بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 15192
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 15192
حدیث نمبر: 15192 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، إِسْرَائِيلُ ، عُثْمَانَ يَعْنِي ابْنَ الْمُغِيرَةِ ، سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ , عَنْ عُثْمَانَ يَعْنِي ابْنَ الْمُغِيرَةِ , عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ , عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْرِضُ نَفْسَهُ عَلَى النَّاسِ بِالْمَوْقِفِ , فَيَقُولُ:" هَلْ مِنْ رَجُلٍ يَحْمِلُنِي إِلَى قَوْمِهِ؟ فَإِنَّ قُرَيْشًا قَدْ مَنَعُونِي أَنْ أُبَلِّغَ كَلَامَ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ" فَأَتَاهُ رَجُلٌ مِنْ هَمْدَانَ , فَقَالَ:" مِمَّنْ أَنْتَ؟"، فَقَالَ الرَّجُلُ مِنْ هَمْدَانَ، قَالَ:" فَهَلْ عِنْدَ قَوْمِكَ مِنْ مَنَعَةٍ؟"، قَالَ: نَعَمْ، ثُمَّ إِنَّ الرَّجُلَ خَشِيَ أَنْ يَحْقِرَهُ قَوْمُهُ , فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ: آتِيهِمْ فَأُخْبِرُهُمْ ثُمَّ آتِيكَ مِنْ عَامٍ قَابِلٍ، قَالَ:" نَعَمْ"، فَانْطَلَقَ , وَجَاءَ وَفْدُ الْأَنْصَارِ فِي رَجَبٍ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم منیٰ اور عرفات کے میدانوں میں اپنے آپ کو لوگوں کے سامنے پیش فرماتے اور ان سے فرماتے کہ کیا کوئی ایسا آدمی ہے جو مجھے اپنی قوم میں لے جائے کیونکہ قریش نے مجھے اس بات سے روک رکھا ہے کہ میں اپنے رب کا کلام اور پیغام لوگوں تک پہنچا سکوں اس دوران ہمدان کا ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آیا اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے پوچھا کہ تمہارا تعلق کس قبیلے سے ہے اس نے کہا ہمدان سے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے پوچھا کہ کیا تمہیں اپنی قوم میں کوئی اہمیت و مرتبہ حاصل ہے اس نے کہا جی ہاں پھر اس کے دل میں کھٹکا پیدا ہوا کہ کہیں اس کی قوم اسے ذلیل ہی نہ کر دے اس لئے اس نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے عرض کیا: پہلے میں اپنی قوم میں جا کر انہیں مطلع کرتا ہوں پھر آئندہ سال میں آپ کے پاس آؤں گا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: بہت اچھا اس پر وہ چلا گیا اور اگلے سال سے پہلے رجب ہی میں انصار کا وفد پہنچ گیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 15192]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
← پچھلی حدیث (15191) باب پر واپس اگلی حدیث (15193) →