بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مُسْنَدُ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1188
صفحہ 5 از 60
حدیث نمبر: 14192 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، مُحَارِبٍ ، جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَارِبٍ ، قال: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: بِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعِيرًا فِي سَفَرٍ، فَلَمَّا أَتَيْنَا الْمَدِينَةَ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" ائْتِ الْمَسْجِدَ، فَصَلِّ رَكْعَتَيْنِ"، ثُمَّ وَزَنَ لِي قَالَ شُعْبَةُ أَوْ أَمَرَ، فَوُزِنَ لِي فَأَرْجَحَ لِي، فَمَا زَالَ عِنْدِي مِنْهَا شَيْءٌ حَتَّى أَصَابَهَا أَهْلُ الشَّامِ يَوْمَ الْحَرَّةِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک سفر میں میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اپنا اونٹ بھیج دیا مدینہ منورہ واپس پہنچ کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ جا کر مسجد میں دو رکعتیں پڑھ کر آؤ پھر آپ نے مجھے وزن کر کے پیسے دینے کا حکم دیا اور جھکتا ہوا تولا اور ہمیشہ میرے پاس اس میں سے کچھ نہ کچھ ضرور رہا حالانکہ حرہ کے دن اہل شام اسے لے گئے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14192]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2604، م: 715
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2604، م: 715
حدیث نمبر: 14193 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعْدِ بْنِ زُرَارَةَ الْأَنْصَارِيِّ ، مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَبُو النَّضْرِ يَعْنِي هَاشِمًا ، يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ هَارُونَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعْدِ بْنِ زُرَارَةَ الْأَنْصَارِيِّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ أَبُو النَّضْرِ يَعْنِي هَاشِمًا فِي سَفَرٍ، قَالَ: يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ هَارُونَ بَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، فَرَأَى رَجُلًا قَدْ اجْتَمَعَ النَّاسُ عَلَيْهِ، وَقَدْ ظُلِّلَ عَلَيْهِ، قَالُوا: هَذَا رَجُلٌ صَائِمٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَيْسَ الْبِرُّ أَنْ تَصُومُوا فِي السَّفَرِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کسی سفر میں تھے راستے میں دیکھا کہ لوگوں نے ایک آدمی کے گرد بھیڑ لگائی ہوئی ہے اور اس پر سایہ کیا جارہا ہے پوچھنے پر لوگوں نے بتایا کہ یہ روزے سے تھا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: سفر میں روزہ رکھنا کوئی نیکی نہیں ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14193]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1946، م: 1115
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1946، م: 1115
حدیث نمبر: 14194 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ ، نُبَيْحٍ الْعَنَزِيِّ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ نُبَيْحٍ الْعَنَزِيِّ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا دَخَلْتُمْ لَيْلًا، فَلَا يَأْتِيَنَّ أَحَدُكُمْ أَهْلَهُ طُرُوقًا"، فَقَالَ جَابِرٌ: فَوَاللَّهِ لَقَدْ طَرَقْنَاهُنَّ بَعْدُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم رات کے وقت شہر میں داخل ہو تو بلا اطلاع اپنے گھر مت جاؤ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں واللہ ہم ان کے بعد رات کو اپنے گھروں میں داخل ہو نے لگے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14194]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5246، م: 715
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5246، م: 715
