سُفْيَانُ ، لِعَمْرٍو ، جَابِرًا
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: قُلْتُ لِعَمْرٍو : أَسَمِعْتَ جَابِرًا ، يَقُولُ: مَرَّ رَجُلٌ فِي الْمَسْجِدِ مَعَهُ سِهَامٌ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَمْسِكْ بِنِصَالِهَا؟" فَقَالَ: نَعَمْ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سفیان کہتے ہیں کہ میں نے عمرو سے پوچھا کہ آپ نے جابر رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ایک آدمی مسجد نبوی میں گزر رہا تھا اس کے ہاتھ میں کچھ تیر تھے تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے فرمایا کہ اس کے پھل کا رخ سامنے کی طرف کرنے کے بجائے اپنی طرف پھیر لو؟ انہوں نے اثبات میں جواب دیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14310]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 451، م: 2614، وقوله: « فقال: نعم » لم يرد فى رواية البخاري برقم: 451، وورد برقم: 7073 « قال: نعم » وفي مسلم بغير سؤال ولا جواب، وانظر « الفتح » :1/ 546، 547
الحكم: إسناده صحيح، خ: 451، م: 2614، وقوله: « فقال: نعم » لم يرد فى رواية البخاري برقم: 451، وورد برقم: 7073 « قال: نعم » وفي مسلم بغير سؤال ولا جواب، وانظر « الفتح » :1/ 546، 547