بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مُسْنَدُ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1188
صفحہ 2 از 60
حدیث نمبر: 14132 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، سُفْيَانُ ، مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّه
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّه ، قَالَ: قَالَ لي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَتَزَوَّجْتَ؟"، فَقُلْتُ: نَعَمْ، فَقَالَ:" أَبِكْرًا أَمْ ثَيِّبًا"، فَقُلْتُ: لَا بَلْ ثَيِّبًا، لِي أَخَوَاتٌ وَعَمَّاتٌ، فَكَرِهْتُ أَنْ أَضُمَّ إِلَيْهِنَّ خَرْقَاءَ مِثْلَهُنَّ، قَالَ:" أَفَلَا بِكْرًا تُلَاعِبُهَا؟" قَالَ:" لَكُمْ أَنْمَاطٌ؟"، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَأَنَّى؟ فَقَالَ:" أَمَا إِنَّهَا سَتَكُونُ لَكُمْ أَنْمَاطٌ"، قال: فَأَنَا الْيَوْمَ أَقُولُ لِامْرَأَتِي نَحِّي عَنِّي أَنْمَاطَكِ، فَتَقُولُ: نَعَمْ! أَلَمْ يَقُلْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّهَا سَتَكُونُ لَكُمْ أَنْمَاطٌ؟! فَأَتْرُكُهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے پوچھا کہ کیا تم نے شادی کر لی؟ میں نے عرض کیا، جی ہاں، پوچھا کہ کنواری سے یا شوہر دیدہ سے؟ میں نے عرض کیا: شوہر دیدہ سے۔ کیونکہ میری چھوٹی بہنیں اور پھوپھیاں ہیں، میں نے ان میں ان ہی جیسی بیوقوف کو لانا مناسب نہ سمجھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ کنواری سے کیوں نہ نکاح کیا، تم اس سے کھیلتے؟ پھر فرمایا کہ عنقریب تمہیں اونی کپڑے ملیں گے، میں نے پوچھا کہ یا رسول اللہ! کہاں سے؟ فرمایا: عنقریب تمہیں اونی کپڑے ضرور ملیں گے، اب آج وہ مجھے مل گئے ہیں تو میں نے اپنی بیوی سے کہا کہ یہ اونی کپڑے اپنے پاس ہی رکھو، تو وہ کہتی ہے کہ کیا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے نہیں فرمایا تھا کہ تمہیں اونی کپڑے ملیں گے، یہ سن کر میں اسے اس کے حال پر چھوڑ دیتا ہوں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14132]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2406 و 3631، م: 715 و 2083
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2406 و 3631، م: 715 و 2083
حدیث نمبر: 14133 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ: أَعْتَقَ رَجُلٌ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غُلَامًا لَهُ لَيْسَ لَهُ مَالٌ غَيْرُهُ، عَلَى دُبُرٍ مِنْهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ يَبْتَاعُهُ مِنِّي؟"، فَقَالَ نُعَيْمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ: أَنَا أَبْتَاعُهُ، فَابْتَاعَه، فَقَالَ عَمْرٌو، قَالَ جَابِرٌ: غُلَامٌ قِبْطِيٌّ، وَمَاتَ عَامَ الْأَوَّلِ، زَادَ فِيهَا أَبُو الزُّبَيْرِ، يُقَالُ لَهُ: يَعْقُوبُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دور باسعادت میں ایک آدمی نے اپنا غلام یہ کہہ کر آزاد کر دیا (جس کے علاوہ اس کے پاس کسی قسم کا کوئی مال نہ تھا) کہ میرے مرنے کے بعد تم آزاد ہو، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اس کی اس حالت کا پتہ چلا تو فرمایا کہ یہ غلام مجھ سے کون خریدے گا؟ نعیم بن عبداللہ کہنے لگے کہ میں اسے خریدتا ہوں چنانچہ انہوں نے اسے خرید لیا، وہ غلام قبطی تھا اور پہلے ہی سال مر گیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14133]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6716، م: 997
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6716، م: 997
حدیث نمبر: 14134 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، وَرَوْحٌ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَطَاءٌ ، جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ . ح وَرَوْحٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: قَالَ عَطَاءٌ ، وَقَالَ رَوْحٌ فِي حَدِيثِه: وَقَالَ لِي عَطَاءٌ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَجْمَعُوا بَيْنَ الرُّطَبِ وَالْبُسْرِ، وَالزَّبِيبِ، وَالتَّمْرِ نَبِيذًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کچی اور پکی کھجوروں کو ملا کر نبیذ نہ بنایا کرو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14134]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5601، م: 1986
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5601، م: 1986
حدیث نمبر: 14135 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَقِيلُ بْنُ مَعْقِلٍ ، وَهْبَ بْنَ مُنَبِّهٍ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا عَقِيلُ بْنُ مَعْقِلٍ ، سَمِعْتُ وَهْبَ بْنَ مُنَبِّهٍ يُحَدِّثُ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ النَّشْرَةِ، فَقَالَ:" مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے منتر کے بارے میں پوچھا گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ وہ شیطانی عمل ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14135]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 14136 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، سُفْيَانُ ، وَأَبُو نُعَيْمٍ ، سُفْيَانُ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ . ح وَأَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ:" رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ مُتَوَشِّحًا بِهِ"، قَالَ أَبُو الزُّبَيْرِ: وَرَأَيْتُ أَنَا جَابِرًا يُصَلِّي فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ مُتَوَشِّحًا بِهِ، قَالَ أَبُو نُعَيْمٍ فِي حَدِيثِهِ: وَرَأَيْتُ جَابِرًا يُصَلِّي، وَلَمْ يُسَمِّ أَبَا الزُّبَيْرِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو ایک کپڑے میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14136]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 518
