بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مُسْنَدُ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1188
صفحہ 41 از 60
حدیث نمبر: 14912 مسند احمد
عَفَّانُ ، سَعِيدُ بْنُ يَزِيدَ ، لَيْثٌ ، أَبِي بَكْرٍ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ يَزِيدَ ، أَخْبَرَنَا لَيْثٌ ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ ، وَقَالَ عَفَّانُ مَرَّةً: عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ أَحْيَا أَرْضًا دَعْوَةً مِنَ الْمَصْرِ، أَوْ رَمْيَةً مِنَ الْمَصْرِ، فَهِيَ لَهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص کسی ویران بنجر زمین کو آباد کر ے وہ اس کی ہو گئی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14912]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، سعيد بن يزيد هذا لم نتبينه وأبو بكر بن محمد الأنصاري لم يذكر له أحد رواية عن جابر، فالإسناد منقطع، وقد صح بغير هذا اللفظ ، انظر: 14271
الحكم: إسناده ضعيف، سعيد بن يزيد هذا لم نتبينه وأبو بكر بن محمد الأنصاري لم يذكر له أحد رواية عن جابر، فالإسناد منقطع، وقد صح بغير هذا اللفظ ، انظر: 14271
حدیث نمبر: 14913 مسند احمد
عَفَّانُ ، عَبْدُ الْوَاحِدِ ، الحَجَّاجٌ ، عَطَاءٍ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ ، حَدَّثَنَا الحَجَّاجٌ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْرُجُ فِي الْعِيدِ، وَيُخْرِجُ أَهْلَهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم عیدین میں خود بھی نکلتے تھے اور اپنے اہل خانہ کو بھی لے جاتے تھے۔ (عیدگاہ میں) [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14913]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، حجاج بن أرطاة ليس بذاك القوي، وهو مدلس وقد عنعن، واختلف عليه ، ويشهد له حديث أم عطية عند البخاري: 351، ومسلم: 890 أمرنا النبى صلى الله عليه و آله وسلم أن تخرج فى العيدين العواتق وذوات الخدور ويأتي فى المسند برقم: 20799
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، حجاج بن أرطاة ليس بذاك القوي، وهو مدلس وقد عنعن، واختلف عليه ، ويشهد له حديث أم عطية عند البخاري: 351، ومسلم: 890 أمرنا النبى صلى الله عليه وسلم أن تخرج فى العيدين العواتق
حدیث نمبر: 14914 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادٌ ، قَيْسُ بْنُ سَعْدٍ ، عَطَاءٍ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، أَخْبَرَنَا قَيْسُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَحَرَ الْبَدَنَةَ عَنْ سَبْعَةٍ، وَالْبَقَرَةَ عَنْ سَبْعَةٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سات آدمیوں کی طرف سے ایک اونٹ گائے کی قربانی دیدیتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14914]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، وانظر: 14265
الحكم: إسناده صحيح، وانظر: 14265
حدیث نمبر: 14915 مسند احمد
عَفَّانُ ، شُعْبَةُ ، مُحَارِبُ بْنُ دِثَارٍ ، جَابِرًا
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: مُحَارِبُ بْنُ دِثَارٍ أَخْبَرَنِي، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرًا ، يَقُولُ:" إِنَّهُ كَانَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، فَلَمَّا أَتَى الْمَدِينَةَ، أَمَرَهُ أَنْ يَأْتِيَ الْمَسْجِدَ، فَيُصَلِّيَ رَكْعَتَيْنِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک سفر میں میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ہمراہ تھا مدینہ منورہ واپس پہنچ کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ جا کر مسجد میں دو رکعتیں پڑھ کر آؤ۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14915]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2604، م: 715
