بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مُسْنَدُ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1188
صفحہ 24 از 60
حدیث نمبر: 14572 مسند احمد
رَوْحٌ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَبُو الزُّبَيْرِ ، جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يُسْأَلُ عَنِ الْمُهَلِّ، فَقَالَ: سَمِعْتُ ثُمَّ انْتَهَى، أُرَاهُ يُرِيدُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" مُهَلُّ أَهْلِ الْمَدِينَةِ مِنْ ذِي الْحُلَيْفَةِ، وَالطَّرِيقِ الْأُخْرَى الْجُحْفَةِ، وَمُهَلُّ أَهْلِ الْعِرَاقِ مِنْ ذَاتِ عِرْقٍ، وَمُهَلُّ أَهْلِ نَجْدٍ مِنْ قَرْنٍ، وَمُهَلُّ أَهْلِ الْيَمَنِ مِنْ يَلَمْلَمَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے کسی نے میقات کے متعلق پوچھا: انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اہل مدینہ میں میقات ذوالحلیفہ ہے اور دوسرا راستہ جحفہ ہے جبکہ اہل عراق کی میقات ذات عرقہ اہل نجد کی میقات قرن ہے اور اہل یمن کی میقات یلملم ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14572]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1183
الحكم: إسناده صحيح، م: 1183
حدیث نمبر: 14573 مسند احمد
رَوْحٌ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَبُو الزُّبَيْرِ ، جَابِرًا
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا ، يَقُولُ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لِأَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ:" مَا شَأْنُ أَجْسَامِ بَنِي أَخِي ضَارِعَةً، أَتُصِيبُهُمْ حَاجَةٌ؟" قَالَتْ: لَا، وَلَكِنْ تُسْرِعُ إِلَيْهِمْ الْعَيْنُ، أَفَنَرْقِيهِمْ؟ قَالَ:" وَبِمَاذَا" فَعَرَضَتْ عَلَيْهِ، فَقَالَ:" ارْقِيهِمْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سیدنا اسما بنت عمیس سے فرمایا کہ کیا بات ہے کہ میرے بھتیجوں کے جسم بہت لاغر ہو رہے ہیں کیا انہیں کوئی پریشانی اور حاجت ہے؟ انہوں نے عرض کیا: نہیں البتہ انہیں نظر بہت جلدی لگتی ہے کیا ہم ان پر جھاڑ پھونک کر سکتے ہیں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کن الفاظ سے انہوں نے وہ الفاظ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے پیش کئے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تم انہیں جھاڑ دیا کر و۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14573]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2198
الحكم: إسناده صحيح، م: 2198
حدیث نمبر: 14574 مسند احمد
رَوْحٌ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ ، ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَبُو الزُّبَيْرِ ، جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" إِنْ كَانَ شَيْءٌ، فَفِي الرَّبْعِ، وَالْفَرَسِ، وَالْمَرْأَةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو میں نے یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اگر نحوست کسی چیز میں ہو تی تو وہ جائیداد گھوڑے اور عورت میں ہو تی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14574]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2227
الحكم: إسناده صحيح، م: 2227
حدیث نمبر: 14575 مسند احمد
رَوْحٌ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَبُو الزُّبَيْرِ ، جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ: أَمَرَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَتْلِ الْكِلَابِ، حَتَّى إِنَّ الْمَرْأَةَ تَقْدَمُ مِنَ الْبَادِيَةِ بِكَلْبِهَا فَنَقْتُلُهُ، ثُمَّ نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ قَتْلِهَا، وَقَالَ:" عَلَيْكُمْ بِالْأَسْوَدِ الْبَهِيمِ ذِي النُّقْطَتَيْنِ، فَإِنَّهُ شَيْطَانٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ کتوں کو ختم کر و چنانچہ اگر کوئی عورت دیہات سے بھی اپنا کوئی کتا لے کر آتی تو ہم اسے بھی مار ڈالتے بعد میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے منع فرمایا: صرف اس کالے سیاہ کتے کو مارا کر و جو دو نقطوں والا ہو کیونکہ وہ شیطان ہوتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14575]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1572
