بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مُسْنَدُ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1188
صفحہ 10 از 60
حدیث نمبر: 14292 مسند احمد
سُفْيَانُ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَيُّكُمْ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ أَوْ نَخْلٌ، فَلَا يَبِيعُهَا حَتَّى يَعْرِضَهَا عَلَى شَرِيكِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے جس شخص کے پاس زمین یا باغ ہو، وہ اپنے شریک کے سامنے پیشکش کیے بغیر کسی دوسرے کے ہاتھ اسے فروخت نہ کر ے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14292]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، وانظر: 14157
الحكم: إسناده صحيح، وانظر: 14157
حدیث نمبر: 14293 مسند احمد
سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: رَأَيْتُ كَأَنَّ عُنُقِي ضُرِبَتْ! قَالَ:" لِمَ يُحَدِّثُ أَحَدُكُمْ بِلَعِبِ الشَّيْطَانِ؟!.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا، مجھے ایسا محسوس ہوا کہ گویا میری گردن مار دی گئی ہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تم شیطان کے کھیل تماشوں کو جو وہ تمہارے ساتھ کھیلتا ہے دوسروں کے سامنے کیوں بیان کرتے ہو؟ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14293]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2268، وقد صرح أبو الزبير بالسماع فيما سيأتي برقم: 15110
الحكم: إسناده صحيح، م: 2268، وقد صرح أبو الزبير بالسماع فيما سيأتي برقم: 15110
حدیث نمبر: 14294 مسند احمد
سُفْيَانُ ، ابْنُ الْمُنْكَدِرِ ، جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ ابْنُ الْمُنْكَدِرِ : سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ:" مَا سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا قَطُّ، فَقَالَ: لَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے جب بھی کسی چیز کے متعلق سوال کی گیا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے نہیں کبھی نہیں فرمایا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14294]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6034، م: 2311
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6034، م: 2311
حدیث نمبر: 14295 مسند احمد
سُفْيَانُ ، ابْنِ الْمُنْكَدِرِ ، جَابِرًا
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ ابْنِ الْمُنْكَدِرِ ، سَمِعَ جَابِرًا ، يَقُولُ: جِيءَ بِأَبِي يَوْمَ أُحُدٍ، فَوُضِعَ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُسَجًّى، فَجَعَلْتُ أُرِيدُ أَنْ أَكْشِفَ عَنْ وَجْهِهِ، وَيَنْهَانِي قَوْمِي، فَسَمِعَ بَاكِيَةً وَقَالَ مَرَّةً: صَوْتَ صَائِحَةٍ، فَقَالَ:" مَنْ هَذَا؟" فَقَالُوا: ابْنَةُ عَمْرٍو أَوْ أُخْتُ عَمْرٍو، قَالَ:" فَلِمَ تَبْكِينَ أَوْ قَالَ أَتَبْكِينَ؟ فَمَا زَالَتْ الْمَلَائِكَةُ تُظِلُّهُ بِأَجْنِحَتِهَا حَتَّى رُفِعَتْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب میرے والد صاحب غزوہ احد میں شہید ہوئے اور انہیں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے لا کر رکھا گیا، ان پر کپڑا ڈھانپ دیا گیا تھا تو میں ان کے چہرے سے کپڑا ہٹانے لگا، لوگوں نے مجھے منع کرنا شروع کر دیا، لیکن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے منع نہیں کیا، اسی اثناء میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک عورت کے رونے کی آواز سنی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: یہ کون ہے، لوگوں نے بتایا: بنت عمرو یا اخت عمرو، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تم کیوں رو رہی ہو، فرشتے اس پر مسلسل سایہ کئے رہے یہاں تک کہ اسے اٹھا لیا گیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14295]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1293، م: 2471