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2604، م: 715
حدیث نمبر: 14916 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادٌ ، عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، وَعَاصِمٌ الْأَحْوَلُ ، أَبِي نَضْرَةَ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، وَعَاصِمٌ الْأَحْوَلُ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ:" تَمَتَّعْنَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتْعَتَيْنِ الْحَجَّ، وَالنِّسَاءَ"، وَقَدْ قَالَ حَمَّادٌ أَيْضًا: مُتْعَةَ الْحَجِّ، وَمُتْعَةَ النِّسَاءِ، فَلَمَّا كَانَ عُمَرُ، نَهَانَا عَنْهُمَا فَانْتَهَيْنَا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دور باسعادت میں دو طرح کا متعہ ہوتا تھا حج تمتع اور عورتوں سے متعہ، سیدنا عمر نے ہمیں ان دونوں سے روک دیا ہم رک گئے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14916]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1249
الحكم: إسناده صحيح، م: 1249
حدیث نمبر: 14917 مسند احمد
عَفَّانُ ، هَمَّامٌ ، عَطَاءً ، جَابِرٌ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، قَالَ: سَأَلَ سُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى، عَطَاءً ، وَأَنَا شَاهِدٌ، قَالَ: حَدَّثَكَ جَابِرٌ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى أَنْ يُنْبَذَ الْبُسْرُ وَالتَّمْرُ جَمِيعًا، وَالزَّبِيبُ وَالتَّمْرُ جَمِيعًا"؟، قَالَ عَطَاءٌ: نَعَمْ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کچی اور پکی کھجور، کشمش اور کھجور کو ملا کر نبیذ بنانے سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14917]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5601، م: 1986
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5601، م: 1986
حدیث نمبر: 14918 مسند احمد
جَابِرٌ ، عَطَاءٌ
(حديث مرفوع) (حديث موقوف) وَقَالَ لَهُ سُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى، وَأَنَا شَاهِدٌ: وَقَالَ لَهُ سُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى، وَأَنَا شَاهِدٌ: حَدَّثَكَ جَابِرٌ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ فَلْيَزْرَعْهَا، أَوْ لِيُزْرِعْهَا أَخَاهُ، وَلَا يُكْرِيهَا"؟، قَالَ: عَطَاءٌ : نَعَمْ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس شخص کے پاس کوئی زمین ہواسے چاہیے کہ وہ خود اس میں کھیتی باڑی کر ے یا اپنے بھائی کو ہدیہ کے طور پر دیدے کرایہ پر نہ دے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14918]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2340، م: 1536
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2340، م: 1536
حدیث نمبر: 14919 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، حَبِيبٌ الْمُعَلِّمُ ، عَطَاءٍ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَخْبَرَنَا حَبِيبٌ الْمُعَلِّمُ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّ رَجُلًا قَالَ: يَوْمَ الْفَتْحِ يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي نَذَرْتُ إِنْ فَتَحَ اللَّهُ عَلَيْكَ مَكَّةَ أَنْ أُصَلِّيَ فِي بَيْتِ الْمَقْدِسِ، فَقَالَ:" صَلِّ هَاهُنَا"، فَسَأَلَهُ، فَقَالَ:" صَلِّ هَاهُنَا"، فَسَأَلَهُ، فَقَالَ:" شَأْنَكَ إِذًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی فتح مکہ کے دن عرض کیا: یا رسول اللہ! میں نے منت مانی تھی کہ اگر اللہ نے آپ کے ہاتھوں مکہ مکر مہ کو فتح کر وادیا تو میں بیت المقدس میں جا کر نماز پڑھوں گا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: یہیں نماز پڑھ لو اس نے پھر سوال کیا اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پھر یہی جواب دیا اس نے پھر سوال کیا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تمہاری مرضی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14919]
