أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، أَبُو بَكْرٍ ، أَجْلَحَ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ ، عَنْ أَجْلَحَ , عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَائِشَةَ:" أَهَدَيْتُمِ الْجَارِيَةَ إِلَى بَيْتِهَا؟"، قَالَتْ: نَعَمْ، قَالَ:" فَهَلَّا بَعَثْتُمْ مَعَهُمْ مَنْ يُغَنِّيهِمْ، يَقُولُ: أَتَيْنَاكُمْ أَتَيْنَاكُمْ فَحَيُّونَا نُحَيَّاكُمْ فَإِنَّ الْأَنْصَارَ قَوْمٌ فِيهِمْ غَزَلٌ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سیدنا عائشہ رضی اللہ عنہ پوچھا کہ کیا تم نے باندی کو اس کے اہل خانہ کے حوالے کر دیا انہوں نے عرض کیا: جی ہاں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تم نے ان کے ساتھ کسی گانے والے کو کیوں نہیں بھیجا جو یہ گاناسناتا کہ ہم تمہارے پاس آئے ہم تمہارے پاس آئے سو تم ہمیں خوش آمدید کہو ہم تمہیں خوش آمدید کہیں گے کیونکہ انصار میں اس چیز کا رواج ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 15209]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، أجلح - وهو ابن عبدالله ابن حجية - ضعيف يعتبر به، وأبو الزبير لم يصرح بسماعه من جابر
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، أجلح - وهو ابن عبدالله ابن حجية - ضعيف يعتبر به، وأبو الزبير لم يصرح بسماعه من جابر