الحكم: إسناده صحيح، م: 1572
حدیث نمبر: 14576 مسند احمد
رَوْحٌ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، زِيَادُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، سُلَيْمَانَ بْنِ عَتِيقٍ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي زِيَادُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَتِيقٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: لَمَّا دَخَلَتْ صَفِيَّةُ بِنْتُ حُيَيٍّ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فُسْطَاطَهُ، حَضَرَ نَاسٌ وَحَضَرْتُ مَعَهُمْ، لِيَكُونَ فِيهَا قَسْمٌ، فَخَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" قُومُوا عَنْ أُمِّكُمْ"، فَلَمَّا كَانَ مِنَ الْعَشِيِّ حَضَرْنَا، فَخَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْنَا فِي طَرَفِ رِدَائِهِ نَحْوٌ مِنْ مُدٍّ وَنِصْفٍ مِنْ تَمْرٍ عَجْوَةٍ، قَالَ:" كُلُوا مِنْ وَلِيمَةِ أُمِّكُمْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب سیدنا صفیہ بنت حیی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے خیمے میں داخل ہوئیں تو لوگ بھی ان کے ساتھ آ گئے تاکہ انہیں کسی کے حصے میں سے دے دیا جائے لیکن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اپنی ماں کے پاس سے اٹھ جاؤ شام کے وقت ہم دوبارہ حاضر ہوئے تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنی چادر کے ایک کونے میں تقریبا ڈیڑھ مد کے برابر عجوہ کھجوریں لے کر نکلے اور فرمایا: اپنی ماں کا ولیمہ کھاؤ۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14576]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 14577 مسند احمد
رَوْحٌ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَبُو الزُّبَيْرِ ، جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ: إِنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" إِنَّ الْمُؤْمِنَ يَأْكُلُ فِي مِعًى وَاحِدٍ، وَالْكَافِرُ يَأْكُلُ فِي سَبْعَةِ أَمْعَاءٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مومن ایک آنت میں کھاتا ہے اور کافر سات آنتوں میں کھاتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14577]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2061
الحكم: إسناده صحيح، م: 2061
حدیث نمبر: 14578 مسند احمد
رَوْحٌ ، زَكَرِيَّا بْنُ إِسْحَاقَ ، عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَنْقُلُ مَعَهُمْ الْحِجَارَةَ لِلْكَعْبَةِ، وَعَلَيْهِ إِزَارُه، فَقَالَ لَهُ الْعَبَّاسُ عَمُّهُ، يَا ابْنَ أَخِي، لَوْ حَلَلْتَ إِزَارَكَ فَجَعَلْتَهُ عَلَى مَنْكِبَيْكَ دُونَ الْحِجَارَةِ، قَالَ: فَحَلَّهُ فَجَعَلَهُ عَلَى مَنْكِبَيْهِ، فَسَقَطَ مَغْشِيًّا عَلَيْهِ، فَمَا رُئِيَ بَعْدَ ذَلِكَ الْيَوْمِ عُرْيَانًا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب خانہ کعبہ کی تعمیر شروع ہوئی تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بھی پتھر اٹھا اٹھا کر لانے لگے سیدنا عباس کہنے لگے کہ بھتیجے آپ اپنا تہبند اتار کر کندھے پر رکھ لیجئے تاکہ پتھر سے کندھے زخمی نہ ہو جائیں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایسا کرنا چاہا تو بےہو ش ہو کر گرپڑے اس دن کے بعد نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو کبھی کپڑوں سے خالی جسم میں نہیں دیکھا گیا ' [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14578]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 364، م: 340
الحكم: إسناده صحيح، خ: 364، م: 340
حدیث نمبر: 14579 مسند احمد