حکم دارالسلام
إسناده قوي
الحكم: إسناده قوي
حدیث نمبر: 14920 مسند احمد
حَدَّثَنَا عَفَّانُ وَبَهْزُ قَالَا: حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، قَالَ بَهْزُ: حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، قَالَ: قَالَ لِي سُلَيْمَانُ بْنُ هِشَامٍ: إِنَّ هَذَا - يَعْنِي الزُّهْرِيَّ - لَا يَدَعُنَا نَأْكُلُ شَيْئًا إِلَّا أَمَرَنَا أَنْ نَتَوَضَّأَ مِنْهُ - يَعْنِي مَا مَسَّتْهُ النَّارُ - قَالَ: فَقُلْتُ لَهُ: سَأَلْتُ عَنْهُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ، فَقَالَ: إِذَا أَكَلْتَهُ، فَهُوَ طَيِّبٌ، لَيْسَ عَلَيْكَ فِيهِ وُضُوءٌ، فَإِذَا خَرَجَ فَهُوَ خَبِيثُ، عَلَيْكَ فِيهِ الْوُضُوءُ. قَالَ: فَهَلْ بِالْبَلَدِ أَحَدٌ؟ قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ، أَقْدَمُ رَجُلٍ فِي جَزِيرَةِ الْعَرَبِ عِلْمًا. قَالَ: مَنْ؟ قُلْتُ: عَطَاءُ بْنُ أَبِي رَبَاحٍ - قَالَ بَهْرٌ: فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ، فَجِيءَ بِهِ - قَالَ: فَبَعَثَ إِلَيْهِ فَقَالَ: حَدَّثَنِي جَابِرٌ: أَنَّهُمْ أَكَلُوا مَعَ أَبِي بَكْرِ الصِّدِّيقِ خُبْزًا وَلَحْمًا، فَصَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأُ. قَالَ: قَالَ لِعَطَاءِ: مَا تَقُولُ - يَعْنِي - فِي الْعُمْرَى؟ قَالَ: حَدَّثَنِي جَابِرٌ: أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه و آله وسلم قَالَ: الْعُمْرَى جَائِزَةٌ»
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
قتادہ کہتے ہیں کہ مجھ سے سلیمان بن ہشام نے کہا ہم جو بھی چیز کھاتے ہیں امام زہری ہمیں حکم دیتے ہیں کہ نیا وضو کر یں میں نے ان سے کہا کہ میں نے سعید بن مسیب سے یہ مسئلہ پوچھا کہ انہوں نے فرمایا کہ تم جو حلال چیز کھاؤ اسے کھانے کے بعد تم پر وضو نہیں ہے اور جب تمہارے جسم سے کوئی چیز نکلے تو وہ گندگی ہے اور اس میں تم وضو کر و انہوں نے پوچھا کہ شہر میں کسی اور کی بھی رائے ہے یہ والی۔ میں نے کہا جزیرہ عرب میں سے قدیم عالم کی۔ انہوں نے پوچھا کہ وہ کون ہیں میں نے بتایا عطابن ابی رباح چنانچہ انہوں نے عطاء کے پاس پیغام بھجوایا انہوں نے فرمایا کہ مجھے جابر رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث سنائی ہے کہ انہوں نے سیدنا صدیق اکبر کے ساتھ گوشت اور روٹی کھائی پھر انہوں نے یوں ہی نماز پڑھا دی اور تازہ وضو نہیں کیا۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: عمر بھر کے لئے کسی کو کوئی چیز دینا جائز ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14920]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، والشطر الثاني منه سلف برقم: 14886
الحكم: إسناده صحيح، والشطر الثاني منه سلف برقم: 14886
حدیث نمبر: 14921 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، أَيُّوبُ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، وَسَعِيدِ بْنِ مِينَاءٍ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، وَسَعِيدِ بْنِ مِينَاءٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى عَنِ الْمُحَاقَلَةِ، وَالْمُزَابَنَةِ، وَالْمُعَاوَمَةِ، وَقَالَ أَحَدُهُمَا: وَبَيْعِ السِّنِينَ، وَعَنْ بَيْعِ الثُّنْيَا، وَرَخَّصَ فِي الْعَرَايَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بیع محاقلہ، بٹائی، کئی سالوں کے ٹھیکے پر پھلوں کی فروخت اور مخصوص درختوں کے استثناء سے منع فرمایا ہے البتہ اس بات کی اجازت دی ہے کہ کوئی شخص اپنے باغ کو عاریۃ کسی غریب کے حوالے کر دے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14921]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1536