حدیث نمبر: 14195 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، زَكَرِيَّا ، عَامِرٌ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ زَكَرِيَّا ، حَدَّثَنِي عَامِرٌ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: كُنْتُ أَسِيرُ عَلَى جَمَلٍ لِي فَأَعْيَا، فَأَرَدْتُ أَنْ أُسَيِّبَهُ، قَالَ: فَلَحِقَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَضَرَبَهُ بِرِجْلِهِ، وَدَعَا لَهُ، فَسَارَ سَيْرًا لَمْ يَسِرْ مِثْلَهُ، وَقَالَ:" بِعْنِيهِ بِوُقِيَّةٍ" فَكَرِهْتُ أَنْ أَبِيعَهُ، قَالَ:" بِعْنِيهِ" فَبِعْتُهُ مِنْهُ، وَاشْتَرَطْتُ حُمْلَانَهُ إِلَى أَهْلِي، فَلَمَّا قَدِمْنَا، أَتَيْتُهُ بِالْجَمَلِ، فَقَالَ:" ظَنَنْتَ حِينَ مَاكَسْتُكَ أَنْ أَذْهَبَ بِجَمَلِكَ؟ خُذْ جَمَلَكَ وَثَمَنَهُ، هُمَا لَكَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک سفر میں میں اپنے ایک تھکے ہوئے اونٹ پر چلا جارہا تھا میں نے سوچا کہ اس اونٹ کو آزاد کر کے کسی جنگل میں چھوڑ دوں کہ اتنی دیر میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میرے پاس آپہنچے اور اسے اپنی ٹانگ سے ٹھوکر مار کر اس کے لئے دعاء کی وہ یکدم ایسا تیز رفتار ہو گیا کہ اس سے پہلے کبھی نہیں تھا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: یہ اونٹ مجھے ایک او قیہ چاندی کے عوض بیچ دو میں نے اسے فروخت کرنا مناسب نہ سمجھا لیکن جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دوبارہ فرمایا کہ یہ مجھے بیچ دو تو میں نے اسے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ہاتھ بیچ دیا اور یہ شرط کر لی کہ میں اپنے گھر تک اسی پر سوار ہو کر جاؤں گا واپس پہنچنے کے بعد میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس لے کر پہنچا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جس وقت میں تم سے سودا کر رہا تھا تو تم یہ سمجھ رہے تھے کہ میں تمہارے اونٹ کو لے جاؤں گا اپنا اونٹ اور قیمت دونوں لے جاؤ یہ دونوں چیزیں تمہاری ہیں [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14195]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5079، م: 715
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5079، م: 715
حدیث نمبر: 14196 مسند احمد
أَبُو نُعَيْمٍ ، زَكَرِيَّا ، الشَّعْبِيَّ ، جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا ، قال: سَمِعْتُ الشَّعْبِيَّ ، قَالَ: حَدَّثَنِي جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّهُ كَانَ يَسِيرُ عَلَى جَمَلٍ، وَذَكَرَ مَعْنَاهُ، وَقَالَ: فَاسْتَثْنَيْتُ حُمْلَانَهُ إِلَى أَهْلِي.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14196]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، وانظر ماقبله
الحكم: إسناده صحيح، وانظر ماقبله
حدیث نمبر: 14197 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، سُفْيَانَ ، حُمَيْدٌ ، وَرَوْحٌ ، سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ، حُمَيْدِ بْنِ قَيْسٍ الْأَعْرَجِ ، مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنِي حُمَيْدٌ . ح وَرَوْحٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ قَيْسٍ الْأَعْرَجِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ،" أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ أَعْطَى أُمَّهُ حَدِيقَةً مِنْ نَخْلٍ حَيَاتَهَا، فَمَاتَتْ، فَجَاءَ إِخْوَتُهُ، فَقَالُوا: نَحْنُ فِيهِ شَرْعٌ سَوَاءٌ، فَأَبَى، فَاخْتَصَمُوا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَسَمَهَا بَيْنَهُمْ مِيرَاثًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک انصار آدمی نے اپنی والدہ کو تا قیامت کھجور کا ایک باغ دے دیا جب اس کی والدہ کا انتقال ہو گیا تو اس کے بھائی آئے اور کہنے لگے کہ ہم سب کا اس میں برابر کا حصہ ہے لیکن اس نے انکار کر دیا لوگ یہ مقدمہ لے کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے ان سب کے درمیان وراثت کے طور پر تقسیم فرما دیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14197]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، محمد بن إبراهيم التيمي لم يسمع من جابر، وأنظر فى مسلم: 1625، "أعمَرَتِ امرَأَة بِالمَدِينَةِ حَائِطًا لَهَا ابنًا لَهَا"
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، محمد بن إبراهيم التيمي لم يسمع من جابر، وأنظر فى مسلم: 1625، "أعمَرَتِ امرَأَة بِالمَدِينَةِ حَائِطًا لَهَا ابنًا لَهَا"
حدیث نمبر: 14198 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَخْنَسِ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَخْنَسِ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِذَا جَلَسَ أَوْ اسْتَلْقَى أَحَدُكُمْ، فَلَا يَضَعْ رِجْلَيْهِ إِحْدَاهُمَا عَلَى الْأُخْرَى".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص بیٹھے یا چت لیٹے تو ایک ٹانگ پر دوسری ٹانگ نہ رکھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14198]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2099
