بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مُسْنَدُ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1188
صفحہ 55 از 60
حدیث نمبر: 15192 مسند احمد
أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، إِسْرَائِيلُ ، عُثْمَانَ يَعْنِي ابْنَ الْمُغِيرَةِ ، سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ , عَنْ عُثْمَانَ يَعْنِي ابْنَ الْمُغِيرَةِ , عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ , عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْرِضُ نَفْسَهُ عَلَى النَّاسِ بِالْمَوْقِفِ , فَيَقُولُ:" هَلْ مِنْ رَجُلٍ يَحْمِلُنِي إِلَى قَوْمِهِ؟ فَإِنَّ قُرَيْشًا قَدْ مَنَعُونِي أَنْ أُبَلِّغَ كَلَامَ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ" فَأَتَاهُ رَجُلٌ مِنْ هَمْدَانَ , فَقَالَ:" مِمَّنْ أَنْتَ؟"، فَقَالَ الرَّجُلُ مِنْ هَمْدَانَ، قَالَ:" فَهَلْ عِنْدَ قَوْمِكَ مِنْ مَنَعَةٍ؟"، قَالَ: نَعَمْ، ثُمَّ إِنَّ الرَّجُلَ خَشِيَ أَنْ يَحْقِرَهُ قَوْمُهُ , فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ: آتِيهِمْ فَأُخْبِرُهُمْ ثُمَّ آتِيكَ مِنْ عَامٍ قَابِلٍ، قَالَ:" نَعَمْ"، فَانْطَلَقَ , وَجَاءَ وَفْدُ الْأَنْصَارِ فِي رَجَبٍ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم منیٰ اور عرفات کے میدانوں میں اپنے آپ کو لوگوں کے سامنے پیش فرماتے اور ان سے فرماتے کہ کیا کوئی ایسا آدمی ہے جو مجھے اپنی قوم میں لے جائے کیونکہ قریش نے مجھے اس بات سے روک رکھا ہے کہ میں اپنے رب کا کلام اور پیغام لوگوں تک پہنچا سکوں اس دوران ہمدان کا ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آیا اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے پوچھا کہ تمہارا تعلق کس قبیلے سے ہے اس نے کہا ہمدان سے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے پوچھا کہ کیا تمہیں اپنی قوم میں کوئی اہمیت و مرتبہ حاصل ہے اس نے کہا جی ہاں پھر اس کے دل میں کھٹکا پیدا ہوا کہ کہیں اس کی قوم اسے ذلیل ہی نہ کر دے اس لئے اس نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے عرض کیا: پہلے میں اپنی قوم میں جا کر انہیں مطلع کرتا ہوں پھر آئندہ سال میں آپ کے پاس آؤں گا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: بہت اچھا اس پر وہ چلا گیا اور اگلے سال سے پہلے رجب ہی میں انصار کا وفد پہنچ گیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 15192]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 15193 مسند احمد
هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، شُعْبَةُ ، مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ ، جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيَّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ , حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ , قَال: َ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيَّ , قَالَ: تَزَوَّجْتُ , فَقَالَ لِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا تَزَوَّجْتَ؟"، قَالَ: قُلْتُ: تَزَوَّجْتُ ثَيِّبًا , فَقَالَ:" مَا لَكَ وَلِلْعَذَارَى وَلِعَابِهَا!"، قَالَ شُعْبَةُ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِعَمْرِو بْنِ دِينَارٍ , فَقَالَ: سَمِعْتُ جَابِرًا، يَقُولُ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَفَهَلَّا جَارِيَةً تُلَاعِبُهَا وَتُلَاعِبُكَ؟!" حَدَّثَنَاهُمَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ يَعْنِي شَاذَانَ , الْمَعْنَى.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے شادی کر لی ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے پوچھا کہ تم نے کس سے شادی کی ہے میں نے عرض کیا: کہ شوہردیدہ سے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ کنواری سے نکاح کیوں نہیں کیا کہ تم ایک دوسرے سے کھیلتے؟ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کنواری سے نکاح کیوں نہ کیا کہ تم اس سے کھیلتے ہواور وہ تم سے کھیلتی؟ گزشہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 15193]