الحكم: إسناده صحيح، م: 1536
حدیث نمبر: 14922 مسند احمد
عَفَّانُ ، عَبْدُ الْوَاحِدِ ، سُلَيْمَانُ بْنُ مِهْرَانَ الْأَعْمَشُ ، أَبَا سُفْيَانَ ، جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ مِهْرَانَ الْأَعْمَشُ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا سُفْيَانَ ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" إِنَّ أَهْلَ الْجَنَّةِ يَأْكُلُونَ فِيهَا وَيَشْرَبُونَ، لَا يَبُولُونَ وَلَا يَتَغَوَّطُونَ، وَلَا يَتْفُلُونَ وَلَا يَمْتَخِطُونَ، طَعَامُهُمْ جُشَاءٌ، وَرَشْحٌ كَرَشْحِ الْمِسْكِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے جنت میں اہل جنت کھائیں پئیں گے لیکن پاخانہ پیشاب نہ کر یں گے اور نہ ہی ناک صاف کر یں گے یا تھوک پھینکیں گے ان کا کھانا ایک ڈکار سے ہضم ہو جائے گا اور ان کا پسینہ مشک کی مہک کی طرح ہو گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14922]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 2835، وهذا إسناد قوي
الحكم: حديث صحيح، م: 2835، وهذا إسناد قوي
حدیث نمبر: 14923 مسند احمد
عَفَّانُ ، عَبْدُ الْوَاحِدِ ، سُلَيْمَانُ الْأَعْمَشُ ، أَبِي سُفْيَانَ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُهِلِّينَ بِالْحَجِّ، فَطُفْنَا بِالْبَيْتِ، وَسَعَيْنَا بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ،" فَأَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَحِلَّ"، قَالَ: فَخَرَجْنَا إِلَى الْبَطْحَاءِ، قَالَ: فَجَعَلَ الرَّجُلُ يَقُولُ عَهْدِي بِأَهْلِي الْيَوْمَ، فَقَالَ النَّاسُ فِي ذَلِكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَوْ اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ مِنْهُ، لَأَحْلَلْتُ"، وَلَمْ يَحِلَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَنَّهُ سَاقَ الْهَدْيَ، فَأَحْرَمْنَا حِينَ تَوَجَّهْنَا إِلَى مِنًى.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ حج کا احرام باندھ کر روانہ ہوئے بیت اللہ کا طواف کیا اور صفا مروہ کی سعی کی پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ اسے عمرہ کا احرام قرار دے کر حلال ہو جائیں۔ اس پر بطحاء کی طرف ہم نکلے اور ایک آدمی کہنے لگا کہ آج میں اپنی بیوی کے پاس جاؤں گا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ بات معلوم ہوئی تو فرمایا کہ اگر میرے سامنے وہ بات پہلے ہی آجاتی جو بعد میں آئی ہے تو میں اپنے ساتھ قربانی کا جانور نہ لاتا تو میں بھی حلال ہو جاتا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14923]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1214
الحكم: إسناده صحيح، م: 1214
حدیث نمبر: 14924 مسند احمد
عَفَّانُ ، أَبُو عَوَانَةَ ، أَبُو بِشْرٍ ، سُلَيْمَانُ بْنُ قَيْسٍ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ ، أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ قَيْسٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ:" نَحَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ سَبْعِينَ بَدَنَةً، الْبَدَنَةُ عَنْ سَبْعَةٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم نے مقام حدیبیہ میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی موجودگی میں سترہ اونٹ ذبح کئے ہر سات آدمیوں کی طرف سے ایک اونٹ تھا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14924]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 1318 ، أبو بشر هو جعفر بن أبى وحشية، وروايته عن سليمان بن قيس صحيفة
الحكم: حديث صحيح، م: 1318 ، أبو بشر هو جعفر بن أبى وحشية، وروايته عن سليمان بن قيس صحيفة
حدیث نمبر: 14925 مسند احمد
