بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مُسْنَدُ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1188
صفحہ 18 از 60
حدیث نمبر: 14452 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَبُو الزُّبَيْرِ ، جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: وَأَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا تَمْشِ فِي نَعْلٍ وَاحِدَةٍ، وَلَا تَحْتَبِ فِي إِزَارٍ وَاحِدٍ، وَلَا تَأْكُلْ بِشِمَالِكَ، وَلَا تَشْتَمِلْ الصَّمَّاءَ، وَلَا تَضَعْ إِحْدَى رِجْلَيْكَ عَلَى الْأُخْرَى إِذَا اسْتَلْقَيْتَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی شخص صرف ایک جوتی پہن کر نہ چلے بائیں ہاتھ سے نہ کھائے ایک کپڑے میں اپناجسم نہ لپیٹے اور نہ ہی گوٹ مار کر بیٹھے اور جب چت لیٹے تو ایک ٹانگ کو دوسری پر نہ رکھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14452]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2099
الحكم: إسناده صحيح، م: 2099
حدیث نمبر: 14453 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ ، جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، أَخْبَرَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ:" قُرِّبَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خُبْزٌ وَلَحْمٌ، ثُمَّ دَعَا بِوَضُوءٍ، فَتَوَضَّأَ ثُمَّ صَلَّى الظُّهْرَ، ثُمَّ دَعَا بِفَضْلِ طَعَامِهِ، فَأَكَلَ ثُمَّ قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ، وَلَمْ يَتَوَضَّأْ، ثُمَّ دَخَلْتُ مَعَ عُمَرَ، فَوُضِعَتْ لَهُ هَاهُنَا جَفْنَةٌ، وَقَالَ ابْنُ بَكْرٍ: أَمَامَنَا جَفْنَةٌ فِيهَا خُبْزٌ وَلَحْمٌ، وَهَاهُنَا جَفْنَةٌ فِيهَا خُبْزٌ وَلَحْمٌ، فَأَكَلَ عُمَرُ، ثُمَّ قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ، وَلَمْ يَتَوَضَّأْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کی ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے روٹی اور گوشت پیش کیا گیا پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے وضو کا پانی منگوایا اور وضو کر کے نماز ظہر ادا کی، پھر باقی ماندہ کھانا منگوایا اور اسے تناول فرمایا: اور پھر وضو کئے بغیر نماز کے لئے کھڑے ہوئے اسی طرح ایک مرتبہ میں سیدنا عمررضی اللہ عنہ کے یہاں گیا تو ان کے دستر خوان پر ایک پیالہ رکھا ہوا تھا جس میں روٹی اور گوشت تھا اور ایک پیالہ وہاں رکھا گیا اس میں بھی روٹی اور گوشت تھا سیدنا عمررضی اللہ عنہ نے اسے تناول فرمایا: اور نیا وضو کئے بغیر ہی نماز کے لئے کھڑے ہو گئے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14453]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 14454 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ مِنْ تَمَامِ الصَّلَاةِ إِقَامَةَ الصَّفِّ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: صفوں کی درستگی اتمام نماز کا حصہ ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14454]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 14455 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، لَيْثٍ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ لَيْثٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: أُتِيَ بِأَبِي قُحَافَةَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْفَتْحِ، كَأَنَّ رَأْسَهُ ثَغَامَةٌ بَيْضَاءُ، فَقَالَ:" غَيِّرُوهُ وَجَنِّبُوهُ السَّوَادَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ فتح مکہ کے دن ابوقحافہ رضی اللہ عنہ کو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں لایا گیا، اس وقت ان کے سر کے بال ثغامہ بوٹی کی طرح سفید ہو چکے تھے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ ان کے بالوں کا رنگ بدل دو، البتہ کالے رنگ سے اجتناب کرنا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14455]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، م: 2102، وهذا إسناد ضعيف لضعف ليث، وأبو الزبير لم يصرح بسماعه من جابر
