بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مُسْنَدُ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1188
صفحہ 59 از 60
حدیث نمبر: 15272 مسند احمد
مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ , حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ , عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ , قَالَ: مَرَّ بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْغَائِطِ , فَدَعَوْنَاهُ إِلَى عَجْوَةٍ بَيْنَ أَيْدِينَا عَلَى تُرْسٍ , فَأَكَلَ مِنْهَا , وَلَمْ يَكُنْ تَوَضَّأَ قَبْلَ أَنْ يَأْكُلَ مِنْهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کسی گھاٹی سے قضا حاجت کر کے لوٹتے ہوئے ہمارے پاس سے گزرے ہم نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو عجوہ کھجور کی دعوت دی جو ہمارے سامنے ایک ڈھال پر رکھی ہوئی تھی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے تناول فرمالیا اور کھانے سے پہلے وضو نہیں فرمایا:۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 15272]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف ابن لهيعة وتوبع، لكن أبا الزبير لم يصرح بسماعه من جابر
الحكم: إسناده ضعيف لضعف ابن لهيعة وتوبع، لكن أبا الزبير لم يصرح بسماعه من جابر
حدیث نمبر: 15273 مسند احمد
خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ ، خَالِدٌ ، حُمَيْدٍ الْأَعْرَجِ ، مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ , حَدَّثَنَا خَالِدٌ , عَنْ حُمَيْدٍ الْأَعْرَجِ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ , عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ نَقْرَأُ الْقُرْآنَ , وَفِينَا الْعَجَمِيُّ وَالْأَعْرَابِيُّ , قَالَ: فَاسْتَمَعَ , فَقَالَ:" اقْرَءُوا , فَكُلٌّ حَسَنٌ , وَسَيَأْتِي قَوْمٌ يُقِيمُونَهُ كَمَا يُقَامُ الْقِدْحُ , يَتَعَجَّلُونَهُ وَلَا يَتَأَجَّلُونَهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مسجد میں داخل ہوئے تو دیکھا کہ کچھ لوگ قرآن کر یم کی تلاوت کر رہے ہیں ہم میں عجمی اور دیہاتی بھی تھے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: قرآن کر یم کی تلاوت کیا کر و اور اس کے ذریعے اللہ کا فضل مانگو اس سے پہلے کہ ایسی قوم آ جائے جو اسے اپنے تیروں کی جگہ رکھ لے گی اور وہ جلد بازی کر یں گے اس میں کسی قسم کی تاخیر نہیں کر یں گے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 15273]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 15274 مسند احمد
خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ ، الرَّبِيعُ يَعْنِي ابْنَ صَبِيحٍ ، أَبِي الزُّبَيْرِ الْمَكِّيِّ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ , حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ يَعْنِي ابْنَ صَبِيحٍ , عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ الْمَكِّيِّ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَانَا عَنْ أَكْلِ الْكُرَّاثِ وَالْبَصَلِ"، قَالَ الرَّبِيعُ فَسَأَلْتُ عَطَاءً عَنْ ذَلِكَ , فَقَالَ: حَدَّثَنِي جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں پیاز اور لہسن سے منع فرمایا ہے۔ ربیع کہتے ہیں کہ میں نے عطاء سے اس کے متعلق پوچھا: تو انہوں نے بتایا کہ مجھے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث سنائی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 15274]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 564، وهذا إسناد ضعيف، الربيع بن صبيح سيئ الحفظ، وقد توبع، وأبو الزبير قد صرح بالسماع عند غير المصنف، وقد توبع أيضا
الحكم: حديث صحيح، م: 564، وهذا إسناد ضعيف، الربيع بن صبيح سيئ الحفظ، وقد توبع، وأبو الزبير قد صرح بالسماع عند غير المصنف، وقد توبع أيضا
حدیث نمبر: 15275 مسند احمد
مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، مَالِكٌ ، جَعْفَرٍ ، أَبِيهِ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ , حَدَّثَنَا مَالِكٌ , عَنْ جَعْفَرٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" رَمَلَ مِنَ الْحَجَرِ حَتَّى عَادَ إِلَيْهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حجر اسود والے کونے سے طواف شروع کیا رمل کرتے ہوئے چلے یہاں تک کہ وہ دوبارہ حجر اسود پر آ گئے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 15275]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1263
الحكم: إسناده صحيح، م: 1263
حدیث نمبر: 15276 مسند احمد
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ ، ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَطَاءٍ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ , حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ , عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ , عَنْ عَطَاءٍ , عَنْ جَابِرٍ , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ لَهُ:" قَدْ أَخَذْتُ جَمَلَكَ بِأَرْبَعَةِ الدَّنَانِيرِ , وَلَكَ ظَهْرُهُ إِلَى الْمَدِينَة".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ میں نے تمہارا اونٹ چار دینار میں لے لیا اور مدینہ تک اس پر سوار ہو نے کی بھی اجازت ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 15276]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2309، م: 715
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2309، م: 715
حدیث نمبر: 15277 مسند احمد
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ ، مُجَالِدٍ ، الشَّعْبِيِّ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ , حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ ، عَنْ مُجَالِدٍ , عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ جَابِرٍ , قَالَ: كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَخَطَّ خَطًّا هَكَذَا أَمَامَهُ , فَقَالَ:" هَذَا سَبِيلُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ"، وَخَطَّيْنِ عَنْ يَمِينِهِ , وَخَطَّيْنِ عَنْ شِمَالِهِ , قَالَ:" هَذِهِ سَبِيلُ الشَّيْطَانِ"، ثُمَّ وَضَعَ يَدَهُ فِي الْخَطِّ الْأَوْسَطَ , ثُمَّ تَلَا هَذِهِ الْآيَةَ وَأَنَّ هَذَا صِرَاطِي مُسْتَقِيمًا فَاتَّبِعُوهُ وَلا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَنْ سَبِيلِهِ ذَلِكُمْ وَصَّاكُمْ بِهِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ سورة الأنعام آية 153.