عَفَّانُ ، أَبُو عَوَانَةَ ، أَبُو بِشْرٍ ، أَبِي سُفْيَانَ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَلَبَ، وَسَأَلَ أَهْلَهُ الْأُدْمَ، قَالُوا: مَا عِنْدَنَا إِلَّا خَلٌّ، قَالَ: فَدَعَا بِهِ، فَجَعَلَ يَأْكُلُ بِهِ، وَيَقُولُ:" نِعْمَ الْأُدْمُ الْخَلُّ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے گھر والوں سے سالن لانے کو کہا انہوں نے کہا ہمارے پاس تو سرکہ ہے اس کے علاوہ کچھ نہیں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے منگوا کر کھایا اور ارشاد فرمایا کہ سرکہ بہترین سالن ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14925]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 2052، وهذا إسناد قوي
الحكم: حديث صحيح، م: 2052، وهذا إسناد قوي
حدیث نمبر: 14926 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، حُمَيْدٍ ، أَبِي الْمُتَوَكِّلِ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ " أَنَّهُمْ كَانُوا لَا يَضَعُونَ أَيْدِيَهُمْ فِي الطَّعَامِ، حَتَّى يَكُونَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هُوَ يَبْدَأُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ صحابہ کی عادت یہ تھی کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے شروع کرنے سے پہلے ہاتھ نہ بڑھاتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14926]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 14927 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَبُو الزُّبَيْرِ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَخْبَرَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ رَجُلًا ذَبَحَ قَبْلَ أَنْ يُصَلِّيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَتُودًا جَذَعًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تُجْزِئُ عَنْ أَحَدٍ بَعْدَكَ"، وَنَهَى أَنْ يَذْبَحُوا حَتَّى يُصَلُّوا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک شخص نے قبل اس کے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نماز عید ادا کر یں اپناچھ ماہ کا بکری کا بچہ ذبح کر لیا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تمہارے علاوہ کسی اور کی طرف سے یہ کفایت نہیں کر ے گا اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے نماز سے قبل جانور ذبح کرنے سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14927]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، وأبو الزبير لم يصرح بسماعه من جابر، والظاهر أن فى هذه الرواية سقطا ، والأصل: فأمره النبى صلى الله عليه و آله وسلم بالإعادة، فذبح عتودا، والله تعالى أعلم، ويشده حديث البراء بن عازب: 18691، قال: ذبح أبو بردة قبل الصلاة
الحكم: إسناده صحيح، وأبو الزبير لم يصرح بسماعه من جابر، والظاهر أن فى هذه الرواية سقطا ، والأصل: فأمره النبى صلى الله عليه وسلم بالإعادة، فذبح عتودا، والله تعالى أعلم، ويشده حديث البراء بن عازب: 18691، قال:
حدیث نمبر: 14928 مسند احمد
عَفَّانُ ، أَبَانُ ، يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبَانُ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: أَقْبَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَتَّى إِذَا كُنَّا بِذَاتِ الرِّقَاعِ، قَالَ: كُنَّا إِذَا أَتَيْنَا عَلَى شَجَرَةٍ ظَلِيلَةٍ، تَرَكْنَاهَا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَاءَ رَجُلٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ، وَسَيْفُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُعَلَّقٌ بِشَجَرَةٍ، فَأَخَذَ سَيْفَ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَاخْتَرَطَهُ، ثُمَّ قَالَ: لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَخَافُنِي؟