، م: 2281، وهذا إسناد ضعيف من أجل ابن لهيعة، وقد توبع
حدیث نمبر: 14622 مسند احمد
حَسَنٌ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، أَبُو الزُّبَيْرِ ، جَابِرًا
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، قَالَ سَأَلْتُ جَابِرًا أَبْصَرْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى رَاكِبًا؟ فَقَالَ: نَعَمْ، ثُمَّ أَتَاهُ رَجُلٌ قَدْ اشْتَرَى نَاقَةً لِيَدْعُوَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ عَلَيْهَا، فَكَلَّمَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَكَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى سَلَّمَ، ثُمَّ دَعَا لَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوزبیر کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا آپ نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو سوار ہو کر نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے انہوں نے جواب دیا ہاں اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس ایک آدمی آیا جس نے ایک اونٹنی خریدی تھی اور وہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اس سلسلے میں دعا کر وانا چاہتا تھا اس نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے بات کرنا چاہی لیکن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم خاموش رہے حتی کہ جب سلام پھیر دیا تو اس کے لئے دعا کر دی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14622]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف ابن لهيعة، وصلاته على الراحلة ثابت من حديث أبى الزبير عن جابر، وانظر: 14156
الحكم: إسناده ضعيف لضعف ابن لهيعة، وصلاته على الراحلة ثابت من حديث أبى الزبير عن جابر، وانظر: 14156
حدیث نمبر: 14623 مسند احمد
حَسَنٌ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، أَبُو الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ أَشَدَّ النَّاسِ تَخْفِيفًا فِي الصَّلَاةِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کہ سب سے ہلکی نماز نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ہو تی تھی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14623]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لسوء حفظ ابن لهيعة، وله شاهد من حديث أنس، سلف برقم: 11967، وهو حديث صحيح متفق عليه
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لسوء حفظ ابن لهيعة، وله شاهد من حديث أنس، سلف برقم: 11967، وهو حديث صحيح متفق عليه
حدیث نمبر: 14624 مسند احمد
حَسَنٌ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، أَبُو الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" مَنْ خَافَ مِنْكُمْ أَلَّا يَقُومَ بِاللَّيْلِ، فَلْيُوتِرْ ثُمَّ يَنَامُ، وَمَنْ طَمِعَ مِنْكُمْ بِقِيَامٍ، فَلْيُوتِرْ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ، فَإِنَّ قِرَاءَةَ آخِرِ اللَّيْلِ مَحْضُورَةٌ، وَذَلِكَ أَفْضَلُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم میں سے جس شخص کا غالب گمان یہ ہو کر وہ رات کے آخری حصے میں بیدار نہ ہو سکے گا تو اسے رات کے اول حصے میں ہی وتر پڑھ لینے چاہیں اور جسے آخر رات میں جاگنے کا غالب گمان ہو تو اسے آخر میں ہی وتر پڑھنے چاہیں کیونکہ رات کے آخری حصے میں نماز کے وقت فرشتے حاضر ہوتے ہیں اور یہ افضل طریقہ ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14624]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 755، وهذا إسناد ضعيف من أجل ابن لهيعة، وقد توبع
الحكم: حديث صحيح، م: 755، وهذا إسناد ضعيف من أجل ابن لهيعة، وقد توبع
حدیث نمبر: 14625 مسند احمد
حَسَنٌ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، أَبُو الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِذَا بَصَقَ أَحَدُكُمْ، فَلَا يَبْصُقْ عَنْ يَمِينِهِ، وَلَا بَيْنَ يَدَيْهِ، وَلْيَبْصُقْ عَنْ يَسَارِهِ، أَوْ تَحْتَ قَدَمِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم آ کر م نے ارشاد فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھ رہا ہو تو اپنے دائیں جانب نہ تھوکے بلکہ بائیں جانب یا پاؤں کے نیچے تھوکے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14625]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف من أجل ابن لهيعة، لكنه متابع، وأبو الزبير لم يصرح بسماعه من جابر، وانظر: 14470 و 15260
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف من أجل ابن لهيعة، لكنه متابع، وأبو الزبير لم يصرح بسماعه من جابر، وانظر: 14470 و 15260
حدیث نمبر: 14626 مسند احمد
حَسَنٌ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، أَبُو الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَكْثِرُوا مِنْ هَذِهِ النِّعَالِ، فَإِنَّهُ لَا يَزَالُ أَحَدُكُمْ رَاكِبًا إِذَا انْتَعَلَ"، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ: قَالَ أَبِي: وَفِي مَوْضِعٍ آخَرَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ فِي غَزْوَةٍ غَزَاهَا:" اسْتَكْثِرُوا مِنَ النِّعَالِ، فَإِنَّ الرَّجُلَ لَا يَزَالُ رَاكِبًا مَا انْتَعَلَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جوتی کثرت سے پہنا کر و کیونکہ جب تک آدمی جوتی پہنے رہتا ہے گویا سواری پر سوار رہتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14626]