الحكم: صحيح لغيره، م: 2102، وهذا إسناد ضعيف لضعف ليث، وأبو الزبير لم يصرح بسماعه من جابر
حدیث نمبر: 14456 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، ابْنِ خُثَيْمٍ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ ابْنِ خُثَيْمٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: مَكَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ عَشْرَ سِنِينَ يَتْبَعُ النَّاسَ فِي مَنَازِلِهِمْ بعُكَاظٍ وَمَجَنَّةَ، وَفِي الْمَوَاسِمِ بِمِنًى، يَقُولُ:" مَنْ يُؤْوِينِي؟ مَنْ يَنْصُرُنِي؟ حَتَّى أُبَلِّغَ رِسَالَةَ رَبِّي، وَلَهُ الْجَنَّةُ" حَتَّى إِنَّ الرَّجُلَ لَيَخْرُجُ مِنَ الْيَمَنِ أَوْ مِنْ مُضَرَ كَذَا قَالَ: فَيَأْتِيهِ قَوْمُهُ، فَيَقُولُونَ: احْذَرْ غُلَامَ قُرَيْشٍ، لَا يَفْتِنُكَ، وَيَمْشِي بَيْنَ رِجَالِهِمْ، وَهُمْ يُشِيرُونَ إِلَيْهِ بِالْأَصَابِعِ، حَتَّى بَعَثَنَا اللَّهُ إِلَيْهِ مِنْ يَثْرِبَ، فَآوَيْنَاهُ وَصَدَّقْنَاهُ، فَيَخْرُجُ الرَّجُلُ مِنَّا، فَيُؤْمِنُ بِهِ، وَيُقْرِئُهُ الْقُرْآنَ، فَيَنْقَلِبُ إِلَى أَهْلِهِ، فَيُسْلِمُونَ بِإِسْلَامِهِ، حَتَّى لَمْ يَبْقَ دَارٌ مِنْ دُورِ الْأَنْصَارِ إِلَّا وَفِيهَا رَهْطٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ يُظْهِرُونَ الْإِسْلَامَ، ثُمَّ ائْتَمَرُوا جَمِيعًا، فَقُلْنَا: حَتَّى مَتَى نَتْرُكُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُطْرَدُ فِي جِبَالِ مَكَّةَ وَيَخَافُ؟ فَرَحَلَ إِلَيْهِ مِنَّا سَبْعُونَ رَجُلًا، حَتَّى قَدِمُوا عَلَيْهِ فِي الْمَوْسِمِ، فَوَاعَدْنَاهُ شِعْبَ الْعَقَبَةِ، فَاجْتَمَعْنَا عَلَيْهِ مِنْ رَجُلٍ وَرَجُلَيْنِ، حَتَّى تَوَافَيْنَا، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، نُبَايِعُكَ؟ قَالَ:" تُبَايِعُونِي عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ فِي النَّشَاطِ وَالْكَسَلِ، وَالنَّفَقَةِ فِي الْعُسْرِ وَالْيُسْرِ، وَعَلَى الْأَمْرِ بِالْمَعْرُوفِ، وَالنَّهْيِ عَنِ الْمُنْكَرِ، وَأَنْ تَقُولُوا فِي اللَّهِ، لَا تَخَافُونَ فِي اللَّهِ لَوْمَةَ لَائِمٍ، وَعَلَى أَنْ تَنْصُرُونِي، فَتَمْنَعُونِي إِذَا قَدِمْتُ عَلَيْكُمْ مِمَّا تَمْنَعُونَ مِنْهُ أَنْفُسَكُمْ وَأَزْوَاجَكُمْ وَأَبْنَاءَكُمْ، وَلَكُمْ الْجَنَّةُ"، قَالَ: فَقُمْنَا إِلَيْهِ فَبَايَعْنَاهُ، وَأَخَذَ بِيَدِهِ أَسْعَدُ بْنُ زُرَارَةَ، وَهُوَ مِنْ أَصْغَرِهِمْ، فَقَالَ: رُوَيْدًا يَا أَهْلَ يَثْرِبَ، فَإِنَّا لَمْ نَضْرِبْ أَكْبَادَ الْإِبِلِ إِلَّا وَنَحْنُ نَعْلَمُ، أَنَّهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَإِنَّ إِخْرَاجَهُ الْيَوْمَ مُفَارَقَةُ الْعَرَبِ كَافَّةً، وَقَتْلُ خِيَارِكُمْ، وَأَنَّ تَعَضَّكُمْ السُّيُوفُ، فَإِمَّا أَنْتُمْ قَوْمٌ تَصْبِرُونَ عَلَى ذَلِكَ، وَأَجْرُكُمْ عَلَى اللَّهِ، وَإِمَّا أَنْتُمْ قَوْمٌ تَخَافُونَ مِنْ أَنْفُسِكُمْ جَبِينَةً، فَبَيِّنُوا ذَلِكَ، فَهُوَ عُذْرٌ لَكُمْ عِنْدَ اللَّهِ، قَالُوا: أَمِطْ عَنَّا يَا أَسْعَدُ، فَوَاللَّهِ لَا نَدَعُ هَذِهِ الْبَيْعَةَ أَبَدًا، وَلَا نَسْلُبُهَا أَبَدًا، قَالَ: فَقُمْنَا إِلَيْهِ فَبَايَعْنَاهُ، فَأَخَذَ عَلَيْنَا وَشَرَطَ، وَيُعْطِينَا عَلَى ذَلِكَ الْجَنَّةَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم دس سال مکہ مکرمہ میں رہے اور عکاظ، مجنہ اور موسم حج میں میدان منیٰ میں لوگوں کے پاس ان کے ٹھکانوں پر جا جا کر ملتے تھے اور فرماتے تھے کہ مجھے اپنے یہاں کون ٹھکانہ دے گا؟ کون میری مدد کرے گا کہ میں اپنے رب کا پیغام پہنچا سکوں اور اسے جنت مل جائے؟ بعض اوقات ایک آدمی یمن سے آتا یا مصر سے تو ان کی قوم کے لوگ اس کے پاس آتے اور اس سے کہتے کہ قریش کے اس نوجوان سے بچ کر رہنا، کہیں یہ تمہیں گمراہ نہ کر دے۔ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب ان کے خیموں کے پاس سے گزرتے تو وہ انگلیوں سے ان کی طرف اشارہ کرتے، حتی کہ اللہ نے ہمیں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے لئے یثرب سے اٹھا دیا اور ہم نے انہیں ٹھکانہ فراہم کیا اور ان کی تصدیق کی، چنانچہ ہم میں سے ایک آدمی نکلتا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر ایمان لاتا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اسے قرآن پڑھاتے اور جب وہ واپس گھر پلٹ کر آتا تو اس کے اسلام کی برکت سے اس کے اہل خانہ بھی مسلمان ہو جاتے، حتی کہ انصار کا کوئی گھر ایسا باقی نہ بچا جس میں مسلمانوں کا ایک گروہ نہ ہو، یہ سب لوگ علانیہ اسلام کو ظاہر کرتے تھے۔ ایک دن سب لوگ مشورہ کے لئے اکٹھے ہوئے اور کہنے لگے کہ ہم کب تک نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اس حال میں چھوڑے رکھیں گے کہ آپ کو مکہ کے پہاڑوں میں دھکے دیئے جاتے رہیں اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم خوف کے عالم میں رہیں؟ چنانچہ ہم میں سے ستر آدمی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی طرف روانہ ہوئے اور ایام حج میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس پہنچ گئے، ہم نے آپس میں ایک گھاٹی ملاقات کے لئے طے کی اور ایک ایک دو دو کر کے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس جمع ہو گئے، یہاں تک کہ جب ہم پورے ہو گئے، تو ہم نے عرض کی، یا رسول اللہ! ہم کس شرط پر آپ کی بیعت کریں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تم مجھ سے چستی اور سستی ہر حال میں بات سننے اور ماننے، تنگی اور آسانی اور ہر حال میں خرچ کرنے، امر بالمعروف نہی عن المنکر اور حق بات کہنے میں کسی ملامت گر کی ملامت سے نہ ڈرنے اور میری مدد کرنے اور اسی طرح میری حفاظت کرنے کی شرط پر بیعت کرو جس طرح تم اپنی، اپنی بیویوں اور بچوں کی حفاظت کرتے ہو اور تمہیں اس کے بدلے میں جنت ملے گی چنانچہ ہم نے کھڑے ہو کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے بیعت کر لی۔ سیدنا اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ جو سب سے چھوٹے تھے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا دست مبارک پکڑ کر کہنے لگے: اے اہل یثرب! ٹھہرو، ہم لوگ اپنے اونٹوں کے جگر مارتے ہوئے یہاں اس لئے آئے ہیں کہ ہمیں اس بات کا یقین ہو جائے کہ یہ اللہ کے رسول ہیں (یہ سمجھ لو) کہ آج نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہاں سے نکال کر لے جانا پورے عرب کی جدائیگی اختیار کرنا ہے، اپنے بہترین افراد کو قتل کروانا اور تلواریں کاٹنا ہے، اگر تم اس پر صبر کر سکو تو تمہارا اجر و ثواب اللہ کے ذمے ہے۔ اور اگر تمہیں اپنے متعلق ذرا سی بھی بزدلی کا اندیشہ ہو تو اسے واضح کر دو تاکہ وہ عند اللہ تمہارے لئے عذر شمار ہو جائے، اس پر تمام انصار نے کہا: اسعد! پیچھے ہٹو، بخدا! ہم بیعت کو کبھی نہیں چھوڑیں گے اور کبھی ختم نہیں کریں گے، چنانچہ اسی طرح ہم نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے بیعت کی اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جنت عطا فرمائے جانے کے وعدے اور شرائط پر ہم سے بیعت لے لی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14456]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، وأبو الزبير قد صرح بالتحديث عند المصنف فى الحديث الآتي برقم: 14653، وانظر مابعده
