بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مُسْنَدُ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1188
صفحہ 13 از 60
حدیث نمبر: 14352 مسند احمد
حَسَنٌ ، زُهَيْرٌ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: كُنَّا نُخَابِرُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنُصِيبُ مِنَ الْبُسْرِ، وَمِنْ كَذَا، فَقَالَ:" مَنْ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ فَلْيَزْرَعْهَا، أَوْ لِيُحْرِثْهَا أَخَاهُ، وَإِلَّا فَلْيَدَعْهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دور باسعادت میں ہم لوگ زمین کو بٹائی پر دے دیتے تھے جس سے ہمیں کچی اور دوسری کھجوریں مل جاتی تھیں، لیکن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرما دیا کہ جس شخص کے پاس زمین ہو، اسے خود کاشت کرنی چاہیے یا اپنے بھائی کو اجازت دے دے، ورنہ چھوڑ دے (کرائے پر نہ دے)۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14352]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2340، م: 1536
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2340، م: 1536
حدیث نمبر: 14353 مسند احمد
سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ شَيْبَةَ ، مُحَمَّدَ بْنَ عَبَّادِ بْنِ جَعْفَرٍ ، جَابِرًا
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ شَيْبَةَ ، سَمِعَ مُحَمَّدَ بْنَ عَبَّادِ بْنِ جَعْفَرٍ سَأَلْتُ جَابِرًا " أَنَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صِيَامِ يَوْمِ الْجُمُعَةِ؟ فَقَالَ: نَعَمْ وَرَبِّ هَذَا الْبَيْتِ، فَقِيلَ لِسُفْيَانَ: وَهُوَ يَطُوفُ بِالْبَيْتِ؟ قَالَ: نَعَمْ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
محمد بن عباد نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے ایک مرتبہ یہ مسئلہ پوچھا کہ کیا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جمعہ کے دن روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے؟ انہوں نے فرمایا: ہاں! اس گھر کے رب کی قسم۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14353]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1984، م: 1143
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1984، م: 1143
حدیث نمبر: 14354 مسند احمد
ابْنُ إِدْرِيسَ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: رَمَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْجَمْرَةَ الْأُولَى يَوْمَ النَّحْرِ ضُحًى، وَرَمَاهَا بَعْدَ ذَلِكَ عِنْدَ زَوَالِ الشَّمْسِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دس ذی الحجہ کو چاشت کے وقت جمرہ اولیٰ کو کنکریاں ماریں اور بعد کے دنوں میں زوال کے وقت رمی فرمائی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14354]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1299، وفيه: « وأما بعد، فإذا زالت الشمس » وانظر الحديث الآتي برقم: 14435
الحكم: إسناده صحيح، م: 1299، وفيه: « وأما بعد، فإذا زالت الشمس » وانظر الحديث الآتي برقم: 14435
حدیث نمبر: 14355 مسند احمد
ابْنُ إِدْرِيسَ ، الْأَعْمَشِ ، أَبِي سُفْيَانَ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ فِي اللَّيْلِ لَسَاعَةً لَا يُوَافِقُهَا عَبْدٌ مُسْلِمٌ يَسْأَلُ اللَّهَ فِيهَا خَيْرًا، إِلَّا آتَاهُ إِيَّاهُ، وَذَلِكَ فِي كُلِّ لَيْلَةٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: روزانہ ہر رات میں ایک ایسی گھڑی ضرور آتی ہے جو اگر کسی بندہ مسلم کو مل جائے تو وہ اس میں اللہ سے جو دعا بھی کرے گا، وہ دعاء ضرور قبول ہو گی اور ایسا ہر رات میں ہوتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14355]
حکم دارالسلام
إسناده قوي، م: 757
الحكم: إسناده قوي، م: 757
حدیث نمبر: 14356 مسند احمد
ابْنُ إِدْرِيسَ ، حُصَيْنٍ ، سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ ، عَنْ حُصَيْنٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: قَدِمَتْ عِيرٌ مَرَّةً الْمَدِينَةَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ، فَخَرَجَ النَّاسُ وَبَقِيَ اثْنَا عَشَرَ، فَنَزَلَتْ وَإِذَا رَأَوْا تِجَارَةً أَوْ لَهْوًا انْفَضُّوا إِلَيْهَا سورة الجمعة آية 11.