الحكم: إسناده صحيح، م: 2099
حدیث نمبر: 14199 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَطَاءٌ ، جَابِرِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ ، عَنْ جَابِرِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ" نَهَى عَنِ الرُّطَبِ وَالْبُسْرِ، وَالتَّمْرِ وَالزَّبِيبِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کچی اور پکی کھجوریں کشمش اور کھجور کو ملا کر نبیذ بنانے سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14199]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5601، م: 1986
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5601، م: 1986
حدیث نمبر: 14200 مسند احمد
وَكِيعٌ ، ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سُرَاقَةَ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سُرَاقَةَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ:" رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي عَلَى رَاحِلَتِهِ نَحْوَ الْمَشْرِقِ فِي غَزْوَةِ أَنْمَارٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم غزوہ انمار میں اپنی سواری پر مشرق کی جانب رخ کر کے نفل نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14200]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4140، وانظر: 14156
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4140، وانظر: 14156
حدیث نمبر: 14201 مسند احمد
وَكِيعٌ ، حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُتَعَاطَى السَّيْفُ مَسْلُولًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ننگی تلوار (بغیر نیام کے) ایک دوسرے کو پکڑنے سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14201]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، أبو الزبير قد صرح بالسماع فى الرواية الآتية برقم: 14981
الحكم: إسناده صحيح، أبو الزبير قد صرح بالسماع فى الرواية الآتية برقم: 14981
حدیث نمبر: 14202 مسند احمد
وَكِيعٌ ، سُفْيَانَ ، مَحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ مَحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ ، عَنْ جَابِرٍ أَنَّ مُعَاذًا صَلَّى بِأَصْحَابِهِ، فَقَرَأَ الْبَقَرَةَ فِي الْفَجْرِ، وقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ مَهْدِيٍّ الْمَغْرِبَ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَفَتَّانًا أَفَتَّانًا؟".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ سیدنا معاذ بن جبل نے لوگوں کو نماز فجر پڑھاتے ہوئے اس میں سورت بقرہ شروع کر دی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے دو مرتبہ فرمایا: معاذتم لوگوں کو فتنہ میں مبتلا کرنا چاہتے ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14202]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، وقد سلف برقم: 14190، وفيه: أن الصلاة هي المغرب
الحكم: إسناده صحيح، وقد سلف برقم: 14190، وفيه: أن الصلاة هي المغرب
حدیث نمبر: 14203 مسند احمد
وَكِيعٌ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ ، سُفْيَانَ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ:" رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ مُتَوَشِّحًا بِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو ایک کپڑے میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14203]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 518
الحكم: إسناده صحيح، م: 518
حدیث نمبر: 14204 مسند احمد
وَكِيعٌ ، ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، شُرَحْبِيلَ بْنِ سَعْدٍ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ شُرَحْبِيلَ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ مَسْحِ الْحَصَى، فَقَالَ" وَاحِدَةٌ، وَلَئِنْ تُمْسِكْ عَنْهَا، خَيْرٌ لَكَ مِنْ مِائَةِ بَدَنَةٍ كُلُّهَا سُودُ الْحَدَقَةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے دوران نماز کنکر یاں ہٹانے کے متعلق پوچھا: تو فرمایا کہ صرف ایک مرتبہ برابر کر سکتے ہواور اگر یہ بھی نہ کر و تو یہ تمہارے حق میں ایسی سو اونٹنیوں سے بہتر ہے جن سب کی آنکھوں کی پتلیاں سیاہ ہوں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14204]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف شرحبيل بن سعد الخطمي المدني، ويغني عنه حديث معيقيب عند البخاري: 1207، ومسلم: 546، "إِن كُنتَ فَاعِلًا فَؤَاحِدَةً"