الحكم: إسناده صحيح، وأبو الزبير قد صرح بالتحديث عند المصنف فى الحديث الآتي برقم: 14653، وانظر مابعده
حدیث نمبر: 14457 مسند احمد
دَاوُدُ بْنُ مِهْرَانَ ، دَاوُد يَعْنِي الْعَطَّارَ ، ابْنِ خُثَيْمٍ ، أَبِي الزُّبَيْرِ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمٍ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ مِهْرَانَ ، حَدَّثَنَا دَاوُد يَعْنِي الْعَطَّارَ ، عَنِ ابْنِ خُثَيْمٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمٍ أَنَّهُ حَدَّثَهُ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَبِثَ عَشْرَ سِنِينَ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، وَقَالَ:" حَتَّى إِنَّ الرَّجُلَ لَيَرْحَلُ ضَاحِيَةً مِنْ مِصْرَ وَمِنْ الْيَمَنِ"، وَقَالَ:" مُفَارَقَةُ الْعَرَبِ"، وَقَالَ" تَخَافُونَ مِنْ أَنْفُسِكُمْ خِيفَةً"، وَقَالَ فِي الْبَيْعَةِ:" لَا نَسْتَقِيلُهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14457]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، وانظر ما قبله
الحكم: إسناده صحيح، وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 14458 مسند احمد
إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ ، ابْنِ خُثَيْمٍ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ ، عَنِ ابْنِ خُثَيْمٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنِ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَبِثَ عَشْرَ سِنِينَ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ:" حَتَّى إِنَّ الرَّجُلَ يَرْحَلُ مِنْ مِصْرَ مِنَ الْيَمَنِ"، وَقَالَ:" مُفَارَقَةُ الْعَرَبِ"، وَقَالَ فِي كَلَامِ أَسْعَدَ:" تَخَافُونَ مِنْ أَنْفُسِكُمْ خِيفَةً"، وَقَالَ فِي الْبَيْعَةِ:" لَا نَسْتَقِيلُهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14458]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، وانظر ما قبله
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 14459 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، الثَّوْرِيُّ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا الثَّوْرِيُّ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحِمَارٍ قَدْ وُسِمَ فِي وَجْهِهِ يُدَخِّنُ مَنْخِرَاهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ فَعَلَ هَذَا؟ لَا يَسِمَنَّ أَحَدٌ الْوَجْهَ، لَا يَضْرِبَنَّ أَحَدٌ الْوَجْهَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایک مرتبہ ایک گدھے پر نظر پڑی جس کے چہرے پر داغا گیا تھا اور اس کے نتھنوں میں دھواں بھرا گیا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ کس نے کیا ہے؟ چہرے پر کوئی نہ داغے اور چہرے پر کوئی نہ مارے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14459]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2117
الحكم: إسناده صحيح، م: 2117