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1293، م: 2471
حدیث نمبر: 14296 مسند احمد
سُفْيَانُ ، ابْنِ الْمُنْكَدِرِ ، جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ ابْنِ الْمُنْكَدِرِ ، سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ وُلِدَ لِرَجُلٍ مِنَّا: غُلَامٌ، فَأَسْمَاهُ الْقَاسِمَ، فَقُلْنَا: لَا نُكَنِّيكَ أَبَا الْقَاسِمِ، وَلَا نُنْعِمُكَ عَيْنًا، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ:" أَسْمِ ابْنَكَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم میں سے کسی شخص کے ہاں لڑکا پیدا ہوا، اس نے اس کا نام قاسم رکھ دیا، ہم نے اس سے کہا کہ ہم تمہاری کنیت ابوالقاسم رکھ کر تمہاری آنکھیں ٹھنڈی نہ کریں گے، اس پر وہ شخص نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آیا، اور ساری بات ذکر کی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے فرمایا کہ تم اپنے بیٹے کا نام عبدالرحمن رکھ دو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14296]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6186، م: 2133
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6186، م: 2133
حدیث نمبر: 14297 مسند احمد
سُفْيَانُ ، ابْنِ الْمُنْكَدِرِ ، جَابِرًا
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ ابْنِ الْمُنْكَدِرِ ، سَمِعَ جَابِرًا ، يَقُولُ: نَدَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّاسَ يَوْمَ الْخَنْدَقِ، فَانْتَدَبَ الزُّبَيْرُ، ثُمَّ نَدَبَ النَّاسَ، فَانْتَدَبَ الزُّبَيْرُ، ثُمَّ نَدَبَ النَّاسَ، فَانْتَدَبَ الزُّبَيْرُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ لِكُلِّ نَبِيٍّ حَوَارِيًّا، وَحَوَارِيَّ الزُّبَيْرُ"، قَالَ سُفْيَانُ سَمِعْتُ ابْنَ الْمُنْكَدِرِ فِي هَذَا الْمَسْجِدِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے غزوہ خندق کے دن لوگوں کو (دشمن کی خبر لانے کے لئے) تین مرتبہ ترغیب دی اور تینوں مرتبہ سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے اپنے آپ کو اس خدمت کے لئے پیش کیا، جس پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ہر نبی کا ایک حواری ہوتا ہے اور میرے حواری زبیر ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14297]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2847، م: 2415
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2847، م: 2415
حدیث نمبر: 14298 مسند احمد
سُفْيَانُ ، ابْنِ الْمُنْكَدِرِ ، جَابِرًا
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ ابْنِ الْمُنْكَدِرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا ، يَقُولُ: مَرِضْتُ، فَأَتَانِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُنِي هُوَ وَأَبُو بَكْرٍ مَاشِيَيْنِ، وَقَدْ أُغْمِيَ عَلَيَّ فَلَمْ أُكَلِّمْهُ فَتَوَضَّأَ فَصَبَّهُ عَلَيَّ، فَأَفَقْتُ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ أَصْنَعُ فِي مَالِي، وَلِي أَخَوَاتٌ؟ قَالَ: فَنَزَلَتْ آيَةُ الْمِيرَاثِ يَسْتَفْتُونَكَ قُلِ اللَّهُ يُفْتِيكُمْ فِي الْكَلالَةِ إِنِ امْرُؤٌ هَلَكَ لَيْسَ لَهُ وَلَدٌ وَلَهُ أُخْتٌ سورة النساء آية 176.