حدیث نمبر: 15278 مسند احمد
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، حَفْصٌ ، مُجَالِدٍ ، الشَّعْبِيِّ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ عَبْد اللَّهِ، وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدٍ , حَدَّثَنَا حَفْصٌ , عَنْ مُجَالِدٍ , عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ جَابِرٍ , قَالَ:" نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَدْخُلَ عَلَى الْمُغِيبَاتِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے غیر حاضر شوہر والی عورت کے پاس جانے سے ہمیں منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 15278]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف مجالد بن سعيد، وانظر: 14324
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف مجالد بن سعيد، وانظر: 14324
حدیث نمبر: 15279 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ ، زُهَيْرٌ ، أَبُو الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ , حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ كَانَ شَرِيكًا فِي رَبْعَةٍ أَوْ نَخْلٍ , فَلَيْسَ لَهُ أَنْ يَبِيعَ حَتَّى يُؤْذِنَ شَرِيكَهُ , فَإِنْ رَضِيَ أَخَذَ , وَإِنْ كَرِهَ تَرَكَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص کسی زمین یا باغ میں شریک ہو وہ اپنے شریک کے ساتھ پیشکش کئے بغیر کسی دوسرے کے ہاتھ اسے فروخت نہ کر ے تاکہ اگر اس کی مرضی ہو تو وہ لے لے ورنہ چھوڑ دے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 15279]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، وأبو الزبير قد صرح بالتحديث عند غير المصنف، وانظر: 14292
الحكم: إسناده صحيح، وأبو الزبير قد صرح بالتحديث عند غير المصنف، وانظر: 14292
حدیث نمبر: 15280 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ ، زُهَيْرٌ ، أَبُو الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ , حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ , قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ , فَمُطِرْنَا , فَقَالَ:" مَنْ شَاءَ مِنْكُمْ فَلْيُصَلِّ فِي رَحْلِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ سفر میں نکلے راستے میں بارش ہو نے لگی تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں سے جو شخص اپنے خیمے میں نماز پڑھنا چاہے تو یہیں نماز پڑھ لے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 15280]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، م: 698، أبو الزبير لم يصرح بالتحديث، وانظر: 14503
الحكم: صحيح لغيره، م: 698، أبو الزبير لم يصرح بالتحديث، وانظر: 14503
حدیث نمبر: 15281 مسند احمد
عَفَّانُ ، أَبُو عَوَانَةَ ، الْأَسْوَدُ بْنُ قَيْسٍ ، نُبَيْحٍ الْعَنَزِيِّ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ , حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَسْوَدُ بْنُ قَيْسٍ , عَنْ نُبَيْحٍ الْعَنَزِيِّ , عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْمَدِينَةِ إِلَى الْمُشْرِكِينَ لِيُقَاتِلَهُمْ , وَقَالَ لِي أَبِي عَبْدُ اللَّهِ: يَا جَابِرُ , لَا عَلَيْكَ أَنْ تَكُونَ فِي نَظَّارِي أَهْلِ الْمَدِينَةِ حَتَّى تَعْلَمَ إِلَى مَا يَصِيرُ أَمْرُنَا , فَإِنِّي وَاللَّهِ لَوْلَا أَنِّي أَتْرُكُ بَنَاتٍ لِي بَعْدِي , لَأَحْبَبْتُ أَنْ تُقْتَلَ بَيْنَ يَدَيَّ، قَالَ: فَبَيْنَمَا أَنَا فِي النَّظَّارِينَ , إِذْ جَاءَتْ عَمَّتِي بِأَبِي وَخَالِي عَادِلَتَهُمَا عَلَى نَاضِحٍ , فَدَخَلَتْ بِهِمَا الْمَدِينَةَ لِتَدْفِنَهُمَا فِي مَقَابِرِنَا , إِذْ لَحِقَ رَجُلٌ يُنَادِي أَلَا إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تَرْجِعُوا بِالْقَتْلَى , فَتَدْفِنُوهَا فِي مَصَارِعِهَا حَيْثُ قُتِلَتْ، فَرَجَعْنَا بِهِمَا فَدَفَنَّاهُمَا حَيْثُ قُتِلَا، فَبَيْنَمَا أَنَا فِي خِلَافَةِ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ , إِذْ جَاءَنِي رَجُلٌ , فَقَالَ: يَا جَابِرُ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ , وَاللَّهِ لَقَدْ أَثَارَ أَبَاكَ عَمَلُ مُعَاوِيَةَ , فَبَدَا , فَخَرَجَ طَائِفَةٌ مِنْهُ، فَأَتَيْتُهُ , فَوَجَدْتُهُ عَلَى النَّحْوِ الَّذِي دَفَنْتُهُ , لَمْ يَتَغَيَّرْ , إِلَّا مَا لَمْ يَدَعِ الْقَتْلُ , أَوْ الْقَتِيلُ , فَوَارَيْتُهُ. قَالَ: وَتَرَكَ أَبِي عَلَيْهِ دَيْنًا مِنَ التَّمْرِ , فَاشْتَدَّ عَلَيَّ بَعْضُ غُرَمَائِهِ فِي التَّقَاضِي , فَأَتَيْتُ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ , إِنَّ أَبِي أُصِيبَ يَوْمَ كَذَا وَكَذَا , وَتَرَكَ عَلَيَّ دَيْنًا مِنَ التَّمْرِ , وَاشْتَدَّ عَلَيَّ بَعْضُ غُرَمَائِهِ فِي التَّقَاضِي , فَأُحِبُّ أَنْ تُعِينَنِي عَلَيْهِ , لَعَلَّه أَنْ يُنَظِّرَنِي طَائِفَةً مِنْ تَمْرِهِ إِلَى هَذَا الصِّرَامِ الْمُقْبِلِ، فَقَالَ:" نَعَمْ , آتِيكَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ قَرِيبًا مِنْ وَسَطِ النَّهَارِ"، وَجَاءَ مَعَهُ حَوَارِيُّهُ , ثُمَّ اسْتَأْذَنَ فَدَخَلَ , وقَدْ قُلْتُ لِامْرَأَتِي: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَنِي الْيَوْمَ وَسَطَ النَّهَارِ , فَلَا أَرَيَنَّكِ , وَلَا تُؤْذِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِي بِشَيْءٍ , وَلَا تُكَلِّمِيهِ، فَدَخَلَ، فَفَرَشَتْ لَهُ فِرَاشًا وَوِسَادَةً , فَوَضَعَ رَأْسَهُ , فَنَامَ، قَالَ: وَقُلْتُ لِمَوْلًى لِيَ: اذْبَحْ هَذِهِ الْعَنَاقَ وَهِيَ دَاجِنٌ سَمِينَةٌ , وَالْوَحَا وَالْعَجَلَ , افْرُغْ مِنْهَا قَبْلَ أَنْ يَسْتَيْقِظَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَأَنَا مَعَكَ. فَلَمْ نَزَلْ فِيهَا , حَتَّى فَرَغْنَا مِنْهَا , وَهُوَ نَائِمٌ , فَقُلْتُ لَهُ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اسْتَيْقَظَ يَدْعُو بِالطَّهُورِ , وَإِنِّي أَخَافُ إِذَا فَرَغَ أَنْ يَقُومَ فَلَا يَفْرَغَنَّ مِنْ وُضُوئِهِ حَتَّى تَضَعَ الْعَنَاقَ بَيْنَ يَدَيْهِ , فَلَمَّا قَامَ , قَالَ:" يَا جَابِرُ , ائْتِنِي بِطَهُورٍ"، فَلَمْ يَفْرُغْ مِنْ طُهُورِهِ , حَتَّى وَضَعْتُ الْعَنَاقَ عِنْدَهُ , فَنَظَرَ إِلَيَّ , فَقَالَ:" كَأَنَّكَ قَدْ عَلِمْتَ حُبَّنَا لِلَّحْمِ , ادْعُ لِي أَبَا بَكْرٍ"، قَالَ: ثُمَّ دَعَا حَوَارِيَّيْهِ اللَّذَيْنَ مَعَهُ , فَدَخَلُوا , فَضَرَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدَهُ، وَقَالَ:" بِسْمِ اللَّهِ , كُلُوا"، فَأَكَلُوا حَتَّى شَبِعُوا , وَفَضَلَ لَحْمٌ مِنْهَا كَثِيرٌ، قَالَ: وَاللَّهِ إِنَّ مَجْلِسَ بَنِي سَلِمَةَ لَيَنْظُرُونَ إِلَيْهِ , وَهُوَ أَحَبُّ إِلَيْهِمْ مِنْ أَعْيُنِهِمْ مَا يَقْرُبُهُ رَجُلٌ مِنْهُمْ , مَخَافَةَ أَنْ يُؤْذُوهُ , فَلَمَّا فَرَغَ قَامَ وَقَامَ أَصْحَابُهُ , فَخَرَجُوا بَيْنَ يَدَيْهِ , وَكَانَ يَقُولُ:" خَلُّوا ظَهْرِي لِلْمَلَائِكَةِ"، وَاتَّبَعْتُهُمْ حَتَّى بَلَغُوا أُسْكُفَّةَ الْبَابِ، قَالَ: وَأَخْرَجَتِ امْرَأَتِي صَدْرَهَا , وَكَانَتْ مُسْتَتِرَةً بِسَقِيفٍ فِي الْبَيْتِ , قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , صَلِّ عَلَيَّ وَعَلَى زَوْجِي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْكَ، فَقَالَ:" صَلَّى اللَّهُ عَلَيْكِ , وَعَلَى زَوْجِكِ"، ثُمَّ قَالَ:" ادْعُ لِي فُلَانًا" , لِغَرِيمِي الَّذِي اشْتَدَّ عَلَيَّ فِي الطَّلَبِ، قَالَ: فَجَاءَ، فَقَالَ:" أَيْسِرْ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ , يَعْنِي إِلَى الْمَيْسَرَةِ طَائِفَةً مِنْ دَيْنِكَ الَّذِي عَلَى أَبِيهِ , إِلَى هَذَا الصِّرَامِ الْمُقْبِلِ"، قَالَ: مَا أَنَا بِفَاعِلٍ، وَاعْتَلَّ , وَقَالَ: إِنَّمَا هُوَ مَالُ يَتَامَى، فَقَالَ:" أَيْنَ جَابِرٌ؟"