حکم دارالسلام
إسناداه صحيحان، خ: 5080، م: 715
الحكم: إسناداه صحيحان، خ: 5080، م: 715
حدیث نمبر: 15194 مسند احمد
هَاشِمٌ ، شُعْبَةُ ، الْجُرَيْرِيِّ ، أَبِي نَضْرَةَ ، جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمٌ , حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , عَنِ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، قَالَ: قَالَ جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ , أَرَدْنَا أَنْ نَبِيعَ دُورَنَا , وَنَتَحَوَّلَ قَرِيبًا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَجْلِ الصَّلَاةِ , قَالَ: فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ: يَا فُلَانُ , لِرَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ ," دِيَارَكُمْ فَإِنَّهَا تُكْتَبُ آثَارُكُمْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ بنوسلمہ کے لوگوں کا یہ ارادہ ہوا کہ وہ اپنا گھربیچ کر مسجد کے قریب منتقل ہو جائیں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو جب یہ بات معلوم ہوئی تو آپ نے ان سے فرمایا: اپنے گھروں میں ہی رہو تمہارے نشانات قدم کا بھی ثواب لکھا جائے گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 15194]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 665
الحكم: إسناده صحيح، م: 665
حدیث نمبر: 15195 مسند احمد
أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، إِسْرَائِيلُ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، سَعِيدِ بْنِ أَبِي كَرْبٍ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ , عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي كَرْبٍ , عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , قَالَ: رَأَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رِجْلِ رَجُلٍ مِنَّا مِثْلَ الدِّرْهَمِ , لَمْ يَغْسِلْهُ , فَقَالَ:" وَيْلٌ لِلْعَقِبِ مِنَ النَّارِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک آدمی کو دیکھا جس کے پاؤں پر ایک درہم کے برابر کی جگہ نہ ڈھل سکتی تھی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ ایڑیوں کے لئے جہنم کی آگ سے ہلاکت ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 15195]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 15196 مسند احمد
أَسْوَدُ ، شَرِيكٌ ، سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، عَطَاءٍ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ , عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ , عَنْ عَطَاءٍ , عَنْ جَابِرٍ " أَنَّ رَجُلًا دَبَّرَ عَبْدًا لَهُ وَعَلَيْهِ دَيْنٌ , فَبَاعَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي دَيْنِ مَوْلَاهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے اپنے غلام کو مدبربنادیا وہ آدمی خود مقروض تھا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مدبر غلام کو اس کے آقا کے قرض کی ادائیگی کے لئے بیچ دیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 15196]
حکم دارالسلام
حديث صحيح دون قوله: وعليه دين ۔۔۔۔ إلخ، وهذا إسناد ضعيف لضعف شريك النخعي، وانظر: 14934
الحكم: حديث صحيح دون قوله: وعليه دين ۔۔۔۔ إلخ، وهذا إسناد ضعيف لضعف شريك النخعي، وانظر: 14934
حدیث نمبر: 15197 مسند احمد
النَّضْرُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْقَاصُّ وَهُو أَبُو الْمُغِيرَةِ ، ابْنُ أَبِي لَيْلَى ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْقَاصُّ وَهُو أَبُو الْمُغِيرَةِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي لَيْلَى , عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يَمُوتَنَّ أَحَدُكُمْ إِلَّا وَهُوَ يُحْسِنُ بِاللَّهِ الظَّنَّ , فَإِنَّ قَوْمًا قَدْ أَرْدَاهُمْ سُوءُ ظَنِّهِمْ بِاللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ , فَقَالَ اللَّه وَذَلِكُمْ ظَنُّكُمُ الَّذِي ظَنَنْتُمْ بِرَبِّكُمْ أَرْدَاكُمْ فَأَصْبَحْتُمْ مِنَ الْخَاسِرِينَ سورة فصلت آية 23".