الحكم: إسناده صحيح، م: 518
حدیث نمبر: 14137 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، سُفْيَانُ ، وَأَبُو نُعَيْمٍ ، سُفْيَانُ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ . ح وَأَبُو نُعَيْمٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: جَاءَ أَبُو حُمَيْدٍ الْأَنْصَارِيُّ بِإِنَاءٍ مِنْ لَبَنٍ نَهَارًا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ بِالْبَقِيعِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَلَا خَمَّرْتَهُ! وَلَوْ أَنْ تَعْرُضَ عَلَيْهِ عُودًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ابوحمید انصاری رضی اللہ عنہ صبح سویرے ایک برتن میں دودھ لے کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس وقت جنت البقیع میں تھے، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تم اسے ڈھک کر کیوں نہ لائے؟ اگرچہ لکڑی ہی سے ڈھک لیتے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14137]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5606، م: 2011
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5606، م: 2011
حدیث نمبر: 14138 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، مَنْصُورٍ ، سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَجَدَ، جَافَى حَتَّى يُرَى بَيَاضُ إِبْطَيْهِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب سجدہ میں جاتے تو اپنے پہلوؤں کو اپنے پیٹ سے اتنا جدا رکھتے کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مبارک بغلوں کی سفیدی نظر آنے لگتی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14138]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 14139 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ:" أَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِتَبُوكَ عِشْرِينَ يَوْمًا يَقْصُرُ الصَّلَاةَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تبوک میں بیس دن قیام فرمایا اور اس دوران نمازیں قصر کر کے پڑھتے رہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14139]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 14140 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ: لَمَّا بُنِيَتْ الْكَعْبَةُ، ذَهَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَبَّاسٌ يَنْقُلَانِ حِجَارَةً، فَقَالَ عَبَّاسٌ: اجْعَلْ إِزَارَكَ عَلَى رَقَبَتِكَ مِنَ الْحِجَارَةِ، فَفَعَلَ، فَخَرَّ إِلَى الْأَرْضِ وَطَمَحَتْ عَيْنَاهُ إِلَى السَّمَاءِ، ثُمَّ قَامَ، فَقَالَ:" إِزَارِي إِزَارِي" فَشُدَّ عَلَيْهِ إِزَارُهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب خانہ کعبہ کی تعمیر شروع ہوئی تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور سیدنا عباس رضی اللہ عنہ بھی پتھر اٹھا کر لانے لگے، سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ کہ اپنا تہبند اتار کر کندھے پر رکھ لیں تاکہ پتھر سے کندھے زخمی نہ ہو جائیں، تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایسا کرنا چاہا تو بےہو ش کر گر پڑے اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نظریں آسمان کی طرف اٹھی کی اٹھی رہ گئیں، پھر جب ہوش میں آئے تو فرمایا کہ میرا تہبند، میرا تہبند اور اسے اچھی طرح مضبوطی سے باندھ لیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14140]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3829، م: 340
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3829، م: 340
حدیث نمبر: 14141 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَبُو الزُّبَيْرِ ، جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُول: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" أُقَاتِلُ النَّاسَ حَتَّى، يَقُولُوا: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، فَإِذَا فَعَلُوا ذَلِكَ، عَصَمُوا دِمَاءَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ إِلَّا بِحَقِّهَا، وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللَّهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میں لوگوں سے اس وقت تک قتال کرتا رہوں گا جب تک وہ «لا اله الا الله» نہ پڑھ لیں جب وہ یہ کام کر لیں گے تو انہوں نے اپنی جان و مال کو مجھ سے محفوظ کر لیا، سوائے اس کلمہ حق کے اور ان کا حساب کتاب اللہ کے ذمہ ہو گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14141]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 21