، فَقَالَ: أَنَا ذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ:" كِلْ لَهُ , فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ سَوْفَ يُوَفِّيهِ" فَنَظَرْتُ إِلَى السَّمَاءِ , فَإِذَا الشَّمْسُ قَدْ دَلَكَتْ، قَالَ:" الصَّلَاةَ يَا أَبَا بَكْرٍ"، فَانْدَفَعُوا إِلَى الْمَسْجِدِ , فَقُلْتُ: قَرِّبْ أَوْعِيَتَكَ، فَكِلْتُ لَهُ مِنَ الْعَجْوَةِ , فَوَفَّاهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ , وَفَضَلَ لَنَا مِنَ التَّمْرِ كَذَا وَكَذَا , فَجِئْتُ أَسْعَى إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَسْجِدِهِ , كَأَنِّي شَرَارَةٌ , فَوَجَدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ صَلَّى , فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , أَلَمْ تَرَ أَنِّي كِلْتُ لِغَرِيمِي تَمْرَهُ فَوَفَّاهُ اللَّهُ , وَفَضَلَ لَنَا مِنَ التَّمْرِ كَذَا وَكَذَا، فَقَالَ:" أَيْنَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ؟"، فَجَاءَ يُهَرْوِلُ , فَقَالَ:" سَلْ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ غَرِيمِهِ وَتَمْرِهِ"، فَقَالَ: مَا أَنَا بِسَائِلِهِ , قَدْ عَلِمْتُ أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ سَوْفَ يُوَفِّيهِ , إِذْ أَخْبَرْتَ أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ سَوْفَ يُوَفِّيهِ، فَكَرَّرَ عَلَيْهِ هَذِهِ الْكَلِمَةَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ , كُلُّ ذَلِكَ يَقُولُ: مَا أَنَا بِسَائِلِهِ، وَكَانَ لَا يُرَاجِعُ بَعْدَ الْمَرَّةِ الثَّالِثَةِ , فَقَالَ: يَا جَابِرُ , مَا فَعَلَ غَرِيمُكَ وَتَمْرُكَ؟، قَالَ: قُلْتُ: وَفَّاهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ , وَفَضَلَ لَنَا مِنَ التَّمْرِ كَذَا وَكَذَا، فَرَجَعَ إِلَى امْرَأَتِهِ , فَقَالَ: أَلَمْ أَكُنْ نَهَيْتُكِ أَنْ تُكَلِّمِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟، قَالَتْ: أَكُنْتَ تَظُنُّ أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُورِدُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْتِي , ثُمَّ يَخْرُجُ وَلَا أَسْأَلُهُ الصَّلَاةَ عَلَيَّ وَعَلَى زَوْجِي قَبْلَ أَنْ يَخْرُجَ؟!.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مشرکین سے قتال کے لئے مدینہ منورہ سے نکلے مجھ سے میرے والد صاحب عبداللہ نے کہہ دیا تھا کہ جابر رضی اللہ عنہ تم اس وقت تک نہ نکلنا جب تک تمہیں یہ معلوم نہ ہو جائے کہ ہمارا انجام کیا ہوا واللہ اگر میں نے اپنے پیچھے بیٹیاں نہ چھوڑی ہو تیں تو میری خواہش ہو تی کہ تمہیں میرے سامنے شہادت نصیب ہو چنانچہ میں اپنے باغ میں ہی رہا کہ اچانک میری پھوپھی میرے والد اور میرے ماموں کو اونٹ پر لاد کر لے آئیں وہ مدینہ منورہ میں داخل ہوئیں تاکہ انہیں ہمارے قبرستان میں دفن کر دیں اچانک ایک آدمی منادی کرتا ہوا آیا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تمہیں حکم دیتے ہیں کہ اپنے مقتولین کو واپس لے جا کر اس جگہ دفن کر و جہاں وہ شہید ہوئے تھے چنانچہ ہم ان دونوں کو لے کر واپس لوٹے اور مقام شہادت میں انہیں دفن کر دیا۔ سیدنا امیر معاویہ کے دور خلافت میں ایک آدمی میرے پاس آیا اور کہنے لگا کہ اے جابر رضی اللہ عنہ سیدنا معاویہ کے گورنروں نے آپ کے والد کی قبر کھودی ہے اور وہ اپنی قبر میں نظر آرہے ہیں میں وہاں پہنچا تو اسی حال میں پایا جس حال میں میں نے انہیں دفن کیا تھا ان میں کسی قسم کی کوئی تبدیلی نہیں ہوئی تھی سوائے اس معمولی چیز کے جو قتل کی وجہ سے ہو ہی جاتی ہے پھر میں نے ان کی مکمل تدفین کی۔ میرے والد صاحب نے اپنے اوپر کھجوروں کا کچھ قرض بھی چھوڑا تھا قرض خواہوں نے اس کا تقاضا مجھ سے سختی سے کرنا شروع کر دیا مجبو رہو کر میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں آیا اور عرض کیا: اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میرے والد صاحب فلاں موقع پر شہید ہو گئے اور مجھ پر کھجور کا قرض چھوڑ گئے قرض خواہوں نے اس کا تقاضا مجھ سے سختی کے ساتھ کرنا شروع کر دیا میں چاہتا ہوں کہ آپ میرے ساتھ کچھ تعاون کر یں کہ وہ مجھے ایک سال کی مہلت دیں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اچھا میں تمہارے پاس نصف النہار کے وقت ان شاء اللہ آؤں گا چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم چند صحابہ کے ساتھ آ گئے اور اجازت لے کر گھر میں داخل ہوئے میں نے اپنی بیوی سے پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ نصف النہار کے وقت نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم آئیں گے لیکن تم مجھے نظر نہ آنا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو کوئی تکلیف پہنچانا اور نہ ہی ان سے کوئی فرمائش کرنا بہرحال اس نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے لئے بستر بچھا دیا اور تکیہ رکھا جس پر سر رکھ کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سو گئے۔ میں نے اپنے ایک غلام سے کہا کہ جلدی سے یہ بکری ذبح کر و اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بیدار ہو نے سے پہلے اس سے فارغ ہو جاؤ میں بھی تمہارا ساتھ دیتا ہوں چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بیدار ہو نے سے پہلے ہی ہم اس سے فارغ ہو گئے میں نے اس سے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب بیدار ہوں تو وضو کے لئے پانی منگوائیں گے جب وہ وضو سے فارغ ہوں توفورا ہی ان کے سامنے کھانا پیش کر دیا جائے چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ نیند سے بیدار ہو کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پانی منگوایا اور ابھی وضو فرما کر فارغ بھی نہ ہو نے پائے تھے کہ کھانا سامنے رکھ دیا گیا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے دیکھ کر فرمایا: شاید تمہیں بھی گوشت کی طرف ہماری رغبت کا اندازہ ہو گیا ہے ابوبکر کو بلاؤ پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے ساتھ آنے والے دیگر صحابہ کو بھی بلا لیا وہ آ گئے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کھانے میں ہاتھ ڈال دیا اور فرمایا: بسم اللہ کھاؤ ان سب نے خوب سیراب ہو کر کھایا پھر بھی بہت سا گوشت بچ گیا واللہ بنوسلمہ کے لوگ بیٹھے ہوئے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دیکھ رہے تھے یہ منظر ان کے لئے بڑا محبوب تھا لیکن وہ صرف اس بناء پر قریب نہ آتے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو کوئی ایذاء نہ پہنچ جائے۔ جب وہ لوگ کھانے سے فارغ ہوئے تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور آپ کے صحابہ کھڑے ہو گئے صحابہ آگے آگے چل رہے تھے اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرما رہے تھے کہ میری پشت کو فرشتوں کے لئے چھوڑ دو میں بھی ان کے پیچھے چل پڑا جب وہ دروازے کے قریب پہنچے تو میری بیوی نے ایک ستون کی آڑ سے کہا یا رسول اللہ! میرے لئے اور میرے شوہر کے لئے دعا کر دیجیے اللہ آپ پر درود بھیجے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تم اور تمہارے شوہر پر اپنی رحمتیں نازل کر ے پھر میرے قرض خواہ کا نام لے کر فرمایا: اسے بلا کر لاؤ یہ وہی شخص تھا جو بڑی سختی سے قرض کا مطالبہ کر رہا تھا وہ آیا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے فرمایا: جابر رضی اللہ عنہ پر اگلے سال تک کے لئے تھوڑی دیر آسانی کر دو اس نے کہا میں تو ایسا نہیں کر وں گا وہ مزید بدک گیا اور کہنے لگا کہ یہ تو یتمیوں کا مال ہے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جابر کہاں ہے؟ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں یہاں ہوں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ماپ کر دینا شروع کرو، اللہ تعالیٰ پورا کروا دے گا، میں نے آسمان پر نگاہ ڈالی تو سورج ڈھل چکا تھا، میں نے عرض کیا: اے ابوبکر! نماز کا وقت ہو گیا ہے، چنانچہ وہ لوگ مسجد چلے گئے اور میں نے قرض خواہ سے کہا کہ اپنا بر تن لاؤ، اور میں نے اسے ماپ کر عجوہ کھجور دے دی، اللہ نے اسے پورا کروا دیا اور اتنی مقدار بچ بھی گئی، میں دوڑتا ہوا مسجد میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس وقت تک نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نماز پڑھ چکے تھے، میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! دیکھیے تو سہی کہ میں نے اپنے قرض خواہ کو کھجور ماپ کر دی تو اللہ نے اسے پورا کروا دیا اور وہ اتنی مقدار میں بچ بھی گئی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: عمر بن خطاب کہاں ہیں؟ وہ دوڑتے ہوئے آئے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ جابر سے اس کے قرض خواہ اور کھجوروں کے متعلق پوچھو، انہوں نے عرض کیا کہ میں نہیں پوچھوں گا، اس لئے کہ جب آپ نے یہ فرما دیا تھا کہ اللہ پورا کر دے گا تو مجھے یقین ہو گیا تھا کہ اللہ پورا کر دے گا، تین مرتبہ اسی طرح تکرار ہوا، تیسری مرتبہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بات کو رد کرنا اچھا نہ سمجھا اور پوچھ لیا کہ جابر! تمہارے قرض خواہ اور کھجور کا کیا معاملہ بنا؟ میں نے انہیں بتایا کہ اللہ نے پورا کر دیا بلکہ اتنی کھجور بچ بھی گئی، پھر میں نے گھر آ کر اپنی بیوی سے کہا کہ میں نے تمہیں منع نہیں کیا تھا۔ کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے کوئی بات نہ کرنا؟ اس نے کہا: کیا آپ یہ سمجھتے ہیں کہ اللہ تعالٰی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو میرے گھر لے کر آئے اور وہ جانے لگیں تو میں ان سے اپنے لیے اور اپنے شوہر کے لئے دعاء کی درخواست بھی نہ کروں گی؟ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 15281]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 15282 مسند احمد
عَفَّانُ ، شُعْبَةُ ، مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ , حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ , عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى رَجُلًا قَدْ ظُلِّلَ عَلَيْهِ , قَالَ:" لَيْسَ مِنَ الْبِرِّ أَنْ يَصُومَ فِي السَّفَرِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ لوگوں نے ایک آدمی کے گرد بھیڑ لگائی ہوئی ہے اور اس پر سایہ کیا جارہا ہے (پوچھنے پر لوگوں نے بتایا کہ یہ روزے سے تھا) نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ سفر میں روزہ رکھنا کوئی نیکی نہیں ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 15282]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1946، م: 1115
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1946، م: 1115
حدیث نمبر: 15283 مسند احمد
عَفَّانُ ، سَلِيمُ بْنُ حَيَّانَ ، سَعِيدُ بْنُ مِينَاءَ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ , حَدَّثَنَا سَلِيمُ بْنُ حَيَّانَ , حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مِينَاءَ , عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ كَانَ لَهُ فَضْلُ أَرْضٍ , أَوْ مَاءٍ فَلْيَزْرَعْهَا , أَوْ لِيُزْرِعْهَا أَخَاهُ , وَلَا تَبِيعُوهَا"، فَسَأَلْتُ سَعِيدًا:" مَا لَا تَبِيعُوهَا الْكِرَاءُ؟"، قَالَ: نَعَمْ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جس شخص کے پاس کوئی زائد زمین ہو یا پانی ہواسے چاہئے کہ وہ خود اس میں کھیتی باڑی کر ے یا اپنے بھائی کو ہدیہ کے طور پردے دے کرایہ پر نہ دے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 15283]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2340، م: 1536
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2340، م: 1536
حدیث نمبر: 15284 مسند احمد
(حديث مرفوع) (حديث موقوف) " يَا كَعْبُ بْنَ عُجْرَةَ , النَّاسُ غَادِيَانِ فَغَادٍ بَائِعٌ نَفْسَهُ وَمُوبِقٌ رَقَبَتَهُ , وَغَادٍ مُبْتَاعٌ نَفْسَهُ وَمُعْتِقٌ رَقَبَتَهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک مرتبہ سیدنا کعب بن عجرہ سے فرمایا کہ اللہ تمہیں بیوقوفوں کی حکمرانی سے بچائے انہوں نے پوچھا کہ بیوقوفوں کی حکمرانی سے کیا مراد ہے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ اس سے مراد وہ حکمران ہیں جو میرے بعد آئے گے جو لوگ ان کے جھوٹ کی تصدیق کر یں گے اور ان کے ظلم پر تعاون کر یں گے ان کا مجھ سے اور میرا ان سے کوئی تعلق نہیں اور یہ لوگ حوض کوثر پر بھی میرے پاس نہ آسکیں گے لیکن جو لوگ ان کی جھوٹی باتوں کی تصدیق نہ کر یں گے اور ان کے ظلم پر تعاون کر یں نہ کر یں تو وہی لوگ مجھ سے ہوں گے اور میں ان سے ہوں گا اور عنقریب وہ میرے پاس حوض کوثر پر آئیں گے۔ اے کعب بن عجرہ۔ روزہ ڈھال ہے صدقہ گناہوں کو مٹا دیتا ہے نماز قرب الٰہی کا ذریعہ ہے اے کعب بن عجرہ جنت میں کوئی ایساوجود داخل نہیں ہو سکے گا جس کی پرورش حرام سے ہوئی اور جہنم اس کی زیادہ حقدار ہو گی اے کعب بن عجرہ لوگ دو حصوں میں تقسیم ہوں گے کچھ تو اپنے نفس کو خرید کر اسے آزاد کر دیں گے اور کچھ اسے خرید کر ہلاک کر دیں گے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 15284]
حکم دارالسلام