حدیث نمبر: 14460 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، أبَو الزُّبَيْرِ ، جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أبَو الزُّبَيْرِ ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ: أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِضَبٍّ، فَأَبَى أَنْ يَأْكُلَهُ، وَقَالَ:" إِنِّي لَا أَدْرِي لَعَلَّهُ مِنَ الْقُرُونِ الَّتِي مُسِخَتْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گوہ لائی گئی نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے کھانے سے انکار کر دیا اور فرمایا: مجھے معلوم نہیں، ہو سکتا ہے کہ یہ ان بستیوں اور زمانوں میں سے ہو جو مسخ کر دی گئی تھیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14460]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، قوله: « لعله من القرون الأولى » قال السندي: « يدل على أنه قاله اجتهادا وظنا، وقد جاء ما يدل على عدم بقاء الممسوخ »
الحكم: إسناده صحيح، قوله: « لعله من القرون الأولى » قال السندي: « يدل على أنه قاله اجتهادا وظنا، وقد جاء ما يدل على عدم بقاء الممسوخ »
حدیث نمبر: 14461 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مِقْسَمٍ ، جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مِقْسَمٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِيَّاكُمْ وَالظُّلْمَ، فَإِنَّ الظُّلْمَ ظُلُمَاتٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَاتَّقُوا الشُّحَّ، فَإِنَّ الشُّحَّ أَهْلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ، حَمَلَهُمْ عَلَى أَنْ سَفَكُوا دِمَاءَهُمْ، وَاسْتَحَلُّوا مَحَارِمَهُمْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ظلم کرنے سے اپنے آپ کو بچاؤ، کیونکہ ظلم قیامت کے دن اندھیروں کی صورت میں ہو گا، اور بخل سے بچو کیونکہ بخل نے تم سے پہلی قوموں کو ہلاک کر دیا تھا اور اسی بخل نے انہیں آپس میں خون ریزی اور محرمات کو حلال سمجھنے پر برانگیختہ کیا تھا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14461]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2578
الحكم: إسناده صحيح، م: 2578
حدیث نمبر: 14462 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ ، أَبِي سَلَمَةَ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَسْلَمَ جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَاعْتَرَفَ بِالزِّنَا، فَأَعْرَضَ عَنْهُ، ثُمَّ اعْتَرَفَ فَأَعْرَضَ عَنْهُ، حَتَّى شَهِدَ عَلَى نَفْسِهِ أَرْبَعَ مَرَّاتٍ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَبِكَ جُنُونٌ؟" قَالَ: لَا، قَالَ:" أَحْصَنْتَ؟"، قَالَ: نَعَمْ فَأَمَرَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرُجِمَ بِالْمُصَلَّى، فَلَمَّا أَذْلَقَتْهُ الْحِجَارَةُ، فَرَّ فَأُدْرِكَ فَرُجِمَ حَتَّى مَاتَ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" خَيْرًا، وَلَمْ يُصَلِّ عَلَيْهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ قبیلہ اسلم کا ایک آدمی آیا اور اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے اپنے متعلق بدکاری کا اعتراف کیا نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی طرف سے منہ پھیرلیا، جب اس طرح چار مرتبہ وہ اپنے متعلق گواہی دے چکا تو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم مجنوں تو نہیں ہو؟ اس نے کہا نہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا:شادی شدہ ہو؟ اس نے کہا جی ہاں! نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکم دیا اور اسے عید گاہ میں سنگسار کر دیا گیا، جب اسے پتھر لگے تو وہ بھاگ کھڑا ہوا لوگوں نے اسے پکڑ کر اتنے پتھر مارے کہ وہ مر گیا، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے متعلق اچھے جملے کہے اور اس کی نماز جنازہ نہ پڑھائی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14462]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6820، م: 1691، ووقع فى رواية البخاري: « وصلي عليه » قال البيهقي: 8/ 218، وهو خطأ، وانظر ما قاله الحافظ على هذه الرواية في الفتح: 130/12