الحكم: إسناده ضعيف لضعف شرحبيل بن سعد الخطمي المدني، ويغني عنه حديث معيقيب عند البخاري: 1207، ومسلم: 546، "إِن كُنتَ فَاعِلًا فَؤَاحِدَةً"
حدیث نمبر: 14205 مسند احمد
وَكِيعٌ ، الْأَعْمَشُ ، أَبِي سُفْيَانَ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: صُرِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ فَرَسٍ عَلَى جِذْعِ نَخْلَةٍ، فَانْفَكَّتْ قَدَمُهُ، فَدَخَلْنَا عَلَيْهِ نَعُودُهُ، فَوَجَدْنَاهُ يُصَلِّي، فَصَلَّيْنَا بِصَلَاتِهِ وَنَحْنُ قِيَامٌ، فَلَمَّا صَلَّى، قَالَ:" إِنَّمَا جُعِلَ الْإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ، فَإِنْ صَلَّى قَائِمًا، فَصَلُّوا قِيَامًا، وَإِنْ صَلَّى جَالِسًا، فَصَلُّوا جُلُوسًا، وَلَا تَقُومُوا وَهُوَ جَالِسٌ كَمَا يَفْعَلُ أَهْلُ فَارِسٍ بِعُظَمَائِهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم گھوڑے سے گر کر کھجور کی ایک شاخ یا تنے پر گرگئے اور پاؤں میں موچ آگئی ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی عیادت کے لئے تشریف لے گئے تو وہاں آپ کو نماز پڑھاتے ہوئے دیکھا ہم بھی اس میں شریک ہوئے اور کھڑے ہو کر نماز پڑھی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے نماز سے فارغ ہو کر فرمایا: امام کو تو مقرر ہی اس لئے کیا جاتا ہے کہ اس کی اقتداء کی جائے اس لئے اگر وہ کھڑے ہو کر نماز پڑھے تو تم بھی کھڑے ہو کر نماز پڑھو اگر وہ بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم بھی بیٹھ کر نماز پڑھو اگر وہ بیٹھا ہو تو تم کھڑے نہ رہا کر و جیسا کہ اہل فارس اپنے روساء اور بڑوں کے ساتھ کرتے ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14205]
حکم دارالسلام
إسناده قوي، م: 413
الحكم: إسناده قوي، م: 413
حدیث نمبر: 14206 مسند احمد
وَكِيعٌ ، عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ أَيْمَنَ ، أَبِيهِ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ أَيْمَنَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ إِلَى جِذْعِ نَخْلَةٍ، قَالَ: فَقَالَتْ امْرَأَةٌ مِنَ الْأَنْصَارِ كَانَ لَهَا غُلَامٌ نَجَّارٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ لِي غُلَامًا نَجَّارًا، أَفَآمُرُهُ أَنْ يَتَّخِذَ لَكَ مِنْبَرًا تَخْطُبُ عَلَيْهِ؟ قَالَ:" بَلَى"، قَالَ: فَاتَّخَذَ لَهُ مِنْبَرًا، قَالَ: فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ الْجُمُعَةِ، خَطَبَ عَلَى الْمِنْبَرِ، قَالَ: فَأَنَّ الْجِذْعُ الَّذِي كَانَ يَقُومُ عَلَيْهِ كَمَا يَئِنُّ الصَّبِيُّ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ هَذَا بَكَى لِمَا فَقَدَ مِنَ الذِّكْرِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک کجھور کے تنے کے ساتھ ٹیک لگا کر خطبہ دیا کرتے تھے ایک انصاری عورت جس کا غلام بڑھی تھا اس نے کہا یا رسول اللہ! میرا غلام بڑھائی ہے کیا میں اسے آپ کے لئے منبر بنانے کا حکم نہ دیدوں کہ اس پر خطبہ ارشاد فرمایا: کر یں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کیوں نہیں چنانچہ منبر تیار ہو گیا اور جمعہ کے دن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس پر خطبہ دینے کے لئے تشریف فرما ہوئے تو وہ ستون جس کے ساتھ آپ ٹیک لگایا کرتے تھے بچے کی طرح بلک بلک کر رونے لگا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ یہ اس لئے رو رہا ہے کہ ذکر الٰہی اس کے پاس سے مفقود ہو گیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14206]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 449
الحكم: إسناده صحيح، خ: 449
حدیث نمبر: 14207 مسند احمد
وَكِيعٌ ، ابْنُ أَبِي لَيْلَى ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ ظَنَّ مِنْكُمْ أَنْ لَا يَسْتَيْقِظَ آخِرَهُ، فَلْيُوتِرْ أَوَّلَهُ، وَمَنْ ظَنَّ مِنْكُمْ أَنَّهُ يَسْتَيْقِظُ آخِرَهُ، فَلْيُوتِرْ آخِرَهُ، فَإِنَّ صَلَاةَ آخِرِ اللَّيْلِ مَحْضُورَةٌ، وَهِيَ أَفْضَلُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم میں سے جس شخص کا غالب گمان یہ ہو کہ وہ رات کے آخری حصے میں بیدار نہ ہو سکے گا، تو اسے رات کے اول حصہ ہی میں وتر پڑھ لینا چاہیے اور جسے آخر رات میں جاگنے کا غالب گمان ہو، تو اسے آخر میں ہی وتر پڑھنے چاہیے کیونکہ رات کے آخری حصہ میں نماز کے وقت فرشتے حاضر ہوتے ہیں اور یہ افضل طریقہ ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14207]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 755، وهذا إسناد ضعيف، أبن أبى ليلي سيئ الحفظ، لكنه متابع