حدیث نمبر: 14299 مسند احمد
سُفْيَانُ ، ابْنَ الْمُنْكَدِرِ ، جَابِرٍ ، جَابِرًا ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، سَمِعْتُ ابْنَ الْمُنْكَدِرِ غَيْرَ مَرَّةٍ، يَقُولُ: عَنْ جَابِرٍ ، وَكَأَنِّي سَمِعْتُه يَقُولُ: أَخْبَرَنِي مَنْ سَمِعَ جَابِرًا ، فَظَنَنْتُهُ سَمِعَهُ مِنَ ابنِ عَقيلٍ، ابْنُ الْمُنْكَدِرِ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكَلَ لَحْمًا ثُمَّ صَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ، وَأَنَّ أَبَا بَكْرٍ أَكَلَ لَحْمًا، ثُمَّ صَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ، وَأَنَّ عُمَرَ أَكَلَ لَحْمًا، ثُمَّ صَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے گوشت تناول فرمایا اور نیا وضو کئے بغیر ہی نماز پڑھ لی، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بکری کی پیوسی نوش فرمائی، اور تازہ وضو کئے بغیر ہی نماز پڑھ لی، اسی طرح سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے گوشت تناول فرمایا اور تازہ وضو کئے بغیر ہی نماز پڑھ لی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14299]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، رجاله ثقات رجال الشيخين غير ابن عقيل ، وهو حسن الحديث فى المتابعات والشواهد، وابن المنكدر قد توبع
الحكم: حديث صحيح، رجاله ثقات رجال الشيخين غير ابن عقيل ، وهو حسن الحديث فى المتابعات والشواهد، وابن المنكدر قد توبع
حدیث نمبر: 14300 مسند احمد
سُفْيَانُ ، ابْنُ الْمُنْكَدِرِ ، جَابِرًا
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُنْكَدِرِ ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرًا ، يَقُولُ: جَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ مِنَ الْأَعْرَابِ فَأَسْلَمَ، فَبَايَعَهُ عَلَى الْهِجْرَةِ، فَلَمْ يَلْبَثْ أَنْ حُمَّ فجَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: أَقِلْنِي، فَقَالَ:" لَا أُقِيلُكَ"، ثُمَّ أَتَاهُ فَقَالَ: أَقِلْنِي، فَقَالَ:" لَا أُقِيلُكَ"، ثُمَّ أَتَاهُ، فَقَالَ: أَقِلْنِي، فَقَالَ:" لَا"، قال: فَفَرَّ، فَقَالَ:" الْمَدِينَةُ كَالْكِيرِ تَنْفِي خَبَثَهَا، وَيَنْصَعُ طَيِّبَهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دیہاتی نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دست حق پرست پر ہجرت کی بیعت کر لی، کچھ ہی عرصے میں اسے بہت تیز بخار ہو گیا، وہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ میری بیعت فسخ کر دیجئے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انکار کر دیا، تین مرتبہ ایسا ہی ہوا، چوتھی مرتبہ وہ نہ آیا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے معلوم کیا تو صحابہ نے بتایا کہ وہ مدینہ سے فرار ہو گیا ہے، اس پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ مدینہ بھٹی کی طرح ہے جو اپنے میل کچیل کو دور کر دیتی ہے اور عمدہ چیز کو چمکدار اور صاف ستھرا کر دیتی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14300]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 7209، م: 1383
الحكم: إسناده صحيح، خ: 7209، م: 1383
حدیث نمبر: 14301 مسند احمد
سُفْيَانُ ، ابْنُ الْمُنْكَدِرِ ، جَابِرًا
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: سَمِعَ ابْنُ الْمُنْكَدِرِ ، جَابِرًا ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَوْ جَاءَ مَالُ الْبَحْرَيْنِ، لَقَدْ أَعْطَيْتُكَ هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا"، قَالَ فَلَمَّا جَاءَ مَالُ الْبَحْرَيْنِ بَعْدَ وَفَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ مَنْ كَانَ لَهُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَيْنٌ أَوْ عِدَةٌ فَلْيَأْتِنِا، قَالَ: فَجِئْتُ، قَالَ: فَقُلْتُ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَوْ قَدْ جَاءَ مَالُ الْبَحْرَيْنِ، لَأَعْطَيْتُكَ هَكَذَا وَهَكَذَا" ثَلَاثًا، قَالَ: فَخُذْ، قَالَ: فَأَخَذْتُ قَالَ بَعْضُ مَنْ سَمِعَهُ: فَوَجَدْتُهَا خَمْسَ مِائَةٍ فَأَخَذْتُ، ثُمَّ أَتَيْتُهُ، فَلَمْ يُعْطِنِي، ثُمَّ أَتَيْتُهُ، فَلَمْ يُعْطِنِي، ثُمَّ أَتَيْتُهُ الثَّالِثَةَ، فَلَمْ يُعْطِنِي، فَقُلْتُ: إِمَّا أَنْ تُعْطِيَنِي، وَإِمَّا أَنْ تَبْخَلَ عَنِّي، قَالَ: أَقُلْتَ تَبْخَلُ عَنِّي؟ وَأَيُّ دَاءٍ أَدْوَأُ مِنَ الْبُخْلِ؟! مَا سَأَلْتَنِي مَرَّةً إِلَّا وَقَدْ أَرَدْتُ أَنْ أُعْطِيَكَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ اگر بحرین سے مال آ گیا تو میں تمہیں اتنا، اور اتنا، اور اتنا دوں گا۔ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے وصال کے بعد جب بحرین سے مال آیا تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اعلان کروا دیا کہ جس شخص کا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر کوئی قرض ہو یا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے کچھ دینے کا وعدہ فرما رکھا ہو، وہ ہمارے پاس آئے، چنانچہ میں ان کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا تھا، اگر بحرین سے مال آ گیا تو میں تمہیں اتنا، اتنا اور اتنا دوں گا سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم لے لو، چنانچہ میں نے ان سے مال لے لیا، بعض سننے والے کہتے ہیں کہ میں نے انہیں گنا تو وہ پانچ سو درہم تھے، جو میں نے لے لئے۔ پھر میں دوبارہ تین مرتبہ ان کے پاس آیا لیکن انہوں نے مجھے کچھ نہ دیا، تیسری مرتبہ میں نے ان سے عرض کیا کہ یا تو آپ مجھے عطاء کریں، ورنہ میں سمجھوں گا کہ آپ میرے سامنے بخل کر رہے ہیں۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ یہ تم مجھ سے بخل کرنے کا کہہ رہے ہو، بخل سے بڑھ کر کون سی بیماری ہو سکتی ہے؟ تم نے جب پہلی مرتبہ مجھ سے درخواست کی تھی، میں نے اسی وقت ارادہ کر لیا تھا کہ تمہیں ضرور دوں گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14301]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2598، م: 2314
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2598، م: 2314
حدیث نمبر: 14302 مسند احمد
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ ، سَعِيدٌ يَعْنِي ابْنَ أَبِي أَيُّوبَ ، عَمْرُو بْنُ جَابِرٍ الْحَضْرَمِيُّ ، جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيَّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ يَعْنِي ابْنَ أَبِي أَيُّوبَ ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ جَابِرٍ الْحَضْرَمِيُّ ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيَّ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" مَنْ صَامَ رَمَضَانَ وَسِتًّا مِنْ شَوَّالٍ، فَكَأَنَّمَا صَامَ السَّنَةَ كُلَّهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص ماہ رمضان کے روزے رکھنے کے بعد شوال کے چھ روزے رکھ لے تو یہ ایسے ہے جیسے اس نے پورا سال روزے رکھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14302]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف عمرو بن جابر الحضرمي، وانظر: 23533
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف عمرو بن جابر الحضرمي، وانظر: 23533
حدیث نمبر: 14303 مسند احمد
الْحَسَنُ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَمْرُو بْنُ جَابِرٍ الْحَضْرَمِيُّ ، جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ
حَدَّثَنَاه الْحَسَنُ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ جَابِرٍ الْحَضْرَمِيُّ ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14303]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن لهيعة، وانظر ما قبله
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن لهيعة، وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 14304 مسند احمد
سُفْيَانُ ، الْأَسْوَدِ ، نُبَيْحٍ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ نُبَيْحٍ ، عَنْ جَابِرٍ ،" نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَطْرُقَ النِّسَاءَ، ثُمَّ طَرَقْنَاهُنَّ بَعْدُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں رات کے وقت شہر میں داخل ہو کر بلا اطلاع اپنے گھر جانے سے منع فرمایا ہے لیکن ان کے بعد ہم اس طرح کرنے لگے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14304]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، وانظر: 14194
الحكم: إسناده صحيح، وانظر: 14194
حدیث نمبر: 14305 مسند احمد