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6820، م: 1691، ووقع فى رواية البخاري: « وصلي عليه » قال البيهقي: 8/ 218، وهو خطأ، وانظر ما قاله الحافظ على هذه الرواية في الفتح: 130/12
حدیث نمبر: 14463 مسند احمد
هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، عِكْرِمَةُ يَعْنِي ابْنَ عَمَّارٍ ، يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ يَعْنِي ابْنَ عَمَّارٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: لَمَّا كَانَ يَوْمُ خَيْبَرَ، أَصَابَ النَّاسَ مَجَاعَةٌ، فَأَخَذُوا الْحُمُرَ الْإِنْسِيَّةَ، فَذَبَحُوهَا وَمَلَئُوا مِنْهَا الْقُدُورَ، فَبَلَغَ ذَلِكَ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ جَابِرٌ فَأَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَفَأْنَا الْقُدُورَ، فَقَالَ:" إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ سَيَأْتِيكُمْ بِرِزْقٍ هُوَ أَحَلُّ لَكُمْ مِنْ ذَا، وَأَطْيَبُ مِنْ ذَا"، قَالَ: فَكَفَأْنَا يَوْمَئِذٍ الْقُدُورَ وَهِيَ تَغْلِي، فَحَرَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ الْحُمُرَ الْإِنْسِيَّةَ وَلُحُومَ الْبِغَالِ، وَكُلَّ ذِي نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ، وَكُلَّ ذِي مِخْلَبٍ مِنَ الطُّيُورِ، وَحَرَّمَ الْمُجَثَّمَةَ، وَالْخِلْسَةَ، وَالنُّهْبَةَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ خیبر کے موقع پر لوگ بھوک کا شکار ہو گئے، انہوں نے پالتوں گدھوں کو پکڑ کر ذبح کیا اور ہانڈیاں بھر کر چڑھا دیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو پتہ چلا تو انہوں نے ہمیں حکم دیا اور ہم نے اپنی ہانڈیاں الٹا دیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: عنقریب اللہ تمہیں ایسا رزق عطاء فرمائے گا جو اس حلال اور زیادہ پاکیزہ ہو گا، چنانچہ اس دن ہم نے ابلتی ہوئی ہانڈیاں اٹھا دی تھیں، اور اسی موقع پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پالتوں گدھوں اور خچروں کا گوشت، کچلی والے ہر درندے اور پنجے والے ہر پرندے، باندھ کر نشانہ بنائے جانے والے جانور اور جانور کے منہ سے چھڑائے ہوئے مرنے والے جانور اور جانور سے چھین کر مر جانے والے جانور کو حرام قرار دے دیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14463]
حکم دارالسلام
إسناده حسن من أجل عكرمة بن عمار
الحكم: إسناده حسن من أجل عكرمة بن عمار
حدیث نمبر: 14464 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، وَأَبُو النَّضْرِ ، زُهَيْرٌ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، وَأَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ انْتَهَبَ نُهْبَةً، فَلَيْسَ مِنَّا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص لوٹ مار کرتا ہے اس کا ہم سے کوئی تعلق نہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14464]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، أبو الزبير لم يصرح بسماع من جابر
الحكم: صحيح لغيره، أبو الزبير لم يصرح بسماع من جابر
حدیث نمبر: 14465 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، زُهَيْرٌ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ،، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ لَمْ يَجِدْ نَعْلَيْنِ، فَلْيَلْبَسْ خُفَّيْنِ، وَمَنْ لَمْ يَجِدْ إِزَارًا، فَلْيَلْبَسْ سَرَاوِيلَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جسے جوتیاں نہ ملیں وہ موزے پہن لے اور جسے تہبند نہ ملے وہ شلوار پہن لے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14465]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 1179، وهذا إسناد رجاله ثقات إلا أن الزبير لم يصرح بسماعه من جابر، لكنه قد توبع