حدیث نمبر: 14357 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ عُلَيَّةَ ، هِشَامٌ ، وَعَبْدُ الصَّمَدِ ، هِشَامٌ ، وَكَثِيرُ بْنُ هِشَامٍ ، هِشَامٌ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ عُلَيَّةَ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ . ح وَعَبْدُ الصَّمَدِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ . ح وَكَثِيرُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ تَسَمَّى بِاسْمِي، فَلَا يَتَكَنَّى بِكُنْيَتِي، وَمَنْ تَكَنَّى بِكُنْيَتِي، فَلَا يَتَسَمَّى بِاسْمِي".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص میرے نام پر اپنا نام رکھے، وہ میری کنیت پر اپنی کنیت نہ رکھے، اور جو میری کنیت اختیار کرے وہ میرے نام پر اپنا نام نہ رکھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14357]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، أبو الزبير لم يصرح بالسماع، وانظر: 14183
الحكم: صحيح لغيره، أبو الزبير لم يصرح بالسماع، وانظر: 14183
حدیث نمبر: 14358 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، أَيُّوبُ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى عَنِ الْمُحَاقَلَةِ، وَالْمُزَابَنَةِ، وَالْمُخَابَرَةِ، وَالْمُعَاوَمَةِ، وَالثُّنْيَا، وَرَخَّصَ فِي الْعَرَايَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بیع محاقلہ، مزابنہ، بٹائی، کئی سالوں کے ٹھیکے پر پھلوں کی فروخت اور مخصوص درختوں کے استثناء سے منع فرمایا ہے البتہ اس بات کی اجازت دی ہے کہ کوئی شخص اپنے باغ کو عاریۃ کسی غریب کے حوالے کر دے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14358]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، أبو الزبير قد توبع، م: 1536
الحكم: حديث صحيح، أبو الزبير قد توبع، م: 1536
حدیث نمبر: 14359 مسند احمد
جَرِيرٌ ، مُغِيرَةَ ، الشَّعْبِيِّ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مُغِيرَةَ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: تُوُفِّيَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ حَرَامٍ يَعْنِي أَبَاهُ أَوْ اسْتُشْهِدَ وَعَلَيْهِ دَيْنٌ، فَاسْتَعَنْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى غُرَمَائِهِ أَنْ يَضَعُوا مِنْ دَيْنِهِ شَيْئًا، فَطَلَبَ إِلَيْهِمْ فَأَبَوْا، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اذْهَبْ فَصَنِّفْ تَمْرَكَ أَصْنَافًا الْعَجْوَةَ عَلَى حِدَةٍ، وَعِذْقَ زَيْدٍ عَلَى حِدَةٍ، وَأَصْنَافَهُ، ثُمَّ ابْعَثْ إِلَيَّ"، قَالَ: فَفَعَلْتُ، فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَلَسَ عَلَى أَعْلَاهُ أَوْ فِي وَسَطِهِ ثُمَّ قَالَ:" كِلْ لِلْقَوْمِ"، قَالَ: فَكِلْتُ لِلْقَوْمِ حَتَّى أَوْفَيْتُهُمْ، وَبَقِيَ تَمْرِي كَأَنَّهُ لَمْ يَنْقُصْ مِنْهُ شَيْءٌ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ان کے والد سیدنا عبداللہ بن عمرو بن حرام رضی اللہ عنہ شہید ہوئے تو ان پر کچھ قرض تھا، میں نے قرض خواہوں سے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ذریعے قرض معاف کرنے کی درخواست کی لیکن انہوں نے انکار کر دیا۔ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے فرمایا: جا کر کھجوروں کو مختلف قسموں میں تقسیم کر کے عجوہ الگ کر لو، عذق زید الگ کر لو اسی طرح دوسری اقسام کو بھی الگ الگ کر لو پھر مجھے بلا لو میں نے ایسا ہی کیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تشریف لائے اور سب سے اوپر یا درمیان میں تشریف فرما ہو گئے اور مجھ سے فرمایا: لوگوں کو ماپ کر دینا شروع کرو چنانچہ میں نے لوگوں کو ماپ کر دینا شروع کر دیا حتیٰ کہ سب کا قرض پورا کر دیا اور میری کھجوریں اسی طرح رہ گئیں گویا کہ اس میں سے کچھ بھی کم نہیں ہوا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14359]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2127
