بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مُسْنَدُ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1188
صفحہ 45 از 60
حدیث نمبر: 14992 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ ، شُعْبَةُ ، الْجُرَيْرِيُّ ، أَبِي نَضْرَةَ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ , حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , حَدَّثَنَا الْجُرَيْرِيُّ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ جَابِرٍ , أَنَّهُ قَالَ: أَرَادَ بَنُو سَلِمَةَ أَنْ يَبِيعُوا دِيَارَهُمْ، يَنْتَقِلُونَ قُرْبَ الْمَسْجِدِ , فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ:" دِيَارَكُمْ , إِنَّمَا تُكْتَبُ آثَارُكُمْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ بنوسلمہ کے لوگوں کا یہ ارادہ ہوا کہ وہ اپنا گھر بیچ کر مسجد کے قریب منتقل ہو جائیں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو جب یہ بات معلوم ہوئی تو آپ نے ان سے فرمایا: اپنے گھروں میں ہی رہو تمہارے نشانات قدم کا ثواب بھی لکھا جائے گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14992]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 665
الحكم: إسناده صحيح، م: 665
حدیث نمبر: 14993 مسند احمد
حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، جَرِيرٌ يَعْنِي ابْنَ حَازِمٍ ، أَيُّوبَ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ يَعْنِي ابْنَ حَازِمٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ وَلِيَ أَخَاهُ، فَلْيُحْسِنْ كَفَنَهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی شخص اپنے بھائی کو کفن دے تو اچھے طریقے سے اسے کفنائے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14993]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 943
الحكم: إسناده صحيح، م: 943
حدیث نمبر: 14994 مسند احمد
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ ، شِبْلٌ ، عَمْرَو بْنَ دِينَارٍ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، وَابْنِ عُمَرَ ، وَابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ ، حَدَّثَنِي شِبْلٌ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ دِينَارٍ ، يَقُولُ: عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , وَابْنِ عُمَرَ , وَابْنِ عَبَّاسٍ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى عَنْ بَيْعِ الثَّمَرِ حَتَّى يَبْدُوَ صَلَاحُهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابن عمر اور ابن عباس فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پھل کے خوب پک کر عمدہ ہو جانے سے قبل اس کی بیع سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14994]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1536
الحكم: إسناده صحيح، م: 1536
حدیث نمبر: 14995 مسند احمد
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ يَعْنِي الْعَدَنِيَّ ، سُفْيَانُ ، الْأَعْمَشِ ، أَبِي سُفْيَانَ ، جَابِرٍ ، وَكِيعٌ ، الْأَعْمَشِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ يَعْنِي الْعَدَنِيَّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: قَالَ رَجُلٌ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّ الْإِسْلَامِ أَفْضَلُ؟، قَالَ:" أَنْ يَسْلَمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِكَ وَيَدِكَ"، قَالَ أَبِي: وَحَدَّثَنَاه وَكِيعٌ ، عَنِ الْأَعْمَشِ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک شخص نے بارگاہ نبوت میں عرض کیا: کہ کون سا اسلام افضل ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ دوسرے مسلمان تمہاری زبان اور ہاتھ سے محفوظ رہیں [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14995]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، وإسناده قوي
الحكم: إسناده صحيح، وإسناده قوي
حدیث نمبر: 14996 مسند احمد
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُؤَمَّلِ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُؤَمَّلِ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَاءُ زَمْزَمَ لِمَا شُرِبَ مِنْهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: زمزم کا پانی جس نیت سے بھی پیا جائے وہ پوری ہو تی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14996]
حکم دارالسلام
حديث محتمل للتحسين، عبدالله بن المؤمل ضعيف، لكنه متابع، انظر: 14849
الحكم: حديث محتمل للتحسين، عبدالله بن المؤمل ضعيف، لكنه متابع، انظر: 14849
حدیث نمبر: 14997 مسند احمد
أَزْهَرُ بْنُ الْقَاسِمِ الرَّاسِبِيُّ ، وَكَثِيرُ بْنُ هِشَامٍ ، هِشَامٌ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَزْهَرُ بْنُ الْقَاسِمِ الرَّاسِبِيُّ بِمَكَّةَ، وَكَثِيرُ بْنُ هِشَامٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا هِشَامٌ , عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ , قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ النَّخْلِ حَتَّى يُطْعَمَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پھل خوب پک کر عمدہ ہو جانے سے قبل اس کی بیع سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14997]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، أبو الزبير لم يصرح بالتحديث، لكن متابع، وانظر: 14350
الحكم: حديث صحيح، أبو الزبير لم يصرح بالتحديث، لكن متابع، وانظر: 14350
حدیث نمبر: 14998 مسند احمد
أَزْهَرُ بْنُ الْقَاسِمِ ، وَكَثِيرُ بْنُ هِشَامٍ ، هِشَامٌ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَزْهَرُ بْنُ الْقَاسِمِ , وَكَثِيرُ بْنُ هِشَامٍ , قَالَا: حَدَّثَنَا هِشَامٌ , عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ , قَالَ: اشْتَكَيْتُ وَعِنْدِي سَبْعُ أَخَوَاتٍ لِي , فَدَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَنَضَحَ فِي وَجْهِي فَأَفَقْتُ , فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , أُوصِي لِأَخَوَاتِي بِالثُّلُثَيْنِ، قَالَ:" أَحْسِنْ"، قُلْتُ: بِالشَّطْرِ، قَالَ:" أَحْسِنْ"، قَالَ: ثُمَّ خَرَجَ وَتَرَكَنِي , ثُمَّ رَجَعَ، فَقَالَ:" يَا جَابِرُ , إِنِّي لَا أَرَاكَ مَيِّتًا مِنْ وَجَعِكَ هَذَا , فَإِنَّ اللَّهَ قَدْ أَنْزَلَ فَبَيَّنَ الَّذِي لِأَخَوَاتِكَ، فَجَعَلَ لَهُنَّ الثُّلُثَيْنِ"، قَالَ: فَكَانَ جَابِرٌ يَقُولُ نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ فِيَّ يَسْتَفْتُونَكَ قُلِ اللَّهُ يُفْتِيكُمْ فِي الْكَلالَةِ سورة النساء آية 176.
