(حديث موقوف) (حديث مرفوع) ، قَالَ: وَكَانَ يَقُول:" أَنَا أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ، وَمَنْ تَرَكَ مَالًا، فَلِأَهْلِهِ، وَمَنْ تَرَكَ دَيْنًا أَوْ ضَيَاعًا، فَإِلَيَّ وَعَلَيَّ، وَأَنَا أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
پھر فرمایا کہ میں مسلمانوں پر ان کی جان سے زیادہ حق رکھتا ہوں جو شخص مال دولت چھوڑ جائے وہ اس کے اہل خانہ کا ہے اور جو شخص قرض یا بچے چھوڑ جائے وہ میرے ذمے ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14630]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد قوي، م: 867، وانظر:14334
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد قوي، م: 867، وانظر:14334