رَوْحٌ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَبُو الزُّبَيْرِ ، جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ: طَافَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ عَلَى رَاحِلَتِهِ بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، لِيَرَاهُ النَّاسُ وَلِيُشْرِفَ وَيَسْأَلُوهُ إِنَّ النَّاسَ غَشُوهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر بیت اللہ کا طواف اور صفامروہ کی سعی اپنی سواری پر کی تھی تاکہ لوگ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دیکھ سکیں اور مسائل بآسانی حل کر سکیں کیونکہ اس وقت لوگوں نے آپ کو گھیر رکھا تھا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14579]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1273
الحكم: إسناده صحيح، م: 1273
حدیث نمبر: 14580 مسند احمد
رَوْحٌ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَبُو الزُّبَيْرِ ، جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" لَا يَمُوتَنَّ أَحَدُكُمْ إِلَّا وَهُوَ يُحْسِنُ الظَّنَّ بِاللَّهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ تم میں سے جس شخص کو بھی موت آئے وہ اس حال میں ہو کہ اللہ کے ساتھ حسن ظن رکھتا ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14580]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح كسابقه، م: 2877
الحكم: إسناده صحيح كسابقه، م: 2877
حدیث نمبر: 14581 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، أَبُو هِلَالٍ ، إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا أَبُو هِلَالٍ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: صَنَعْنَا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَّارَةً، فَأَتَيْتُهُ بِهَا فَوَضَعْتُهَا بَيْنَ يَدَيْهِ، فَاطَّلَعَ فِيهَا، فَقَالَ:" حَسِبْتُهُ لَحْمًا"، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِأَهْلِي، فَذَبَحُوا لَهُ شَاةً.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے لئے ٹھیکر ی کی ہنڈیا میں کھانا تیار کیا میں نے وہ برتن لا کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے رکھا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس میں جھانک کر دیکھا اور فرمایا: میں تو سمجھا تھا کہ اس میں گوشت ہو گا میں نے جا کر اپنے گھر والوں سے اس کا تذکر ہ کیا اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے لئے بکری ذبح کی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14581]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف أبى هلال الراسبي، لكن يعتبر به، وإسحاق بن عبدالله بن أبى طلحة لا يحتمل السماع من جابر، والله أعلم
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف أبى هلال الراسبي، لكن يعتبر به، وإسحاق بن عبدالله بن أبى طلحة لا يحتمل السماع من جابر، والله أعلم
حدیث نمبر: 14582 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، مُحَمَّدُ بْنُ ثَابِتٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ ثَابِتٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" حَجٌّ مَبْرُورٌ لَيْسَ لَهُ جَزَاءٌ إِلَّا الْجَنَّةَ"، قَالُوا: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، مَا الْحَجُّ الْمَبْرُورُ؟ قَالَ:" إِطْعَامُ الطَّعَامِ، وَإِفْشَاءُ السَّلَامِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: حج مبرور کی جزا جنت کے سوا کچھ نہیں صحابہ نے پوچھا: یا رسول اللہ! حج مبرور سے کیا مراد ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ کھانا کھلانا اور سلام پھیلانا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14582]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف من أجل محمد بن ثابت، وسواء كان هو البناني أم العبدي، فكلاهما ضعيفان، وفي أحاديثهما ماينكر، وانظر: 14482
الحكم: إسناده ضعيف من أجل محمد بن ثابت، وسواء كان هو البناني أم العبدي، فكلاهما ضعيفان، وفي أحاديثهما ماينكر، وانظر: 14482