حدیث نمبر: 14999 مسند احمد
أَزْهَرُ بْنُ الْقَاسِمِ ، صَالِحُ بْنُ أَبِي الْأَخْضَرِ ، الزُّهْرِيِّ ، أَبِي سَلَمَةَ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَزْهَرُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ أَبِي الْأَخْضَرِ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" قَضَى بِالشُّفْعَةِ، مَا لَمْ تُقْسَمْ أَوْ يُوقَفْ حُدُودُهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہر اس مال میں حق شفعہ کو ثابت قرار دیا ہے جب تک تقسیم نہ ہوا ہو یا حدبندی نہ کی جائے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14999]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن فى المتابعات، فيه صالح بن أبى الأخضر ، وهو ضعيف يعتبر به، وقد توبع، انظر: 14157
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن فى المتابعات، فيه صالح بن أبى الأخضر ، وهو ضعيف يعتبر به، وقد توبع، انظر: 14157
حدیث نمبر: 15000 مسند احمد
أَبُو سَعِيدٍ ، لَيْثٌ ، أَبُو الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ , حَدَّثَنَا لَيْثٌ , حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ , قَالَ:" جَاءَ عَبْدٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَايَعَهُ، فَجَاءَهُ مَوْلَاهُ فَعَرَّفَهُ , فَاشْتَرَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهُ فَأَعْتَقَهُ، ثُمَّ لَمْ يَكُنْ يُبَايِعُ أَحَدًا بَعْدَ ذَلِكَ حَتَّى يَسْأَلَهُ حُرٌّ أَوْ عَبْدٌ؟".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک غلام آیا اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے ہجرت پر بیعت کر لی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو پتہ نہیں چلا تھا کہ یہ غلام ہے اتنے میں اس کا آقا اس کو تلاش کرتے ہوئے یہاں پر آگیا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے خرید کر آزاد کر دیا اس وقت نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس وقت سے لے کر تب تک بیعت نہیں لیتے تھے جب تک یہ نہ پوچھ لیں کہ وہ غلام ہے یا آزاد؟ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 15000]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، وانظر: 14772
الحكم: إسناده صحيح، وانظر: 14772
حدیث نمبر: 15001 مسند احمد
أَبُو سَعِيدٍ ، لَيْثٌ ، أَبُو الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ:" اشْتَرَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَبْدًا بِعَبْدَيْنِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک غلام دو غلاموں کے بدلے خریدا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 15001]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح كسابقه ، والعبد الذى اشتراه النبى صلى الله عليه و آله وسلم هو المذكور فى الحديث السالف قبله ، انظر: 14772
الحكم: إسناده صحيح كسابقه ، والعبد الذى اشتراه النبى صلى الله عليه وسلم هو المذكور فى الحديث السالف قبله ، انظر: 14772
حدیث نمبر: 15002 مسند احمد
هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ أَبِي سَلَمَةَ ، مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" رَأَيْتُنِي دَخَلْتُ الْجَنَّةَ، فَإِذَا أَنَا بِالرُّمَيْصَاءِ امْرَأَةِ أَبِي طَلْحَةَ"، قَالَ:" وَسَمِعْتُ خَشْفًا أَمَامِي، فَقُلْتُ: مَنْ هَذَا يَا جِبْرِيلُ؟، قَالَ: هَذَا بِلَالٌ"، قَالَ:" وَرَأَيْتُ قَصْرًا أَبْيَضَ بِفِنَائِهِ جَارِيَةٌ"، قَالَ:" قُلْتُ لِمَنْ هَذَا الْقَصْرُ؟، قَالَ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ: فَأَرَدْتُ أَنْ أَدْخُلَ فَأَنْظُرَ إِلَيْهِ"، قَالَ:" فَذَكَرْتُ غَيْرَتَكَ"، فَقَالَ عُمَرُ: بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَوَعَلَيْكَ أَغَارُ؟!.