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2127
حدیث نمبر: 14360 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَبُو الزُّبَيْرِ ، جَابِرًا
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا يَعْنِي أَنَّهُ رَمَى الْجَمْرَةَ بِمِثْلِ حَصَى الْخَذْفِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ اور ابن زبیر سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ٹھیکری کی کنکری سے جمرات کی رمی فرمائی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14360]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1299
الحكم: إسناده صحيح، م: 1299
حدیث نمبر: 14361 مسند احمد
يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، هِشَامِ يعني بْنِ عُرْوَةَ ، عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَنْصَارِيُّ ، جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ هِشَامِ يعني بْنِ عُرْوَةَ ، أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَنْصَارِيُّ ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ أَحْيَا أَرْضًا مَيْتَةً لَهُ بِهَا أَجْرٌ، وَمَا أَكَلَتْ مِنْهُ الْعَافِيَةُ فَلَهُ بِهِ أَجْرٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص کسی ویران بنجر زمین کو آباد کرے اسے اس کا اجر ملے گا اور جتنے جانور اس میں سے کھائیں گے، اسے ان سب پر صدقے کا ثواب ملے گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14361]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 14362 مسند احمد
أَبُو مُعَاوِيَةَ ، الْأَعْمَشُ ، سَالِمٍ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ، فَقَالَ: إِنَّ لِي خَادِمًا تَسْنَى، وَقَالَ مَرَّةً: تَسْنُو عَلَى نَاضِحٍ لِي، وَإِنِّي كُنْتُ أَعْزِلُ عَنْهَا، وَأُصِيبُ مِنْهَا، فَجَاءَتْ بِوَلَدٍ! فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا قَدَّرَ اللَّهُ لِنَفْسٍ أَنْ يَخْلُقَهَا، إِلَّا هِيَ كَائِنَةٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک انصاری آدمی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا کہ میری ایک باندی ہے جو ہماری خدمت بھی کرتی ہے اور پانی بھی بھر کر لاتی ہے، میں رات کو اس کے پاس جا کر چکر بھی لگاتا ہوں اور عزل بھی کرتا تھا، اس کے باوجود اس کے یہاں بچہ پیدا ہو گیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اللہ نے جس نفس کو پیدا کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے وہ تو پیدا ہو کر رہے گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14362]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، وانظر: 14318
الحكم: إسناده صحيح، وانظر: 14318
حدیث نمبر: 14363 مسند احمد
أَبُو مُعَاوِيَةَ ، الْأَعْمَشُ ، سَالِمٍ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" تَسَمَّوْا بِاسْمِي، وَلَا تَكَنَّوْا بِكُنْيَتِي، فَإِنِّي جُعِلْتُ قَاسِمًا أَقْسِمُ بَيْنَكُمْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: میرے نام پر اپنا نام رکھ لیا کرو، لیکن میری کنیت پر اپنی کنیت نہ رکھا کرو کیونکہ میں تمہارے درمیان تقسیم کرنے والا بنا کر بھیجا گیا ہوں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14363]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح كسابقه ، خ: 3114، م: 2133
الحكم: إسناده صحيح كسابقه ، خ: 3114، م: 2133
حدیث نمبر: 14364 مسند احمد