حدیث نمبر: 14583 مسند احمد
حُجَيْنُ بْنُ الْمُثَنَّى أَبُو عُمَرَ ، لَيْثٌ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُجَيْنُ بْنُ الْمُثَنَّى أَبُو عُمَرَ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: لَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْزُو فِي الشَّهْرِ الْحَرَامِ، إِلَّا أَنْ يُغْزَى، أَوْ يُغْزَوْ، فَإِذَا حَضَرَ ذَلِكَ أَقَامَ حَتَّى يَنْسَلِخَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اشہر حرم میں جہاد نہیں فرماتے تھے الاّ یہ کہ دوسروں کی طرف سے جنگ مسلط کر دی جائے ورنہ جب اشہر حرم شروع ہوتے تو آپ ان کے ختم ہو نے تک رک جاتے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14583]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 14584 مسند احمد
حُجَيْنٌ ، وَيُونُسُ ، لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُجَيْنٌ ، وَيُونُسُ ، قَالَا: حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ، قَالَ: أَفِي الْعَقْرَبِ رُقْيَةٌ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ أَنْ يَنْفَعَ أَخَاهُ، فَلْيَفْعَلْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک انصاری نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر کہنے لگا یا رسول اللہ! کیا میں بچھو کے ڈنگ کا جھاڑ پھونک کے ذریعے علاج کر سکتا ہوں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص اپنے بھائی کو نفع پہنچاسکتا ہواسے ایساہی کرنا چاہئے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14584]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2199
الحكم: إسناده صحيح، م: 2199
حدیث نمبر: 14585 مسند احمد
حُجَيْنٌ ، وَيُونُسُ ، لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُجَيْنٌ ، وَيُونُسُ ، قَالَا: حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اعْتَزَلَ نِسَاءَهُ شَهْرًا، فَخَرَجَ إِلَيْنَا فِي تِسْعٍ وَعِشْرِينَ، فَقُلْنَا: إِنَّمَا الْيَوْمُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ؟ فَقَالَ:" إِنَّمَا الشَّهْرُ" وَصَفَّقَ بِيَدَيْهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ وَحَبَسَ إِصْبَعًا وَاحِدًا فِي الْآخِرَةِ، وَقَالَ يُونُسُ: أُصْبُعًا وَاحِدَةً.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک مہینے کے لئے اپنی ازواج مطہرات سے ترک تعلق کر لیا تھا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بالاخانے میں رہتے تھے اور ازواج مطہرات نچلی منزل میں رہتی تھیں ٢٩ راتیں گزرنے کے بعد نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نیچے اتر آئے کسی نے پوچھا: یا رسول اللہ! آپ تو ٢٩ راتیں رکے (جبکہ آپ نے ایک ماہ کا ارادہ کیا تھا) نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کبھی مہینہ اتنا اور اتنا بھی ہوتا ہے دو مرتبہ آپ نے ہاتھ کی ساری انگلیوں سے اشارہ کیا اور تیسری مرتبہ انگوٹھے کو بند کر دیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14585]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1084
الحكم: إسناده صحيح، م: 1084
حدیث نمبر: 14586 مسند احمد
يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ ، وَاقِدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ ، عَنْ وَاقِدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا خَطَبَ أَحَدُكُمْ الْمَرْأَةَ، فَإِنْ اسْتَطَاعَ أَنْ يَنْظُرَ مِنْهَا إِلَى مَا يَدْعُوهُ إِلَى نِكَاحِهَا فَلْيَفْعَلْ"، قَالَ: فَخَطَبْتُ جَارِيَةً مِنْ بَنِي سَلِمَةَ، فَكُنْتُ أَخْتَبِئُ لَهَا تَحْتَ الْكَرَبِ، حَتَّى رَأَيْتُ مِنْهَا بَعْضَ مَا دَعَانِي إِلَى نِكَاحِهَا، فَتَزَوَّجْتُهَا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص کسی عورت کے پاس نکاح بھیجے اور یہ ممکن ہو کہ وہ اس عورت کی اس خوبی کو دیکھ سکے جس کی بنا پر وہ اس سے نکاح کرنا چاہتاہو تو اسے کر لینا چاہئے چنانچہ میں نے بنوسلمہ کی ایک لڑکی سے پیغام نکاح بھیجا تو اسے کسی درخت کی شاخوں سے چھپ کر دیکھ لیا یہاں تک کہ مجھے اس کی وہ خوبی نظر آگئی جس کی بنا پر میں اس سے نکاح کرنا چاہتا تھا چنانچہ میں نے اس سے نکاح کر لیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14586]
حکم دارالسلام
حديث حسن، وقد اختلف على محمد بن إسحاق فى تسمية الراوي عن جابر، والصواب- إن شاء الله - واقد بن عمرو ابن سعد بن معاذ كما في الحديث الآتي برقم: 14869، وهو ثقة، أما واقد ابن عبدالرحمن بن سعد فمجهول، ومحمد بن إسحاق حسن الحديث ، وقد صرح بالسماع كما برقم: 14869
الحكم: حديث حسن، وقد اختلف على محمد بن إسحاق فى تسمية الراوي عن جابر، والصواب- إن شاء الله - واقد بن عمرو ابن سعد بن معاذ كما في الحديث الآتي برقم: 14869، وهو ثقة، أما واقد ابن عبدالرحمن بن سعد فمجهول، ومحمد
حدیث نمبر: 14587 مسند احمد
يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَحُجَيْنٌ ، لَيْثٌ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَحُجَيْنٌ ، قَالَا: حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَأْكُلُوا بِالشِّمَالِ، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَأْكُلُ بِالشِّمَالِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ بائیں ہاتھ سے کھانا مت کھاؤ کیونکہ بائیں ہاتھ سے شیطان کھانا کھاتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14587]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2019
الحكم: إسناده صحيح، م: 2019
حدیث نمبر: 14588 مسند احمد
يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَحُجَيْنٌ ، لَيْثٌ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَحُجَيْنٌ ، قَالَا: حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَنِي لِحَاجَةٍ، ثُمَّ أَدْرَكْتُهُ، فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ، فَأَشَارَ إِلَيَّ، فَلَمَّا فَرَغَ دَعَانِي، فَقَالَ:" إِنَّكَ سَلَّمْتَ عَلَيَّ آنِفًا وَأَنَا أُصَلِّي"، وَهُوَ مُوَجِّهٌ حِينَئِذٍ قِبَلَ الْمَشْرِقِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے بنو مصطلق کی طرف جاتے ہوئے کسی کام سے بھیج دیا میں واپس آیا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے اونٹ پر نماز پڑھ رہے تھے میں نے بات کرنا چاہی تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہاتھ سے اشارہ فرما دیا نماز سے فراغت کے بعد نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: میں نے جس کام کے لئے تجھے بھیجا تھا اس کا کیا بنا؟ میں نے جواب اس لئے نہیں دیا تھا کہ میں نماز پڑھ رہا تھا اس وقت نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا رخ مشرق کی جانب تھا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14588]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1217، م: 540
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1217، م: 540
حدیث نمبر: 14589 مسند احمد
يُونُسُ ، وَحُجَيْنٌ ، لَيْثٌ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، وَحُجَيْنٌ ، قَالَا: حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ:" عُرِضَ عَلَيَّ الْأَنْبِيَاءُ، فَإِذَا مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام رَجُلٌ ضَرْبٌ مِنَ الرِّجَالِ كَأَنَّهُ مِنْ رِجَالِ شَنُوءَةَ، فَرَأَيْتُ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ عَلَيْهِ السَّلَام، فَإِذَا أَقْرَبُ مَنْ رَأَيْتُ بِهِ شَبَهًا عُرْوَةُ بْنُ مَسْعُودٍ، وَرَأَيْتُ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَام، فَإِذَا أَقْرَبُ مَنْ رَأَيْتُ بِهِ شَبَهًا صَاحِبُكُمْ" يَعْنِي نَفْسَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،" وَرَأَيْتُ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَام، فَإِذَا أَقْرَبُ مَنْ رَأَيْتُ بِهِ شَبَهًا دِحْيَةُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میرے