أَبُو مُعَاوِيَةَ ، الْأَعْمَشُ ، أَبِي صَالِحٍ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّتِهِ:" أَيُّ يَوْمٍ أَعْظَمُ حُرْمَةً؟" قَالُوا: يَوْمُنَا هَذَا، قَالَ:" فَأَيُّ شَهْرٍ أَعْظَمُ حُرْمَةً"، قَالُوا: شَهْرُنَا هَذَا، قَالَ:" فَأَيُّ بَلَدٍ أَعْظَمُ حُرْمَةً"، قَالُوا: بَلَدُنَا هَذَا، قَالَ:" فَإِنَّ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ عَلَيْكُمْ حَرَامٌ، كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا، فِي شَهْرِكُمْ هَذَا، فِي بَلَدِكُمْ هَذَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے خطبہ حجۃ الوداع کے موقع پر صحابہ سے پوچھا کہ سب سے زیادہ حرمت والا دن کون سا ہے؟ صحابہ نے عرض کیا: آج کا دن۔ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا: ”سب سے زیادہ حرمت والا مہینہ کون سا ہے؟“ صحابہ نے عرض کیا: رواں مہینہ، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا کہ سب سے زیادہ حرمت والا کون سا شہر ہے؟ صحابہ نے عرض کیا: ہمارا یہی شہر۔ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”پھر یاد رکھو! تمہاری جان اور مال ایک دوسرے کے لئے اسی طرح قابل احترام ہیں جیسے اس دن کی حرمت اس مہینے اور اس شہر میں ہے۔“ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14365]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، وانظر: 14440
الحكم: إسناده صحيح، وانظر: 14440