هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، عِكْرِمَةُ يَعْنِي ابْنَ عَمَّارٍ ، يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ يَعْنِي ابْنَ عَمَّارٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: لَمَّا كَانَ يَوْمُ خَيْبَرَ، أَصَابَ النَّاسَ مَجَاعَةٌ، فَأَخَذُوا الْحُمُرَ الْإِنْسِيَّةَ، فَذَبَحُوهَا وَمَلَئُوا مِنْهَا الْقُدُورَ، فَبَلَغَ ذَلِكَ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ جَابِرٌ فَأَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَفَأْنَا الْقُدُورَ، فَقَالَ:" إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ سَيَأْتِيكُمْ بِرِزْقٍ هُوَ أَحَلُّ لَكُمْ مِنْ ذَا، وَأَطْيَبُ مِنْ ذَا"، قَالَ: فَكَفَأْنَا يَوْمَئِذٍ الْقُدُورَ وَهِيَ تَغْلِي، فَحَرَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ الْحُمُرَ الْإِنْسِيَّةَ وَلُحُومَ الْبِغَالِ، وَكُلَّ ذِي نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ، وَكُلَّ ذِي مِخْلَبٍ مِنَ الطُّيُورِ، وَحَرَّمَ الْمُجَثَّمَةَ، وَالْخِلْسَةَ، وَالنُّهْبَةَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ خیبر کے موقع پر لوگ بھوک کا شکار ہو گئے، انہوں نے پالتوں گدھوں کو پکڑ کر ذبح کیا اور ہانڈیاں بھر کر چڑھا دیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو پتہ چلا تو انہوں نے ہمیں حکم دیا اور ہم نے اپنی ہانڈیاں الٹا دیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: عنقریب اللہ تمہیں ایسا رزق عطاء فرمائے گا جو اس حلال اور زیادہ پاکیزہ ہو گا، چنانچہ اس دن ہم نے ابلتی ہوئی ہانڈیاں اٹھا دی تھیں، اور اسی موقع پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پالتوں گدھوں اور خچروں کا گوشت، کچلی والے ہر درندے اور پنجے والے ہر پرندے، باندھ کر نشانہ بنائے جانے والے جانور اور جانور کے منہ سے چھڑائے ہوئے مرنے والے جانور اور جانور سے چھین کر مر جانے والے جانور کو حرام قرار دے دیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14463]
حکم دارالسلام
إسناده حسن من أجل عكرمة بن عمار
الحكم: إسناده حسن من أجل عكرمة بن عمار