پاس انبیاء کو لایا گیا سیدنا موسیٰ تو ایک وجیہہ آدمی معلوم ہوتے تھے اور یوں لگتا تھا جیسے وہ قبیلہ شنوہ کے آدمی ہوں میں نے سیدنا عیسیٰ کو دیکھا تو ان کے سب سے زیادہ مشابہہ مجھے (اپنے صحابہ میں) عروہ بن مسعود لگے اور میں نے سیدنا ابراہیم کو دیکھا تو ان کے سب سے زیادہ مشابہہ میں نے تمہارے پیغمبر (خود) کو دیکھا اور میں نے سیدنا جبرائیل کو دیکھا تو ان کے سب سے زیادہ مشابہہ " دحیہ " کو پایا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14589]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 167
الحكم: إسناده صحيح، م: 167
حدیث نمبر: 14590 مسند احمد
يُونُسُ ، وَحُجَيْنٌ ، لَيْثٌ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، وَحُجَيْنٌ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: اشْتَكَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَصَلَّيْنَا وَرَاءَهُ وَهُوَ قَاعِدٌ، وَأَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يُكَبِّرُ يُسْمِعُ النَّاسَ تَكْبِيرَهُ، فَالْتَفَتَ إِلَيْنَا فَرَآنَا قِيَامًا، فَأَشَارَ إِلَيْنَا فَقَعَدْنَا فَصَلَّيْنَا بِصَلَاتِهِ قُعُودًا، فَلَمَّا صَلَّى، قَالَ:" إِنْ كِدْتُمْ آنِفًا تَفْعَلُونَ فِعْلَ فَارِسَ وَالرُّومِ، يَقُومُونَ عَلَى مُلُوكِهِمْ وَهُمْ قُعُودٌ، فَلَا تَفْعَلُوا، ائْتَمُّوا بِأَئِمَّتِكُمْ، إِنْ صَلَّى قَائِمًا، فَصَلُّوا قِيَامًا، وَإِنْ صَلَّى قَاعِدًا، فَصَلُّوا قُعُودًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بیمار ہو گئے ہم نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھی اس وقت آپ بیٹھ کر نماز پڑھا رہے تھے اور سیدنا صدیق اکبربلند آواز سے تکبیر کہہ کر دوسروں تک تکبیر کی آواز پہنچا رہے تھے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کن اکھیوں سے ہماری طرف دیکھا تو ہم کھڑے ہوئے نظر آئے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہماری طرف اشارہ کیا اور ہم بھی بیٹھ کر نماز پڑھنے لگے اور بقیہ نماز اسی طرح ادا کی نماز سے فراغت کے بعد نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ابھی قریب تھا کہ تم فارس اور روم والوں جیسا کام کرنے لگتے وہ لوگ بھی اپنے بادشاہوں کے سامنے کھڑے رہتے ہیں اور بادشاہ بیٹھے رہتے ہیں تم لوگ ایسا نہ کیا کر و بلکہ اپنی ائمہ کی اقتدا کیا کر و اگر وہ کھڑے ہو کر نماز پڑھیں تو تم بھی کھڑے ہو کر نماز پڑھو اگر وہ بیٹھ کر نماز پڑھیں تو تم بھی بیٹھ کر نماز پڑھو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14590]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 413
الحكم: إسناده صحيح، م: 413
حدیث نمبر: 14591 مسند احمد
يُونُسُ ، أَبَانُ يَعْنِي الْعَطَّارَ ، يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مِقْسَمٍ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا أَبَانُ يَعْنِي الْعَطَّارَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مِقْسَمٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ مَرَّتْ جَنَازَةٌ، فَذَهَبْنَا لِنَحْمِلَ، فَإِذَا جَنَازَةُ يَهُودِيٍّ، أَوْ يَهُودِيَّةٍ، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّمَا كَانَتْ جَنَازَةَ يَهُودِيٍّ، أَوْ يَهُودِيَّةٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْمَوْتُ فَزَعٌ، فَإِذَا رَأَيْتُمْ جَنَازَةً، فَقُومُوا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے قریب سے ایک جنازہ گزرا تو آپ کھڑے ہو گئے ہم بھی کھڑے ہو گئے میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ تو ایک یہو دی کا جنازہ ہے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: موت کی ایک پریشانی ہو تی ہے لہذا جب تم جنازہ دیکھا کر و تو کھڑے ہو جایا کر و۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14591]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، وانظر: 14427
الحكم: إسناده صحيح، وانظر: 14427