إسناده قوي
الحكم: إسناده قوي
حدیث نمبر: 15285 مسند احمد
عَفَّانُ ، شُعْبَةُ ، الْأَسْوَدُ بْنُ قَيْسٍ ، نُبَيْحٍ الْعَنَزِيِّ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ , حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , أَخْبَرَنِي الْأَسْوَدُ بْنُ قَيْسٍ , عَنْ نُبَيْحٍ الْعَنَزِيِّ , عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا دَخَلَ أَحَدُكُمْ لَيْلًا , فَلَا يَطْرُقَنَّ أَهْلَهُ طُرُوقًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ جب تم رات کے وقت شہر میں داخل ہو تو بلا اطلاع اپنے گھرمت جاؤ۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 15285]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 15286 مسند احمد
عَفَّانُ ، الْمُبَارَكُ ، نَصْرُ بْنُ رَاشِدٍ ، عَمَّنْ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ , حَدَّثَنَا الْمُبَارَكُ , حَدَّثَنِي نَصْرُ بْنُ رَاشِدٍ سَنَةَ مِائَةٍ , عَمَّنْ حَدَّثَهُ , عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ , قَالَ:" نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُجَصَّصَ الْقُبُورُ , أَوْ يُبْنَى عَلَيْهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں قبر کو پختہ کرنے سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 15286]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 970، وهذا إسناد ضعيف لجهالة نصر بن راشد، وإبهام الراوي عن جابر
الحكم: حديث صحيح، م: 970، وهذا إسناد ضعيف لجهالة نصر بن راشد، وإبهام الراوي عن جابر
حدیث نمبر: 15287 مسند احمد
عَفَّانُ ، الْمُبَارَكُ ، نَصْرُ بْنُ رَاشِدٍ ، عَمَّنْ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ , حَدَّثَنَا الْمُبَارَكُ , حَدَّثَنِي نَصْرُ بْنُ رَاشِدٍ , عَمَّنْ حَدَّثَهُ , عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ , قَالَ: تُوُفِّيَ رَجُلٌ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ بَنِي عُذْرَةَ , فَقُبِرَ لَيْلًا ," فَنَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُقْبَرَ الرَّجُلُ لَيْلًا حَتَّى يُصَلَّى عَلَيْهِ , إِلَّا أَنْ يَضْطَرُّوا إِلَى ذَلِكَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دور باسعادت میں بنو عذرہ کا ایک آدمی فوت ہو گیا لوگوں نے اسے راتوں رات ہی قبر میں اتار دیا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے معلوم ہو نے پر رات کو قبر میں کسی بھی شخص کو اتارنے سے منع فرما دیا تاآنکہ اس کی نماز جنازہ پڑھ لی جائے الاّ یہ کہ مجبوری ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 15287]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة نصر بن راشد، وإيهام الراوي عن جابر، وانظر: 14145
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة نصر بن راشد، وإيهام الراوي عن جابر، وانظر: 14145
حدیث نمبر: 15288 مسند احمد
عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، سُفْيَانُ ، مُجَالِدٍ ، الشَّعْبِيِّ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ , حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ مُجَالِدٍ , عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" رَأَيْتُ كَأَنِّي أَتَيْتُ بِكُتْلَةِ تَمْرٍ , فَعَجَمْتُهَا فِي فَمِي , فَوَجَدْتُ فِيهَا نَوَاةً آذَتْنِي , فَلَفَظْتُهَا , ثُمَّ أَخَذْتُ أُخْرَى , فَعَجَمْتُهَا فَوَجَدْتُ فِيهَا نَوَاةً , فَلَفَظْتُهَا , ثُمَّ أَخَذْتُ أُخْرَى فَعَجَمْتُهَا , فَوَجَدْتُ فِيهَا نَوَاةً فَلَفَظْتُهَا"، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ دَعْنِي فَلْأَعْبُرْهَا؟