، قَالَ:" لَا"، قَالَ: فَمَنْ يَمْنَعُكَ مِنِّي؟، قَالَ:" اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَمْنَعُنِي مِنْكَ"، قَالَ: فَتَهَدَّدَهُ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَغْمَدَ السَّيْفَ وَعَلَّقَهُ، فَنُودِيَ بِالصَّلَاةِ، فَصَلَّى بِطَائِفَةٍ رَكْعَتَيْنِ، وَتَأَخَّرُوا، وَصَلَّى بِالطَّائِفَةِ الْأُخْرَى رَكْعَتَيْنِ، فَكَانَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعُ رَكَعَاتٍ، وَلِلْقَوْمِ رَكْعَتَانِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم لوگ رسول اللہ کے ساتھ واپس آرہے تھے ذات الرقاع میں پہنچ کر ہم نے ایک سایہ دار درخت نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے لئے چھوڑ دیا ایک مشرک آیا اس وقت نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی تلوار درخت سے لٹکی ہوئی تھی اس نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی تلوار لے کر اسے سونت لیا اور کہنے لگا کہ آپ مجھ سے ڈرتے ہیں میں نے کہا نہیں اس نے کہا اب تم کو میرے ہاتھ سے کون بچائے گا میں نے کہا اللہ بچائے گا یہ سن کر اس کے ہاتھ سے تلوار گرگئی پھر آپ نے اس سے پوچھا کہ اب آپ کو مجھ سے کون بچائے گا پھر صحابہ نے اسے ڈرایا اور حضور نے تلوار کو نیام میں ڈال لیا اور پھر نماز کا اعلان کیا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک گروہ کو دو رکعتیں پڑھائیں پھر وہ لوگ چلے گئے اور دوسرے گروہ کو بھی دو رکعتیں پڑھائیں اس طرح نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی چار رکعتیں ہو گئیں اور لوگوں کی دو رکعتیں ہوئیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14928]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4136، م: 843
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4136، م: 843
حدیث نمبر: 14929 مسند احمد
عَفَّانُ ، أَبُو عَوَانَةَ ، أَبُو بِشْرٍ ، سُلَيْمَانَ بْنِ قَيْسٍ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَاتَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُحَارِبَ خَصَفَةَ بِنَخْلٍ، فَرَأَوْا مِنَ الْمُسْلِمِينَ غِرَّةً، فَجَاءَ رَجُلٌ مِنْهُمْ، يُقَالُ لَهُ: غَوْرَثُ بْنُ الْحَارِثِ، حَتَّى قَامَ عَلَى رَأْسِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالسَّيْفِ، فَقَالَ: مَنْ يَمْنَعُكَ مِنِّي؟، قَالَ:" اللَّهُ"، فَسَقَطَ السَّيْفُ مِنْ يَدِهِ، فَأَخَذَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" مَنْ يَمْنَعُكَ مِنِّي؟"، قَالَ: كُنْ كَخَيْرِ آخِذٍ، قَالَ:" أَتَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ؟"، قَالَ: لَا، وَلَكِنِّي أُعَاهِدُكَ أَنْ لَا أُقَاتِلَكَ، وَلَا أَكُونَ مَعَ قَوْمٍ يُقَاتِلُونَكَ، فَخَلَّى سَبِيلَهُ، قَالَ: فَذَهَبَ إِلَى أَصْحَابِهِ، قَالَ: قَدْ جِئْتُكُمْ مِنْ عِنْدِ خَيْرِ النَّاسِ، فَلَمَّا كَانَ الظُّهْرُ، أَوْ الْعَصْرُ، صَلَّى بِهِمْ صَلَاةَ الْخَوْفِ، فَكَانَ النَّاسُ طَائِفَتَيْنِ طَائِفَةً بِإِزَاءِ عَدُوِّهِمْ، وَطَائِفَةً صَلَّوْا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَصَلَّى بِالطَّائِفَةِ الَّذِينَ كَانُوا مَعَهُ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ انْصَرَفُوا فَكَانُوا مَكَانَ أُولَئِكَ الَّذِينَ كَانُوا بِإِزَاءِ عَدُوِّهِمْ، وَجَاءَ أُولَئِكَ فَصَلَّى بِهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَيْنِ، فَكَانَ لِلْقَوْمِ رَكْعَتَانِ رَكْعَتَانِ، وَلِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعُ رَكَعَاتٍ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم لوگ رسول اللہ کے ساتھ واپس آرہے تھے ذات الرقاع میں پہنچ کر ہم نے ایک سایہ دار درخت نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے لئے چھوڑ دیا ایک مشرک آیا اس وقت نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی تلوار درخت سے لٹکی ہوئی تھی اس نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی تلوار لے کر اسے سونت لیا اور کہنے لگا کہ آپ مجھ سے ڈرتے ہیں میں نے کہا نہیں اس نے کہا اب تم کو میرے ہاتھ سے کون بچائے گا میں نے کہا اللہ بچائے گا یہ سن کر اس کے ہاتھ سے تلوار گرگئی پھر آپ نے اس سے پوچھا کہ اب آپ کو مجھ سے کون بچائے گا پھر صحابہ نے اسے ڈرایا اور حضور نے تلوار کو نیام میں ڈال لیا اور پھر نماز کا اعلان کیا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک گروہ کو دو رکعتیں پڑھائیں پھر وہ لوگ چلے گئے اور دوسرے گروہ کو بھی دو رکعتیں پڑھائیں اس طرح نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی چار رکعتیں ہو گئیں اور لوگوں کی دو رکعتیں ہوئیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14929]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وانظر البخاري: 1436، وأبو بشر - جعفر بن أبى وحشية - لم يسمع من سليمان بن قيس، وروايته عنه من صحيفة عن جابر، وانظر ما قبله
الحكم: حديث صحيح، وانظر البخاري: 1436، وأبو بشر - جعفر بن أبى وحشية - لم يسمع من سليمان بن قيس، وروايته عنه من صحيفة عن جابر، وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 14930 مسند احمد
عَفَّانُ ، وُهَيْبٌ ، جَعْفَرٌ ، أَبِيهِ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَى الْعَالِيَةَ، فَمَرَّ بِالسُّوقِ، فَمَرَّ بِجَدْيٍ أَسَكَّ مَيِّتٍ، فَتَنَاوَلَهُ فَرَفَعَهُ، ثُمَّ قَالَ:" بِكَمْ تُحِبُّونَ أَنَّ هَذَا لَكُمْ؟"، قَالُوا: مَا نُحِبُّ أَنَّهُ لَنَا بِشَيْءٍ، وَمَا نَصْنَعُ بِهِ؟!، قَالَ:" بِكَمْ تُحِبُّونَ أَنَّهُ لَكُمْ؟!"، قَالُوا: وَاللَّهِ لَوْ كَانَ حَيًّا، لَكَانَ عَيْبًا فِيهِ أَنَّهُ أَسَكُّ، فَكَيْفَ وَهُوَ مَيِّتٌ!، قَالَ:" فَوَاللَّهِ لَلدُّنْيَا أَهْوَنُ عَلَى اللَّهِ مِنْ هَذَا عَلَيْكُمْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک دفعہ کسی بازار سے گزر رہے تھے وہاں ایک بہت چھوٹے کانوں والی مردار بکری پڑی ہوئی تھی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے پکڑ کر اٹھایا اور لوگوں سے فرمایا: تم اسے کتنے میں خریدنا چاہتے ہو لوگوں نے کہا ہم تو اسے کسی چیز کے عوض نہیں خریدنا چاہتے ہم نے اس کا کیا کرنا ہے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پھر اپنی بات دہرائی لوگوں نے کہا کہ اگر یہ زندہ ہو تی تو تب بھی اس میں چھوٹے کانوں والی ہو نا ایک عیب ہے اب جبکہ مرادار بھی تو ہم اسے کیسے خرید سکتے ہیں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: بخدا یہ بکری تمہاری نگاہوں میں جتنی حقیر ہے اس سے زیادہ اللہ کی نگاہوں میں دنیا حقیر ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14930]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2957
الحكم: إسناده صحيح، م: 2957
حدیث نمبر: 14931 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، أَيُّوبُ ، مُجَاهِدٌ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، حَدَّثَنَا مُجَاهِدٌ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ:" قَدِمْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَنَحْنُ نَقُولُ: لَبَّيْكَ بِالْحَجِّ، فَأَمَرَنَا فَجَعَلْنَاهَا عُمْرَةً".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ حج کا تلبیہ پڑھتے ہوئے نکلے تھے لیکن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں حکم دیا اور ہم نے اسے عمرہ کا احرام بنالیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14931]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1570، م: 1216
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1570، م: 1216