أَبُو مُعَاوِيَةَ ، الْأَعْمَشُ ، أَبِي صَالِحٍ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَسْقَى مَاءً، فَقَالَ رَجُلٌ أَلَا أَسْقِيكَ نَبِيذًا؟ قَالَ:" بَلَى"، قَالَ: فَخَرَجَ الرَّجُلُ يَسْعَى، قَالَ فَجَاءَ بِإِنَاءٍ فِيهِ نَبِيذٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَلَا خَمَّرْتَهُ! وَلَوْ أَنْ تَعْرُضَ عَلَيْهِ عُودًا"، قَالَ: ثُمَّ شَرِبَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پینے کے لئے پانی طلب فرمایا، ایک آدمی نے کہا کہ میں آپ کو نبیذ نہ پلاؤں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”کیوں نہیں“ وہ آدمی دوڑتا ہوا گیا اور ایک برتن لے آیا جس میں نبیذ تھی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ تم نے اسے کسی چیز سے ڈھک کیوں نہ لیا؟ اگرچہ ایک لکڑی ہی اس پر رکھ دیتے پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے نوش فرما لیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14367]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5606، م: 2011
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5606، م: 2011