أَبُو مُعَاوِيَةَ ، الْأَعْمَشُ ، أَبِي سُفْيَانَ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" تَسَمَّوْا بِاسْمِي، وَلَا تَكَنَّوْا بِكُنْيَتِي".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: میرے نام پر اپنا نام رکھ لیا کرو، لیکن میری کنیت پر اپنی کنیت نہ رکھا کرو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14364]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد قوي، وانظر ما قبله
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد قوي، وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 14365 مسند احمد
أَبُو مُعَاوِيَةَ ، الْأَعْمَشُ ، أَبِي صَالِحٍ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّتِهِ:" أَيُّ يَوْمٍ أَعْظَمُ حُرْمَةً؟" قَالُوا: يَوْمُنَا هَذَا، قَالَ:" فَأَيُّ شَهْرٍ أَعْظَمُ حُرْمَةً"، قَالُوا: شَهْرُنَا هَذَا، قَالَ:" فَأَيُّ بَلَدٍ أَعْظَمُ حُرْمَةً"، قَالُوا: بَلَدُنَا هَذَا، قَالَ:" فَإِنَّ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ عَلَيْكُمْ حَرَامٌ، كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا، فِي شَهْرِكُمْ هَذَا، فِي بَلَدِكُمْ هَذَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے خطبہ حجۃ الوداع کے موقع پر صحابہ سے پوچھا کہ سب سے زیادہ حرمت والا دن کون سا ہے؟ صحابہ نے عرض کیا: آج کا دن۔ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا: سب سے زیادہ حرمت والا مہینہ کون سا ہے؟ صحابہ نے عرض کیا: رواں مہینہ، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا کہ سب سے زیادہ حرمت والا کون سا شہر ہے؟ صحابہ نے عرض کیا: ہمارا یہی شہر۔ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: پھر یاد رکھو! تمہاری جان اور مال ایک دوسرے کے لئے اسی طرح قابل احترام ہیں جیسے اس دن کی حرمت اس مہینے اور اس شہر میں ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14365]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، وانظر: 14440
الحكم: إسناده صحيح، وانظر: 14440
حدیث نمبر: 14366 مسند احمد
أَبُو مُعَاوِيَةَ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، الْأَعْمَشُ ، أَبِي سُفْيَانَ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ فِي حَدِيثِهِ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِنَّ الشَّيْطَانَ قَدْ أَيِسَ أَنْ يَعْبُدَهُ الْمُصَلُّونَ، وَلَكِنْ فِي التَّحْرِيشِ بَيْنَهُمْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: شیطان اس بات سے مایوس ہو گیا ہے کہ اب دوبارہ نمازی اس کی پوجا کر سکیں گے، البتہ وہ ان کے درمیان اختلاف پیدا کرنے کے درپے ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14366]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد قوي، م: 2812، وفيه: « ۔۔۔ أن يعبده المصلون فى جزيره العرب... »
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد قوي، م: 2812، وفيه: « ۔۔۔ أن يعبده المصلون فى جزيره العرب... »
حدیث نمبر: 14367 مسند احمد
أَبُو مُعَاوِيَةَ ، الْأَعْمَشُ ، أَبِي صَالِحٍ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَسْقَى مَاءً، فَقَالَ رَجُلٌ أَلَا أَسْقِيكَ نَبِيذًا؟ قَالَ:" بَلَى"، قَالَ: فَخَرَجَ الرَّجُلُ يَسْعَى، قَالَ فَجَاءَ بِإِنَاءٍ فِيهِ نَبِيذٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَلَا خَمَّرْتَهُ! وَلَوْ أَنْ تَعْرُضَ عَلَيْهِ عُودًا"، قَالَ: ثُمَّ شَرِبَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پینے کے لئے پانی طلب فرمایا، ایک آدمی نے کہا کہ میں آپ کو نبیذ نہ پلاؤں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کیوں نہیں وہ آدمی دوڑتا ہوا گیا اور ایک برتن لے آیا جس میں نبیذ تھی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ تم نے اسے کسی چیز سے ڈھک کیوں نہ لیا؟ اگرچہ ایک لکڑی ہی اس پر رکھ دیتے پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے نوش فرما لیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14367]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5606، م: 2011