حدیث نمبر: 15198 مسند احمد
أَبُو مُعَاوِيَةَ ، الْأَعْمَشِ ، أَبِي سُفْيَانَ ، جَابِرٍ
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يُعَذَّبُ نَاسٌ مِنْ أَهْلِ التَّوْحِيدِ فِي النَّارِ حَتَّى يَكُونُوا حُمَمًا فِيهَا , ثُمَّ تُدْرِكُهُمُ الرَّحْمَةُ , فَيَخْرُجُونَ فَيُلْقَوْنَ عَلَى بَابِ الْجَنَّةِ، فَيَرُشُّ عَلَيْهِمْ أَهْلُ الْجَنَّةِ الْمَاءَ , فَيَنْبُتُونَ كَمَا يَنْبُتُ الْغُثَاءُ فِي حِمَالَةِ السَّيْلِ , ثُمَّ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اہل توحید میں سے کچھ لوگ جہنم میں عذاب دیئے جائیں گے جب وہ جل کر کوئلہ ہو جائیں گے تو رحمت الٰہی ان کی دستگیری کر ے گی اور انہیں جہنم سے نکال کر جنت کے دروازے پر ڈال دیا جائے گا اور ان پر اہل جنت پانی چھڑکے گے جس سے وہ اس طرح اگ آئیں گے جیسے سیلاب میں جھاڑ جھنکار اگ آتے ہیں پھر وہ جنت میں داخل ہو جائیں گے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 15198]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد قوي
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد قوي
حدیث نمبر: 15199 مسند احمد
أَبُو مُعَاوِيَةَ ، الْأَعْمَشِ ، أَبِي سُفْيَانَ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اللَّهُمَّ أَيُّمَا مُؤْمِنٍ سَبَبْتُهُ , أَوْ لَعَنْتُهُ , أَوْ جَلَدْتُهُ , فَاجْعَلْهَا لَهُ زَكَاةً وَأَجْرًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے اللہ میرے منہ سے جس مسلمان کے متعلق سخت کلمات نکل جائیں وہ اس کے لئے باعث تزکیہ واجر ثواب بنادے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 15199]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 2602، وهذا إسناد قوي كسابقه
الحكم: حديث صحيح، م: 2602، وهذا إسناد قوي كسابقه
حدیث نمبر: 15200 مسند احمد
أَبُو مُعَاوِيَةَ ، الْأَعْمَشِ ، أَبِي سُفْيَانَ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ , قَالَ: أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ , فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , مَا الْمُوجِبَتَانِ؟، قَالَ" مَنْ مَاتَ لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا , دَخَلَ الْجَنَّةَ , وَمَنْ مَاتَ يُشْرِكُ بِاللَّهِ , دَخَلَ النَّارَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی بارگاہ نبوت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! واجب کرنے والی دو چیزیں کون سی ہیں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اللہ سے اس حال میں ملے کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو وہ جنت میں داخل ہو گا اور جو اللہ سے اس حال میں ملاقات کر ے کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہراتا ہو تو وہ جہنم میں داخل ہو گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 15200]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 93، وهذا إسناد قوي
الحكم: حديث صحيح، م: 93، وهذا إسناد قوي
حدیث نمبر: 15201 مسند احمد
أَبُو مُعَاوِيَةَ ، الْأَعْمَشِ ، أَبِي سُفْيَانَ ، جَابِرٍ
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ غَرَسَ غَرْسًا , فَأَكَلَ مِنْهُ إِنْسَانٌ , أَوْ طَيْرٌ , أَوْ سَبُعٌ , أَوْ دَابَّةٌ , فَهُوَ لَهُ صَدَقَةٌ"
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد قوي، م: 1552
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد قوي، م: 1552
حدیث نمبر: 15202 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، الْأَعْمَشُ ، أَبِي سُفْيَانَ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) 14880 حدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ , قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ ," مَا الْمُوجِبَتَانِ؟" فَذَكَرَ الْحَدِيثَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص کوئی پودالگائے یا کوئی فصل اگائے اور اس بات سے انسان پرندے درندے یا چوپائے کھائیں تو وہ اس کے لئے باعث صدقہ ہے۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 15202]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد قوي، م: 93
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد قوي، م: 93
حدیث نمبر: 15203 مسند احمد
عَفَّانُ ، أَبُو عَوَانَةَ ، الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ ، نُبَيْحٍ الْعَنَزِيِّ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ , حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ , عَنْ نُبَيْحٍ الْعَنَزِيِّ , عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يَطْرُقَنَّ أَحَدُكُمْ أَهْلَهُ لَيْلًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم رات کے وقت شہر میں داخل ہو تو بلا اطلاع کئے اپنے گھرمت جاؤ۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 15203]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، وانظر: 14194
الحكم: إسناده صحيح، وانظر: 14194
حدیث نمبر: 15204 مسند احمد
عَفَّانُ ، سَلِيمُ بْنُ حَيَّانَ ، سَعِيدُ بْنُ مِينَاءَ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ , حَدَّثَنَا سَلِيمُ بْنُ حَيَّانَ , حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مِينَاءَ , عَنْ جَابِرٍ , قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمُزَابَنَةِ , وَالْمُحَاقَلَةِ , وَالْمُخَابَرَةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بیع محاقلہ مزابنہ اور بٹائی سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 15204]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1536
الحكم: إسناده صحيح، م: 1536
حدیث نمبر: 15205 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادٌ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ , حَدَّثَنَا حَمَّادٌ , عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يُصَلِّي فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ , قَدْ خَالَفَ بَيْنَ طَرَفَيْهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ مجھے ایک صاحب نے بتایا ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو ایک کپڑے میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے جس کے دونوں کنارے مخالف سمت میں تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 15205]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 518
الحكم: إسناده صحيح، م: 518
حدیث نمبر: 15206 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادٌ ، عَمَّارِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ , حَدَّثَنَا حَمَّادٌ , عَنْ عَمَّارِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ , عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , قَالَ: قُتِلَ أَبِي يَوْمَ أُحُدٍ , وَتَرَكَ حَدِيقَتَيْنِ، وَلِيَهُودِيٍّ عَلَيْهِ تَمْرٌ , وَتَمْرُ الْيَهُودِيِّ يَسْتَوْعِبُ مَا فِي الْحَدِيقَتَيْنِ , فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هَلْ لَكَ أَنْ تَأْخُذَ الْعَامَ بَعْضًا , وَتُؤَخِّرَ بَعْضًا إِلَى قَابِلٍ؟"، فَأَبَى , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا حَضَرَ الْجِدَادُ فَآذِنِّي"، قَالَ: فَآذَنْتُهُ , فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ , فَجَعَلْنَا نَجِدُّ , وَيُكَالُ لَهُ مِنْ أَسْفَلِ النَّخْلِ , وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُو بِالْبَرَكَةِ , حَتَّى أَوْفَيْنَاهُ جَمِيعَ حَقِّهِ , مِنْ أَصْغَرِ الْحَدِيقَتَيْنِ فِيمَا يَحْسِبُ عَمَّارٌ ثُمَّ أَتَيْنَاهُمْ بِرُطَبٍ وَمَاءٍ , فَأَكَلُوا وَشَرِبُوا , ثُمَّ قَالَ:" هَذَا مِنَ النَّعِيمِ الَّذِي تُسْأَلُونَ عَنْهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ان کے والد سیدنا عبداللہ بن عمرو بن حرام شہید ہوئے تو ان پر ایک یہو دی کا کھجور کا کچھ قرض تھا وہ ترکے میں دو باغ چھوڑ گئے تھے ان دونوں کے سارے پھل کو یہو دی کا قرض گھیرے ہوئے تھا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس یہو دی سے فرمایا: کیا یہ ممکن ہے کہ تم کچھ کھجور اس سال لے لو اور کچھ اگلے سال کے لئے موخر کر دو اس نے انکار کر دیا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جب کھجور کاٹنے کا وقت آئے تو مجھے بلا لو میں نے ایسا ہی کیا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم حضرات شیخین کے ہمراہ تشریف لائے اور سب سے اوپر یا درمیان تشریف فرما ہوئے اور مجھ سے فرمایا: لوگوں کو ناپ کر دینا شروع کر دو اور خود دعا کرنے لگے چنانچہ میں نے سب کو ناپ کر دینا شروع کر دیا حتی کہ چھوٹے باغ ہی سے سب کا قرض پورا ہو گیا اس کے بعد میں نے کھانے کے لئے تر کھجوریں اور پینے کے لئے پانی پیش کیا انہوں نے اسے کھایا پیا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: یہی وہ نعمتیں ہیں جن کے متعلق قیامت کے دن تم سے پوچھا: جائے گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 15206]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 15207 مسند احمد
رَوْحٌ ، الثَّوْرِيُّ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا الثَّوْرِيُّ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , قَالَ:" أَفَاضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ السَّكِينَةُ , وَأَمَرَهُمْ بِالسَّكِينَةِ , وَأَمَرَهُمْ أَنْ يَرْمُوا بِمِثْلِ حَصَى الْخَذْفِ , وَأَوْضَعَ فِي وَادِي مُحَسِّرٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے روانہ ہوتے وقت اپنی رفتار آہستہ رکھی اور لوگوں کو بھی اسی کا حکم دیا لیکن وادی محسر میں اپنی سواری کی رفتار کو تیز کر دیا اور انہیں حکم دیا کہ شیطان کو کنکر یاں ٹھیکر ی کی بنی ہوئی مارا کرو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 15207]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 15208 مسند احمد
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ , أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ , يَقُولُ: وَلَا أَدْرِي بِكَمْ رَمَى الْجَمْرَةَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھے معلوم نہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کتنی کنکریاں ماری ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 15208]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، انظر لزاما: 14832
الحكم: إسناده صحيح، انظر لزاما: 14832
حدیث نمبر: 15209 مسند احمد
أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، أَبُو بَكْرٍ ، أَجْلَحَ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ ، عَنْ أَجْلَحَ , عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَائِشَةَ:" أَهَدَيْتُمِ الْجَارِيَةَ إِلَى بَيْتِهَا؟"، قَالَتْ: نَعَمْ، قَالَ:" فَهَلَّا بَعَثْتُمْ مَعَهُمْ مَنْ يُغَنِّيهِمْ، يَقُولُ: أَتَيْنَاكُمْ أَتَيْنَاكُمْ فَحَيُّونَا نُحَيَّاكُمْ فَإِنَّ الْأَنْصَارَ قَوْمٌ فِيهِمْ غَزَلٌ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سیدنا عائشہ رضی اللہ عنہ پوچھا کہ کیا تم نے باندی کو اس کے اہل خانہ کے حوالے کر دیا انہوں نے عرض کیا: جی ہاں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تم نے ان کے ساتھ کسی گانے والے کو کیوں نہیں بھیجا جو یہ گاناسناتا کہ ہم تمہارے پاس آئے ہم تمہارے پاس آئے سو تم ہمیں خوش آمدید کہو ہم تمہیں خوش آمدید کہیں گے کیونکہ انصار میں اس چیز کا رواج ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 15209]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، أجلح - وهو ابن عبدالله ابن حجية - ضعيف يعتبر به، وأبو الزبير لم يصرح بسماعه من جابر
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، أجلح - وهو ابن عبدالله ابن حجية - ضعيف يعتبر به، وأبو الزبير لم يصرح بسماعه من جابر
حدیث نمبر: 15210 مسند احمد
النَّضْرُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ أَبُو الْمُغِيرَةِ ، ابْنُ أَبِي لَيْلَى ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ أَبُو الْمُغِيرَةِ , حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي لَيْلَى , عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ , قَالَ: أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ , فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , أَيُّ الصَّلَاةِ أَفْضَلُ؟، قَالَ:" طُولُ الْقُنُوتِ"، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , وَأَيُّ الْجِهَادِ أَفْضَلُ؟، قَالَ:" مَنْ عُقِرَ جَوَادُهُ , وَأُرِيقَ دَمُهُ"، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , أَيُّ الْهِجْرَةِ أَفْضَلُ؟، قَالَ:" مَنْ هَجَرَ مَا كَرِهَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ"، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , فَأَيُّ الْمُسْلِمِينَ أَفْضَلُ؟، قَالَ:" مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ"، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , فَمَا الْمُوجِبَتَانِ؟، قَالَ" مَنْ مَاتَ لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا , دَخَلَ الْجَنَّةَ , وَمَنْ مَاتَ يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا , دَخَلَ النَّارَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے کسی نے پوچھا کہ یا رسول اللہ! کون سی نماز سب سے افضل ہے فرمایا: لمبی نماز اس نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھا کہ یا رسول اللہ! سب سے افضل جہاد کون سا ہے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اس شخص کا جس کے گھوڑے کے پاؤں کٹ جائیں اور اس کا اپنا خون بہہ جائے اس نے پوچھا کہ کون سی ہجرت سب سے افضل ہے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی ناپسندیدہ چیزوں کو ترک کر دینا۔ اس نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کون سا اسلام افضل ہے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ دوسرے مسلمان جس کی زبان اور ہاتھ سے محفوظ رہیں۔ اس نے پوچھا کہ یا رسول اللہ! دو واجب کرنے والی چیزیں کون سی ہیں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اللہ سے اس حال میں ملے کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرانا ہو وہ جنت میں داخل ہو گا اور جو اس حال میں مرے کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہراتا ہو وہ جہنم میں داخل ہو گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 15210]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م- القطعة الأخيرة -: 93، وهذا إسناد ضعيف، النضر بن إسماعيل ليس بالقوي، وابن أبى ليلى سيئ الحفظ، وكلاهما متابع
الحكم: حديث صحيح، م- القطعة الأخيرة -: 93، وهذا إسناد ضعيف، النضر بن إسماعيل ليس بالقوي، وابن أبى ليلى سيئ الحفظ، وكلاهما متابع
حدیث نمبر: 15211 مسند احمد
إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ ، عَبْدُ الْمَلِكِ ، عَطَاءٍ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ , عَنْ عَطَاءٍ , عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّهُ قَالَ:" مَنْ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ فَلْيَزْرَعْهَا , فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ أَنْ يَزْرَعَهَا وَعَجَزَ عَنْهَا , فَلْيَمْنَحْهَا أَخَاهُ الْمُسْلِمَ وَلَا يُؤَاجِرْهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس شخص کے پاس کوئی زمین ہواسے چاہئے کہ وہ خود اس میں کھیتی باڑی کر ے اگر خود نہیں کر سکتا یا اس سے عاجز ہو تو اپنے بھائی کو ہدیہ کے طور پردے دے کرایہ پر نہ دے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 15211]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2340، م: 1536
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2340، م: 1536