الحكم: إسناده صحيح، م: 21
حدیث نمبر: 14142 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، وَرَوْحٌ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَبُو الزُّبَيْرِ ، جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، وَرَوْحٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِا أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ:" كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا خَطَبَ، يَسْتَنِدُ إِلَى جِذْعِ نَخْلَةٍ مِنْ سَوَارِي الْمَسْجِدِ، فَلَمَّا صُنِعَ لَهُ مِنْبَرُهُ اسْتَوَى عَلَيْهِ، اضْطَرَبَتْ تِلْكَ السَّارِيَةُ كَحَنِينِ النَّاقَةِ، حَتَّى سَمِعَهَا أَهْلُ الْمَسْجِدِ، حَتَّى نَزَلَ إِلَيْهَا، فَاعْتَنَقَهَا، فَسَكَتَتْ"، وَقَالَ رَوْحٌ: فَسَكَنَتْ، وَقَالَ ابْنُ بَكْرٍ: فَاضْطَرَبَتْ تِلْكَ السَّارِيَةُ، وَقَالَ رَوْحٌ: اضْطَرَبَتْ كَحَنِينِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک درخت کے تنے کے سہارے خطبہ ارشاد فرمایا کرتے تھے، جب منبر بن گیا اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس پر بیٹھے، تو لکڑی کا وہ تنا رونے لگا جیسے اونٹنی اپنے بچے کے لئے روتی ہے اور مسجد میں موجود تمام لوگوں نے اس کی آواز سنی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس کے پاس چل کر آئے اور اسے گلے لگایا تو وہ خاموش ہو گیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14142]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 918
الحكم: إسناده صحيح، خ: 918
حدیث نمبر: 14143 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، سُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى ، جَابِرٌ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ سُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى ، أَخْبَرَنَا جَابِرٌ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا يُقِيمُ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، ثُمَّ يُخَالِفُهُ إِلَى مَقْعَدِهِ، وَلَكِنْ لِيَقُلْ افْسَحُوا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم میں سے کوئی شخص اپنے بھائی کو جمعہ کے دن بھی اس کی جگہ سے اٹھا کر خود وہاں نہ بیٹھے بلکہ اسے جگہ کشادہ کرنے کی ترغیب دینی چاہیے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14143]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 2178، وهذا إسناد منقطع، فإن سليمان بن موسى الأموي الدمشقي روايته عن جابر مرسلة، لأنه لم يدرك أحدا من أصحاب رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم وتصريحه بالسماع من جابر وهم، لا ندري ممن هو، وقد توبع
الحكم: حديث صحيح، م: 2178، وهذا إسناد منقطع، فإن سليمان بن موسى الأموي الدمشقي روايته عن جابر مرسلة، لأنه لم يدرك أحدا من أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم وتصريحه بالسماع من جابر وهم، لا ندري ممن هو، وقد ت
حدیث نمبر: 14144 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، سُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى ، جَابِرٌ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى ، قَالَ: أَخْبَرَنِي جَابِرٌ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا يُقِيمُ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، وَلَكِنْ لِيَقُلْ افْسَحُوا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم میں سے کوئی شخص اپنے بھائی کو جمعہ کے دن بھی اس کی جگہ سے اٹھا کر خود وہاں نہ بیٹھے بلکہ اسے جگہ کشادہ کرنے کی ترغیب دینی چاہیے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14144]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وانظر ما قبله
الحكم: حديث صحيح، وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 14145 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَبُو الزُّبَيْرِ ، جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يُحَدِّثُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ خَطَبَ يَوْمًا، فَذَكَرَ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِهِ قُبِضَ، فَكُفِّنَ فِي كَفَنٍ غَيْرِ طَائِلٍ، وَقُبِرَ لَيْلًا، فَزَجَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُقْبَرَ الرَّجُلُ بِاللَّيْلِ حَتَّى يُصَلَّى عَلَيْهِ، إِلَّا أَنْ يُضْطَرَّ إِنْسَانٌ إِلَى ذَلِكَ، وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا كَفَّنَ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ، فَلْيُحْسِنْ كَفَنَهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے خطبہ دیتے ہوئے اپنے ساتھیوں میں سے کسی کا ذکر کیا جو فوت ہو گئے تھے اور انہیں غیر ضروری کفن میں کفنا کر رات کے وقت دفنایا گیا تھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے رات کے وقت تدفین سے سختی کے ساتھ منع فرمایا تاآنکہ اس کی نماز جنازہ پڑھ لی جائے، الاّ یہ کہ انسان بہت زیادہ مجبور ہو جائے اور فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی شخص اپنے بھائی کو کفن دے تو اچھے طریقے سے اسے کفنائے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14145]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 943