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5606، م: 2011
حدیث نمبر: 14368 مسند احمد
أَبُو مُعَاوِيَةَ ، وَيَعْلَى ، وَوَكِيعٌ ، الْأَعْمَشُ ، أَبِي سُفْيَانَ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، وَيَعْلَى ، وَوَكِيعٌ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّ الصَّلَاةِ أَفْضَلُ؟ قَالَ:" طُولُ الْقُنُوتِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کسی شخص نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھا کہ سب سے افضل نماز کون سی ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ لمبی نماز۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14368]
حکم دارالسلام
إسناده قوي، م: 756
الحكم: إسناده قوي، م: 756
حدیث نمبر: 14369 مسند احمد
أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَبْدُ الْمَلِكِ ، عَطَاءٍ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: بَدَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالصَّلَاةِ قَبْلَ الْخُطْبَةِ فِي الْعِيدَيْنِ بِغَيْرِ أَذَانٍ وَلَا إِقَامَةٍ، قَالَ: ثُمَّ خَطَبَ الرِّجَالَ وَهُوَ مُتَوَكِّئٌ عَلَى قَوْسٍ، قَالَ: ثُمَّ أَتَى النِّسَاءَ، فَخَطَبَهُنَّ، وَحَثَّهُنَّ عَلَى الصَّدَقَةِ، قَالَ: فَجَعَلْنَ يَطْرَحْنَ الْقِرَطَةَ، وَالْخَوَاتِيمَ وَالْحُلِيَّ إِلَى بِلَالٍ، قَالَ: وَلَمْ يُصَلِّ قَبْلَ الصَّلَاةِ، وَلَا بَعْدَهَا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں بغیر اذان و اقامت کے نماز پڑھائی، نماز کے بعد ہم سے خطاب کیا اور فارغ ہو نے کے بعد منبر سے اتر کر خواتین کے پاس تشریف لائے اور انہیں وعظ و نصیحت فرمائی، اس دوران آپ کے ساتھ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ تھے، دوسرا کوئی نہ تھا۔ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں صدقہ کرنے کا حکم دیا تو عورتیں اپنی بالیاں اور انگوٹھیاں بلال رضی اللہ عنہ کے حوالے کرنے لگیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14369]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 978، م: 885
الحكم: إسناده صحيح، خ: 978، م: 885
حدیث نمبر: 14370 مسند احمد
ابْنُ نُمَيْرٍ ، أَشْعَثُ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَشْعَثُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: حَجَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَنَا النِّسَاءُ وَالصِّبْيَانُ، فلَبَّينا عن الصبيان، وَرَمَيْنَا عَنْهُمْ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ حج کرنے کی سعادت حاصل کی ہے، ہمارے ساتھ عورتیں اور بچے بھی تھے، بچوں کی طرف سے ہم نے تلبیہ پڑھا اور کنکریاں بھی ہم نے ماری تھیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14370]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف أشعث، وهو ابن سوار
الحكم: إسناده ضعيف لضعف أشعث، وهو ابن سوار
حدیث نمبر: 14371 مسند احمد
أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَجَّاجٌ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُبَاعَ النَّخْلُ السَّنَتَيْنِ وَالثَّلَاثَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دو تین سال کے لئے پھلوں کی پیشیگی بیع سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14371]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، حجاج وأبو الزبير مدلسان، وقد عنعنا، لكنهما قد توبعا، وانظر: 14320 و 15083
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، حجاج وأبو الزبير مدلسان، وقد عنعنا، لكنهما قد توبعا، وانظر: 14320 و 15083