حَسَنٌ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، أَبُو الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّ رَاهِبًا أَهْدَى لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جُبَّةَ سُنْدُسٍ، فَلَبِسَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ أَتَى الْبَيْتَ، فَوَضَعَهَا، وَأَحَسَّ بِوَفْدٍ أَتَوْهُ، فَأَمَرَهُ عُمَرُ أَنْ يَلْبَسَ الْجُبَّةَ لِقُدُومِ الْوَفْدِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يَصْلُحُ لِبَاسُهَا لَنَا فِي الدُّنْيَا، وَيَصْلُحُ لَنَا فِي الْآخِرَةِ، وَلَكِنْ خُذْهَا يَا عُمَرُ"، فَقَالَ: تَكْرَهُهَا وَآخَذُهَا! فَقَالَ:" إِنِّي لَا آمُرُكَ أَنْ تَلْبَسَهَا، وَلَكِنْ أَرْسِلْ بِهَا إِلَى أَرْضِ فَارِسَ فَتُصِيبَ بِهَا مَالًا" فَأَرْسَلَ بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى النَّجَاشِيِّ، وَكَانَ قَدْ أَحْسَنَ إِلَى مَنْ فَرَّ إِلَيْهِ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک راہب نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں ایک ریشمی جبہ ہدیہ کے طور پر بھیجا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس وقت تو اسے پہن لیا لیکن گھر آ کر اتار دیا پھر کسی وفد کی آمد کا علم ہوا تو سیدنا عمر نے درخواست کی کہ وہ جبہ زیب تن فرما لیں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ دنیا میں ہمارے لئے ریشمی لباس مناسب نہیں ہے یہ آخرت میں ہمارے لئے مناسب ہو گا البتہ عمر تم اسے لے لو سیدنا عمر کہنے لگے کہ آپ تو اسے ناپسند کر یں اور میں اسے لے لوں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: میں تمہیں اسے پہننے کا حکم نہیں دے رہا بلکہ اس لئے دے رہاہوں کہ تم اسے سر زمین ایران کی طرف بھیج دو اور اس کے ذریعے مال حاصل کر لو پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے خود ہی وہ جبہ شاہ حبشہ نجاشی کو بھجوادیا جس نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے مہاجر صحابہ کو پناہ دے رکھی تھی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14620]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف من أجل ابن لهيعة، وقد صح بغير هذا اللفظ فى قصة الجبة التى أهداها النبى صلى الله عليه و آله وسلم لعمر، انظر: 15107
الحكم: إسناده ضعيف من أجل ابن لهيعة، وقد صح بغير هذا اللفظ فى قصة الجبة التى أهداها النبى صلى الله عليه وسلم لعمر، انظر: 15107