الحكم: حديث صحيح، م: 755، وهذا إسناد ضعيف، أبن أبى ليلي سيئ الحفظ، لكنه متابع
حدیث نمبر: 14208 مسند احمد
وَكِيعٌ ، الْأَعْمَشُ ، أَبِي سُفْيَانَ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَقَدْ خَلَّفْتُمْ بِالْمَدِينَةِ رِجَالًا، مَا قَطَعْتُمْ وَادِيًا وَلَا سَلَكْتُمْ طَرِيقًا، إِلَّا شَرَكُوكُمْ فِي الْأَجْرِ، حَبَسَهُمْ الْمَرَضُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم لوگ مدینہ میں کچھ ایسے ساتھی بھی چھوڑ کر آئے ہو کہ تم جو وادی بھی طے کرتے ہو اور جس راستے پر بھی چلتے ہو وہ اجر و ثواب میں تمہارے ساتھ برابر کے شریک ہوتے ہیں انہیں بیماری نے روک رکھا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14208]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 1911، وهذا إسناد قوي
الحكم: حديث صحيح، م: 1911، وهذا إسناد قوي
حدیث نمبر: 14209 مسند احمد
وَكِيعٌ ، سُفْيَانَ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ ، سُفْيَانُ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ . ح وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا: لَا إِلَه إِلَّا اللَّهُ، فَإِذَا قَالُوهَا، عَصَمُوا مِنِّي بِهَا دِمَاءَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ إِلَّا بِحَقِّهَا، وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللَّهِ"، ثُمَّ قَرَأَ فَذَكِّرْ إِنَّمَا أَنْتَ مُذَكِّرٌ لَسْتَ عَلَيْهِمْ بِمُسَيْطِرٍ سورة الغاشية آية 21 - 22.
حدیث نمبر: 14210 مسند احمد
وَكِيعٌ ، الْأَعْمَشُ ، أَبِي سُفْيَانَ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيُّ الْجِهَادِ أَفْضَلُ؟ قَالَ:" مَنْ عُقِرَ جَوَادُهُ، وَأُهْرِيقَ دَمُهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کچھ لوگوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھا کہ سب سے افضل جہاد کون سا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اس شخص کا جس کے گھوڑے کے پاؤں کٹ جائیں اور اس کا اپنا خون بہہ جائے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14210]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد قوي، أبو سفيان طلحة بن نافع الواسطي صدوق لا بأس به
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد قوي، أبو سفيان طلحة بن نافع الواسطي صدوق لا بأس به
حدیث نمبر: 14211 مسند احمد
وَكِيعٌ ، عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ أَيْمَنَ ، أَبِيهِ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ أَيْمَنَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: مَكَثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ وَهُمْ يَحْفِرُونَ الْخَنْدَقَ ثَلَاثًا، لَمْ يَذُوقُوا طَعَامًا، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ هَاهُنَا كُدْيَةً مِنَ الْجَبَلِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" رُشُّوهَا بِالْمَاءِ" فَرَشُّوهَا، ثُمَّ جَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخَذَ الْمِعْوَلَ، أَوْ الْمِسْحَاةَ، ثُمَّ قَالَ:" بِاسْمِ اللَّهِ" فَضَرَبَ ثَلَاثًا، فَصَارَتْ كَثِيبًا يُهَالُ، قَالَ جَابِرٌ: فَحَانَتْ مِنِّي الْتِفَاتَةٌ، فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ شَدَّ عَلَى بَطْنِهِ حَجَرًا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ خندق کھودنے کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور آپ کے صحابہ پر تین دن اس حال میں گزر گئے کہ انہوں نے کوئی چیز نہیں چکھی، خندق کھودتے ہوئے ایک موقع پر صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! یہاں پر پہاڑ کی ایک چٹان آ گئی ہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ اس پر پانی چھڑک دو، انہوں نے اس پر پانی چھڑک دیا، پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تشریف لائے اور کدال پکڑ کر بسم اللہ پڑھی اور اس پر تین ضربیں لگائیں، اسی لمحے وہ چٹان ٹوٹ کر ریت کا ٹیلہ بن گئی سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے غور کیا تو اس وقت نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے بطن مبارک پر پتھر باندھ رکھا تھا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14211]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4101
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4101