الحكم: إسناده صحيح، م: 943
حدیث نمبر: 14146 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، سُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى ، جَابِرٌ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَال: قَالَ سُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى : سُئِلَ جَابِرٌ عَنِ الْكَفَنِ، فَأَخْبَرَ أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ يَوْمًا، فَذَكَرَ رَجُلًا قُبِضَ، فََكُفِّنَ فِي كَفَنٍ غَيْرِ طَائِلٍ، فَذَكَرَ مِثْلَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14146]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد منقطع، سليمان بن موسي الأموي الدمشقي لم يسمع من جابر، وانظر ما قبله
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد منقطع، سليمان بن موسي الأموي الدمشقي لم يسمع من جابر، وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 14147 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَبُو الزُّبَيْرِ ، جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ:" قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِجَنَازَةٍ مَرَّتْ بِهِ حَتَّى تَوَارَتْ"، قَالَ: وَأَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَيْضًا، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا، يَقُولُ:" قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ لِجَنَازَةِ يَهُودِيٍّ حَتَّى تَوَارَتْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے قریب سے ایک جنازہ گزرا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کھڑے ہو گئے اور اس وقت تک کھڑے رہے جب تک وہ نظروں سے اوجھل نہ ہو گیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14147]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 960
الحكم: إسناده صحيح، م: 960
حدیث نمبر: 14148 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَبُو الزُّبَيْرِ ، جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أخبرنا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَنْهَى أَنْ يُقْعَدَ عَلَى الْقَبْرِ، وَأَنْ يُقَصَّصَ، أَوْ يُبْنَى عَلَيْهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو قبر پر بیٹھنے سے منع کرتے ہوئے، اسے پختہ کرنے اور اس پر عمارت تعمیر کرنے سے منع کرتے ہوئے خود سنا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14148]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 970، وانظر ما بعده
الحكم: إسناده صحيح، م: 970، وانظر ما بعده
حدیث نمبر: 14149 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، سُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى ، جَابِرٌ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: قَالَ سُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى ، قَالَ جَابِرٌ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَنْهَى أَنْ يَقْعُدَ الرَّجُلُ عَلَى الْقَبْرِ، وَأَنْ يُجَصَّصَ، أَوْ يُبْنَى عَلَيْهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو قبر پر بیٹھنے سے منع کرتے ہوئے، اسے پختہ کرنے اور اس پر عمارت تعمیر کرنے سے منع کرتے ہوئے خود سنا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14149]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد منقطع، سليمان بن موسى الأموي الدمشقي لم يسمع من جابر، وانظر ماقبله
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد منقطع، سليمان بن موسى الأموي الدمشقي لم يسمع من جابر، وانظر ماقبله
حدیث نمبر: 14150 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَطَاءٌ ، جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قَدْ تُوُفِّيَ الْيَوْمَ رَجُلٌ صَالِحٌ مِنَ الْحَبَشِ أَصْحَمةُ هَلُمَّ فَصُفُّوا"، قَالَ: فَصَفَفْنَا، فَصَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهِ وَنَحْنُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک دن فرمایا کہ آج حبشہ کے نیک آدمی (شاہ حبشہ نجاشی) کا انتقال ہو گیا ہے، آؤ صفیں باندھو، چنانچہ ہم نے صفیں باندھ لیں اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ ہم نے ان کی نماز جنازہ پڑھی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14150]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1320، م: 952
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1320، م: 952
حدیث نمبر: 14151 مسند احمد
عَبْدُ الْوَهَّابِ ، سَعِيدٍ ، قَتَادَةَ ، عَطَاءٍ ، جَابِرٍ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، وقَالَ: اسْمُ النَّجَاشِيِّ صَحْمَةُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے البتہ اس میں نجاشی کا نام اصحمہ بھی مذکور ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14151]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد قوي، خ: 1317، م: 952، وانظر ماقبله
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد قوي، خ: 1317، م: 952، وانظر ماقبله