، قَالَ: قَالَ:" اعْبُرْهَا"، قَالَ: هُوَ جَيْشُكَ الَّذِي بَعَثْتَ , يَسْلَمُ وَيَغْنَمُ , فَيَلْقَوْنَ رَجُلًا , فَيَنْشُدُهُمْ ذِمَّتَكَ , فَيَدَعُونَهُ ثُمَّ يَلْقَوْنَ رَجُلًا , فَيَنْشُدُهُمْ ذِمَّتَكَ , فَيَدَعُونَهُ , ثُمَّ يَلْقَوْنَ رَجُلًا , فَيَنْشُدُهُمْ ذِمَّتَكَ فَيَدَعُونَهُ، قَالَ:" كَذَلِكَ قَالَ الْمَلَكُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک مرتبہ فرمایا کہ میں نے خواب دیکھا کہ میرے پاس کھجوروں کی ایک ٹوکر ی لائی گئی میں نے اسے منہ میں رکھ کر چباڈالی تو مجھے اس میں گھٹلی محسوس ہوئی جس سے مجھے اذیت ہوئی اور میں نے اسے پھینک دیا میں نے پھر کھجور کو اٹھا کر منہ میں رکھا اس مرتبہ بھی ایساہی ہوا تیسری مرتبہ پھر ایسا ہی ہوا سیدنا صدیق اکبر نے عرض کیا: کہ اس کی تعبیر مجھے بتانے کی اجازت دیں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ تم اس کی تعبیر بیان کر و انہوں نے عرض کیا: کہ اس سے مراد آپ کا لشکر وہ ہے جو آپ نے ہمیں بھیجا ہوا ہے وہ صحیح سالم مال غنیمت لے کر آئے گا انہیں ایک آدمی ملے گا جو انہیں آپ کی داڑھی کا واسطہ دے گا اور وہ اسے چھوڑ دیں گے تین مرتبہ اسی طرح ہو گا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: فرشتے نے بھی یہی تعبیر دی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 15288]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف مجالد بن سعيد
الحكم: إسناده ضعيف لضعف مجالد بن سعيد
حدیث نمبر: 15289 مسند احمد
عَفَّانُ ، عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ ، أَبِي سَلَمَةَ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ , حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ , عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ جَابِرٍ , قَالَ:" قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالشُّفْعَةِ فِي كُلِّ مَا لَمْ يُقْسَمْ , فَإِذَا وَقَعَتِ الْحُدُودُ , وَصُرِّفَتِ الطُّرُقُ فَلَا شُفْعَةَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہر اس مال میں حق شفعہ کو ثابت قرار دیا ہے جو تقسیم نہ ہوا ہو جب حدبندی ہو جائے اور راستے الگ ہو جائیں تو پھر حق شفعہ باقی نہیں رہتا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 15289]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2214
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2214
حدیث نمبر: 15290 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، ابْنُ شِهَابٍ الزُّهْرِيُّ ، أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , وَمُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ , قَالَا: أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ , أَخْبَرَنِي ابْنُ شِهَابٍ الزُّهْرِيُّ , عَنْ حَدِيثِ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ , عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ أَخْبَرَهُ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى أَيُّمَا رَجُلٍ أُعْمِرَ عُمْرَى لَهُ وَلِعَقِبِهِ , فَقَالَ:" قَدْ أَعْطَيْتُكَهَا وَعَقِبَكَ مَا بَقِيَ مِنْكُمْ أَحَدٌ , فَإِنَّمَا هِيَ قَالَ أَبُو بَكْرٍ لِمَنْ أَعْطَاهَا , وَقَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ لِمَنْ أُعْطِيَهَا , وَإِنَّهَا لَا تَرْجِعُ إِلَى صَاحِبِهَا مِنْ أَجْلِ أَنَّهُ أَعْطَاهَا عَطَاءً وَقَعَتْ فِيهِ الْمَوَارِيثُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ فیصلہ فرما دیا ہے کہ جس شخص کو عمربھر کے لئے کوئی چیز دے دی گئی ہو وہ اس کی اور اس کی اولاد کی ہو گی اور جس نے دی وہ اس کی اس بات کی وجہ سے اس سے جداہو گئی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 15290]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1625
الحكم: إسناده صحيح، م: 1625
حدیث نمبر: 15291 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ , حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ , أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ , عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ يَوْمَ النَّحْرِ ضُحًى , وَرَمَى فِي سَائِرِ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ بَعْدَمَا زَالَتِ الشَّمْسُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دس ذالحجہ کو چاشت کے وقت جمرہ اولی کو کنکر یاں ماریں اور بعد کے دنوں میں زوال کے وقت رمی فرمائی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 15291]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1299
الحكم: إسناده صحيح، م: 1299