سُفْيَانُ ، الْأَسْوَدِ ، نُبَيْحٍ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ نُبَيْحٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَمَرَ بِقَتْلَى أُحُدٍ أَنْ يُرَدُّوا إِلَى مَصَارِعِهِمْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب شہدا احد کو ان کی جگہ سے اٹھایا جانے لگا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے منادی نے اعلان کر دیا کہ شہدا کو ان کی اپنی جگہوں پر واپس پہنچا دو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14305]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح كسابقه
الحكم: إسناده صحيح كسابقه
حدیث نمبر: 14306 مسند احمد
سُفْيَانُ ، عَمْرٌو ، جَابِرًا
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ عَمْرٌو ، سَمِعْتُ جَابِرًا ، يَقُولُ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هَلْ نَكَحْتَ؟"، قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ:" أَبِكْرًا، أَمْ ثَيِّبًا؟" قُلْتُ: ثَيِّبًا، قَالَ:" فَهَلَّا بِكْرًا تُلَاعِبُهَا وَتُلَاعِبُكَ!"، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، قُتِلَ أَبِي يَوْمَ أُحُدٍ، وَتَرَكَ تِسعَ بَنَاتٍ، فَكَرِهْتُ أَنْ أَجْمَعَ إِلَيْهِنَّ خَرْقَاءَ مِثْلَهُنَّ، وَلَكِنْ امْرَأَةً تُمَشِّطُهُنَّ، وَتُقِومُ عَلَيْهِنَّ، قَالَ:" أَصَبْتَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے پوچھا کہ کیا تم نے شادی کر لی ہے؟ میں نے عرض کیا: جی ہاں! پوچھا: کنواری سے یا شوہر دیدہ سے؟ میں نے عرض کیا: شوہر دیدہ سے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کنواری سے نکاح کیوں نہیں کیا کہ تم اس سے کھیلتے اور وہ تم سے کھیلتی؟ میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! میرے والد صاحب غزوہ احد میں شہید ہو گئے تھے اور انہوں نے سات بیٹیاں چھوڑیں میں نے ان ہی جیسی بیوقوف کو لانا مناسب نہ سمجھا میں نے سوچا کہ ایسی عورت ہو جو ان کی دیکھ بھال کر سکے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تم نے صحیح کیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14306]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4052، م: 715
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4052، م: 715
حدیث نمبر: 14307 مسند احمد
سُفْيَانُ ، عَمْرٍو ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، سَمِعَهُ مِنْ جَابِرٍ كَانَ مُعَاذٌ يُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ يَرْجِعُ فَيَؤُمُّنَا وَقَالَ مَرَّةً: ثُمَّ يَرْجِعُ فَيُصَلِّي بِقَوْمِهِ فَأَخَّرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةً، قال مرةً: الصَّلَاةَ، وَقَالَ مَرَّةً: الْعِشَاءَ، فَصَلَّى مُعَاذٌ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ جَاءَ يؤُمُّ قَوْمَهُ، فَقَرَأَ الْبَقَرَةَ، فَاعْتَزَلَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ، فَصَلَّى، فَقِيلَ: نَافَقْتَ يَا فُلَانُ، قَالَ: مَا نَافَقْتُ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنَّ مُعَاذًا يُصَلِّي مَعَكَ، ثُمَّ يَرْجِعُ فَيَؤُمُّنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّمَا نَحْنُ أَصْحَابُ نَوَاضِحَ، وَنَعْمَلُ بِأَيْدِينَا، وَإِنَّهُ جَاءَ يَؤُمُّنَا، فَقَرَأَ سُورَةَ الْبَقَرَةِ، فَقَالَ:" يَا مُعَاذُ، أَفَتَّانٌ أَنْتَ؟ أَفَتَّانٌ أَنْتَ؟ اقْرَأْ بِكَذَا وَكَذَا"، قَالَ أَبُو الزُّبَيْرِ ب سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى، وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى، فَذَكَرْنَا لِعَمْرٍو، فَقَالَ: أُرَاهُ قَدْ ذَكَرَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا معاذ بن جبل ابتداء نماز عشاء کے ساتھ پڑھتے تھے پھر اپنی قوم میں جا کر انہیں وہی نماز پڑھا دیتے تھے ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے نماز عشاء کو موخر کر دیا۔ سیدنا معاذ نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ہمراہ نماز پڑھی اور اپنی قوم میں آ کر سورت بقرہ کی تلاوت شروع کر دی، ایک آدمی نے یہ دیکھا، اپنی نماز پڑھی اور چلا گیا بعد میں اسے کسی نے کہا کہ تم منافق ہو گئے ہو اس نے کہا: میں تو منافق نہیں ہوں، پھر اس نے یہ بات نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے جا کر ذکر کی کہ معاذ آپ کے ساتھ نماز پڑھتے ہیں پھر واپس آکر ہماری امامت کرتے ہیں، ہم لوگ کھیتی باڑی کرتے ہیں اور اپنے ہاتھوں سے محنت کرنے والے ہیں انہوں نے آکر ہمیں نماز پڑھائی تو سورت بقرہ شروع کر دی۔ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے دو مرتبہ فرمایا: معاذ تم لوگوں کو فتنہ میں مبتلا کرنا چاہتے ہو تم سورت اعلی اور سورت شمس کیوں نہیں پڑھتے؟ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14307]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6106، م: 465