حکم دارالسلام
إسناده حسن، قاله أحمد شاكر، م: 2096، وهذا إسناد ضعيف من أجل ابن لهيعة، وقد توبع
الحكم: إسناده حسن، قاله أحمد شاكر، م: 2096، وهذا إسناد ضعيف من أجل ابن لهيعة، وقد توبع
حدیث نمبر: 14627 مسند احمد
سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ ، مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ ، الْأَعْمَشِ ، أَبِي سُفْيَانَ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قَارِبُوا وَسَدِّدُوا، فَإِنَّهُ لَيْسَ أَحَدٌ مِنْكُمْ يُنَجِّيهِ عَمَلُهُ"، قَالُوا: وَلَا إِيَّاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: وَلَا إِيَّايَ، إِلَّا أَنْ يَتَغَمَّدَنِي اللَّهُ بِرَحْمَتِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: قریب قریب رہا کر و اور صحیح بات کیا کر و کیونکہ تم میں سے کوئی شخص ایسا نہیں ہے جسے اس کے اعمال بچاسکیں صحابہ نے پوچھا: یا رسول اللہ! آپ کو بھی نہیں فرمایا: مجھے بھی نہیں الاّ یہ کہ اللہ مجھے اپنی رحمت سے ڈھانپ لے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14627]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف من أجل ابن لهيعة
الحكم: إسناده ضعيف من أجل ابن لهيعة
حدیث نمبر: 14628 مسند احمد
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ الَّذِي يُقَالُ لَهُ: الْعَدَنِيُّ ، سُفْيَانُ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ الَّذِي يُقَالُ لَهُ: الْعَدَنِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا سَقَطَتْ لُقْمَةُ أَحَدِكُمْ، فَلْيُمِطْ مَا عَلَيْهَا مِنْ أَذًى، ثُمَّ لِيَأْكُلْهَا وَلَا يَدَعْهَا لِلشَّيْطَانِ، وَلَا يَمْسَحْ أَحَدُكُمْ يَدَهُ بِالْمِنْدِيلِ حَتَّى يَلْعَقَ أَصَابِعَهُ، أَوْ يُلْعِقَهَا، فَإِنَّهُ لَا يَدْرِي فِي أَيِّ طَعَامِهِ الْبَرَكَةُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب تم میں سے کسی کا لقمہ گر جائے تو اسے چاہیے کہ اس پر لگنے والی تکلیف دہ چیز کو ہٹا کر اسے کھالے اور اسے شیطان کے لئے نہ چھوڑے اور اپنا ہاتھ تو لیے سے نہ پونچھے اور انگلیاں چاٹ لے کیونکہ اسے معلوم نہیں ہے اس کے کھانے کے کس حصے میں برکت ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14628]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 2817، وهذا إسناد حسن
الحكم: حديث صحيح، م: 2817، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 14629 مسند احمد
عبدُ الله بْنُ الْوَلِيدِ ، سُفْيَانُ ، جَعْفَرٌ ، أَبِيهِ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عبدُ الله بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا ذَكَرَ السَّاعَةَ احْمَرَّتْ وَجْنَتَاهُ، وَاشْتَدَّ غَضَبُهُ، وَعَلَا صَوْتُهُ، كَأَنَّهُ مُنْذِرُ جَيْشٍ صُبِّحْتُمْ مُسِّيتُمْ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جوں جوں آپ قیامت کا تذکر ہ فرماتے جاتے آپ کی آواز بلند ہو تی جاتی چہرہ مبارک سرخ ہوتا جاتا اور جوش میں اضافہ ہوتا جاتا اور ایسا محسوس ہوتا کہ جیسے آپ کسی لشکر سے ڈرا رہے ہوں [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14629]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 2033، وهذا إسناد قوي
الحكم: حديث صحيح، م: 2033، وهذا إسناد قوي
حدیث نمبر: 14630 مسند احمد
(حديث موقوف) (حديث مرفوع) ، قَالَ: وَكَانَ يَقُول:" أَنَا أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ، وَمَنْ تَرَكَ مَالًا، فَلِأَهْلِهِ، وَمَنْ تَرَكَ دَيْنًا أَوْ ضَيَاعًا، فَإِلَيَّ وَعَلَيَّ، وَأَنَا أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
پھر فرمایا کہ میں مسلمانوں پر ان کی جان سے زیادہ حق رکھتا ہوں جو شخص مال دولت چھوڑ جائے وہ اس کے اہل خانہ کا ہے اور جو شخص قرض یا بچے چھوڑ جائے وہ میرے ذمے ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14630]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد قوي، م: 867، وانظر:14334
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد قوي، م: 867، وانظر:14334
حدیث نمبر: 14631 مسند احمد
يُونُسُ ، حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، مُجَالِدٌ ، عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، وَغَيْرُهُ، قَالاَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا مُجَالِدٌ ، عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَسْأَلُوا أَهْلَ الْكِتَابِ عَنْ شَيْءٍ فَإِنَّهُمْ لَنْ يَهْدُوكُمْ وَقَدْ ضَلُّوا، فَإِنَّكُمْ إِمَّا أَنْ تُصَدِّقُوا بِبَاطِلٍ، أَوْ تُكَذِّبُوا بِحَقٍّ، فَإِنَّهُ لَوْ كَانَ مُوسَى حَيًّا بَيْنَ أَظْهُرِكُمْ، مَا حَلَّ لَهُ إِلَّا أَنْ يَتَّبِعَنِي".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اہل کتاب سے کسی چیز کے متعلق مت پوچھا: کر و اس لئے کہ وہ تمہیں صحیح راستہ کبھی نہیں دکھائیں گے کیونکہ وہ تو خود گمراہ ہیں اب یا تو تم کسی غلط بات کی تصدیق کر بیٹھو گے یا کسی حق بات کی تکذیب کر جاؤ گے اور یوں بھی اگر تمہارے درمیان سیدنا موسیٰ بھی زندہ ہوتے تو میری اتباع کے علاوہ انہیں کوئی چارہ نہ ہوتا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14631]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف مجالد
الحكم: إسناده ضعيف لضعف مجالد