الحكم: حديث صحيح، م: 1179، وهذا إسناد رجاله ثقات إلا أن الزبير لم يصرح بسماعه من جابر، لكنه قد توبع
حدیث نمبر: 14466 مسند احمد
أَبُو النَّضْرِ ، زُهَيْرٌ ، أَبُو الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ:" نَهَى أَوْ نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الثَّمَرَةِ حَتَّى تَطِيبَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پھل کے خوب پک کر عمدہ ہو جانے سے قبل اس کی بیع سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14466]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 1536، أبو الزبير لم يصرح بالتحديث، لكنه توبع
الحكم: حديث صحيح، م: 1536، أبو الزبير لم يصرح بالتحديث، لكنه توبع
حدیث نمبر: 14467 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، وَأَبُو النَّضْرِ ، زُهَيْرٌ ، أَبُو الزُّبَيْرِ ، جَابِرٌ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، وَأَبُو النَّضْرِ ، قَالَا: حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، أَخْبَرَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، حَدَّثَنَا جَابِرٌ ، قَالَ: اقْتَتَلَ غُلَامَانِ غُلَامٌ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ، وَغُلَامٌ مِنَ الْأَنْصَارِ، فَقَالَ الْمُهَاجِرِيُّ: يَا لَلْمُهَاجِرِينَ! وَقَالَ الْأَنْصَارِيُّ: يَا لَلْأَنْصَارِ! فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" أَدَعْوَى الْجَاهِلِيَّةِ؟!"، فَقَالُوا: لَا وَاللَّهِ، إِلَّا أَنَّ غُلَامَيْنِ كَسَعَ أَحَدُهُمَا الْآخَرَ، فَقَالَ:" لَا بَأْسَ، لِيَنْصُرْ الرَّجُلُ أَخَاهُ ظَالِمًا أَوْ مَظْلُومًا، فَإِنْ كَانَ ظَالِمًا فَلْيَنْهَهُ، فَإِنَّهُ لَهُ نُصْرَةٌ، وَإِنْ كَانَ مَظْلُومًا فَلْيَنْصُرْهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ دو غلام آپس میں لڑ پڑے جن میں سے ایک کسی مہاجر کا اور دوسرا کسی انصاری کا تھا، مہاجر نے مہاجرین کو اور انصاری نے انصار کو آوازیں دے کر بلانا شروع کر دیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم یہ آواز سن کر باہر تشریف لائے اور فرمایا: یہ جاہلیت کی کیسی آوازیں ہیں؟ لوگوں نے بتایا: بخدا! ایسی کوئی بات نہیں ہے، البتہ دونوں غلاموں نے ایک دوسرے کو دھتکار دیا تھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اس میں کوئی حرج نہیں ہے، انسان کو چاہئیے کہ اپنے بھائی کی مدد کرے خواہ وہ ظالم ہو یا مظلوم، اگر ظالم ہو تو اسے ظلم سے روکے یہی اس کی مدد ہے اگر مظلوم ہو تو اس کی مدد کر ے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14467]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3518، م: 2584
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3518، م: 2584
حدیث نمبر: 14468 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَبُو الزُّبَيْرِ ، جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ:" كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا خَطَبَ يَسْتَنِدُ إِلَى جِذْعِ نَخْلَةٍ مِنْ سَوَارِي الْمَسْجِدِ، فَلَمَّا صُنِعَ لَهُ الْمِنْبَرُ، فَاسْتَوَى عَلَيْهِ، اضْطَرَبَتْ السَّارِيَةُ كَحَنِينِ النَّاقَةِ، حَتَّى سَمِعَهَا أَهْلُ الْمَسْجِدِ، فَنَزَلَ إِلَيْهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَالْتَزَمَهَا، فَسَكَنَتْ، وَقَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ، وَرَوْحٌ اضْطَرَبَتْ تِلْكَ السَّارِيَةُ، وَقَالَ رَوْحٌ فَاعْتَنَقَهَا، فَسَكَنَتْ، وَقَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ فَسَكَتَتْ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک درخت کے تنے پر سہارا لگا کر خطبہ ارشاد فرمایا کرتے تھے، جب منبر بن گیا اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس پر بیٹھے تو لکڑی کا وہ تنا اس طرح رونے لگا جیسے اونٹنی اپنے بچے کے لئے روتی ہے اور مسجد میں موجود تمام لوگوں نے اس کی آواز سنی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس کے پاس چل کر آئے اور اسے گلے لگایا تو وہ خاموش ہو گیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14468]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 918
الحكم: إسناده صحيح، خ: 918
حدیث نمبر: 14469 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَبُو الزُّبَيْرِ ، جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: قَالَ أَبُو الزُّبَيْرِ ، قَالَ جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ صَلَّى فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ، فَلْيَتَعَطَّفْ بِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص ایک کپڑے میں نماز پڑھے، اسے وہ اپنے اوپر اچھی طرح لپیٹ لینا چاہیے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14469]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، وانظر: 14120
الحكم: إسناده صحيح، وانظر: 14120
حدیث نمبر: 14470 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ، فَلَا يَبْصُقْ بَيْنَ يَدَيْهِ، وَلَا عَنْ يَمِينِهِ، وَلْيَبْصُقْ عَنْ يَسَارِهِِ، أَوْ تَحْتَ قَدَمِهِ الْيُسْرَى".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھ رہا ہو تو اپنےسامنے یا دائیں جانب نہ تھوکے بلکہ بائیں جانب یا پاؤں کے نیچے تھوکے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14470]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وأبو الزبير ثم يصرح بسماعه من جابر، أما ابن جريج فصرح بسماعه من أبى الزبير عند ابن حبان
الحكم: صحيح لغيره، وأبو الزبير ثم يصرح بسماعه من جابر، أما ابن جريج فصرح بسماعه من أبى الزبير عند ابن حبان
حدیث نمبر: 14471 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَبُو الزُّبَيْرِ ، جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ النَّحْرِ بِالْمَدِينَةِ، فَتَقَدَّمَ رَجُلَانِ، فَنَحَرُوا، وَظَنُّوا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ نَحَرَ،" فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ كَانَ نَحَرَ قَبْلَهُ أَنْ يُعِيدَ بِنَحْرٍ آخَرَ، وَلَا يَنْحَرُوا حَتَّى يَنْحَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مدینہ منورہ میں ہمیں دس ذی الحجہ کو نماز پڑھائی، کچھ لوگوں نے پہلے ہی قربانی کر لی، اور وہ یہ سمجھے کہ شاید نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم قربانی کر چکے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو معلوم ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حکم دیا کہ جس نے پہلے قربانی کر لی ہے، وہ دوبارہ قربانی کر ے اور یہ کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے قربانی کرنے سے پہلے قربانی نہ کیا کر یں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14471]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1964، م: 14130
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1964، م: 14130