حَسَنٌ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، أَبُو الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَطْعِمُهُ، فَأَطْعَمَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسْقَ شَعِيرٍ، فَمَا زَالَ الرَّجُلُ يَأْكُلُ مِنْهُ هُوَ وَامْرَأَتُهُ وَوَصِيفٌ لَهُمْ حَتَّى كَالُوهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَوْ لَمْ تَكِيلُوهُ، لَأَكَلْتُمْ مِنْهُ، وَلَقَامَ لَكُمْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں غلہ طلب کرنے کے لئے حاضر ہوا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے ایک وسق عطا فرما دیا اس کے بعد وہ آدمی اس کی بیوی اور ان کا ایک بچہ اس میں سے مستقل کھاتے رہے حتی کہ ایک دن انہوں نے اسے ناپ لیا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ اگر تم اسے نہ ماپتے تو تم اس میں سے نکال نکال کر کھاتے رہتے اور یہ تمہارے ساتھ رہتا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14621]
حکم دارالسلام
إسناده حسن، قاله أحمد شاكر، م: 2281، وهذا إسناد ضعيف من أجل ابن لهيعة، وقد توبع
الحكم: إسناده حسن، قاله أحمد شاكر، م: 2281، وهذا إسناد ضعيف من أجل ابن لهيعة، وقد توبع