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6106، م: 465
حدیث نمبر: 14308 مسند احمد
سُفْيَانُ ، عَمْرٌو ، جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، عَمْرٌو ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: سَمِعَ عَمْرٌو ، جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، وَقَالَ مَرَّةً: عَمْرٌو ، سَمِعَهُ مِنْ جَابِرٍ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْحَرْبُ خُدْعَةٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جنگ چال کا نام ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14308]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3030، م: 1739
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3030، م: 1739
حدیث نمبر: 14309 مسند احمد
سُفْيَانُ ، عَمْرٍو ، جَابِرًا
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، سَمِعَ جَابِرًا دَخَلَ رَجُلٌ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَصَلَّيْتَ؟" قَالَ: لَا قَالَ:" صَلِّ رَكْعَتَيْنِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم خطبہ ارشاد فرما رہے تھے ایک صاحب آئے اور بیٹھ گئے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے پوچھا کہ کیا تم نے نماز پڑھی ہے انہوں نے کہا: نہیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں دو رکعتیں پڑھنے کا حکم دیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14309]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 930، م: 875
الحكم: إسناده صحيح، خ: 930، م: 875
حدیث نمبر: 14310 مسند احمد
سُفْيَانُ ، لِعَمْرٍو ، جَابِرًا
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: قُلْتُ لِعَمْرٍو : أَسَمِعْتَ جَابِرًا ، يَقُولُ: مَرَّ رَجُلٌ فِي الْمَسْجِدِ مَعَهُ سِهَامٌ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَمْسِكْ بِنِصَالِهَا؟" فَقَالَ: نَعَمْ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سفیان کہتے ہیں کہ میں نے عمرو سے پوچھا کہ آپ نے جابر رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ایک آدمی مسجد نبوی میں گزر رہا تھا اس کے ہاتھ میں کچھ تیر تھے تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے فرمایا کہ اس کے پھل کا رخ سامنے کی طرف کرنے کے بجائے اپنی طرف پھیر لو؟ انہوں نے اثبات میں جواب دیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14310]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 451، م: 2614، وقوله: « فقال: نعم » لم يرد فى رواية البخاري برقم: 451، وورد برقم: 7073 « قال: نعم » وفي مسلم بغير سؤال ولا جواب، وانظر « الفتح » :1/ 546، 547
الحكم: إسناده صحيح، خ: 451، م: 2614، وقوله: « فقال: نعم » لم يرد فى رواية البخاري برقم: 451، وورد برقم: 7073 « قال: نعم » وفي مسلم بغير سؤال ولا جواب، وانظر « الفتح » :1/ 546، 547
حدیث نمبر: 14311 مسند احمد
سُفْيَانُ ، عَمْرٍو ، جَابِرًا
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، سَمِعَ جَابِرًا ،" بَاعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَبْدًا مُدَبَّرًا فَاشْتَرَاهُ ابْنُ النَّحَّامِ، عَبْدًا قِبْطِيًّا مَاتَ عَامَ الْأَوَّلِ فِي إِمْرَةِ ابْنِ الزُّبَيْرِ، دَبَّرَهُ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ، وَلَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ غَيْرُهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک مدبر غلام کو بیچا جسے ابن نحام نے خرید لیا وہ قبطی غلام تھا اور سیدنا عبداللہ بن زبیر کی خلافت کے پہلے سال ہی فوت ہو گیا تھا اسے ایک انصاری نے مدبر بنا لیا تھا جس کے علاوہ اس کے پاس کسی قسم کا کوئی مال نہ تھا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14311]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2231، م: 997
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2231، م: 997