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میں نے خواب میں اپنے آپ کو دیکھا کہ میں جنت میں داخل ہوا تو وہاں مجھے ابوطلحہ کی بیوی رمیصاء نظر آئی پھر میں نے اپنے آگے کسی کے جوتوں کی آہٹ سنی میں نے جبرائیل سے پوچھا کہ یہ کون ہے؟ تو انہوں نے بتایا کہ یہ بلال ہیں پھر میں نے ایک سفید رنگ کا محل دیکھا جس کے صحن میں ایک لونڈی پھر رہی تھی میں نے پوچھا کہ یہ محل کس کا ہے؟ انہوں نے بتایا کہ یہ محل عمربن خطاب کا ہے پہلے میں نے سوچا کہ اس میں داخل ہو کر اسے دیکھوں لیکن پھر مجھے تمہاری غیرت یاد آگئی سیدنا عمر کہنے لگے یا رسول اللہ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں کیا میں آپ پر غیرت کھاؤں گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 15002]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3679، م: 2457
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3679، م: 2457
حدیث نمبر: 15003 مسند احمد
أَبُو سَعِيدٍ ، عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ ، جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ , حَدَّثَنَا جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ... فَذَكَرَ مَعْنَاهُ، قَالَ:" فَسَمِعْتُ خَشْفًا أَمَامِي" يَعْنِي صَوْتًا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 15003]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، وانظر ما قبله
الحكم: إسناده صحيح، وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 15004 مسند احمد
أَبُو سَعِيدٍ ، أَبُو عَقِيلٍ يَعْنِي بَشِيرَ بْنَ عُقْبَةَ الدَّوْرَقِيَّ ، أَبُو الْمُتَوَكِّلِ النَّاجِيُّ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَقِيلٍ يَعْنِي بَشِيرَ بْنَ عُقْبَةَ الدَّوْرَقِيَّ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْمُتَوَكِّلِ النَّاجِيُّ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: سَافَرْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ، وَأَحْسِبُهُ قَالَ: غَازِيًا، فَلَمَّا أَقْبَلْنَا قَافِلِينَ، قَالَ:" مَنْ أَحَبَّ أَنْ يَتَعَجَّلَ فَلْيَتَعَجَّلْ"، وَأَنَا عَلَى جَمَلٍ أَرْمَكَ لَيْسَ فِي الْجُنْدِ مِثْلُهُ، فَانْدَفَعْتُ عَلَيْهِ فَإِذَا النَّاسُ خَلْفِي , فَبَيْنَا أَنَا كَذَلِكَ , إِذْ قَامَ جَمَلِي فَجَعَلَ لَا يَتَحَرَّكُ، فَإِذَا صَوْتُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" مَا شَأْنُ جَمَلِكَ يَا جَابِرُ؟"، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , لَا أَدْرِي مَا عَرَضَ لَهُ!، قَالَ:" اسْتَمْسِكْ، وَأَعْطِنِي السَّوْطَ"، فَأَعْطَيْتُهُ السَّوْطَ، فَضَرَبَهُ ضَرْبَةً، فَذَهَبَ بِيَ الْبَعِيرُ كُلَّ مَذْهَبٍ، فَقَالَ لِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ ذَلِكَ:" يَا جَابِرُ , أَتَبِيعُنِي جَمَلَكَ؟"، قُلْتُ: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ:" أَقْدِمْ الْمَدِينَةَ"، فَقَدِمَ الْمَدِينَةَ فَدَخَلَ فِي طَوَائِفَ مِنْ أَصْحَابِهِ الْمَسْجِدَ، فَعَقَلْتُ بَعِيرِي، فَقُلْتُ: هَذَا جَمَلُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَخَرَجَ، فَجَعَلَ يُطِيفُ بِهِ، وَيَقُولُ:" نِعْمَ الْجَمَلُ جَمَلِي"، فَقَالَ" يَا فُلَانُ، انْطَلِقْ فَائْتِنِي بِأَوَاقٍ مِنْ ذَهَبٍ"، فَقَالَ:" أَعْطِهَا جَابِرًا"، فَقَبَضْتُهَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اسْتَوْفَيْتَ الثَّمَنَ؟"، قُلْتُ: نَعَمْ، يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ:" فَلَكَ الثَّمَنُ، وَلَكَ الْجَمَلُ"، أَوْ" لَكَ الْجَمَلُ , وَلَكَ الثَّمَنُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ کسی سفر جہاد میں شریک تھا واپسی پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص جلدی جانا چاہتا ہے وہ چلا جائے میں ایک تیز رفتار اونٹ پر سوار تھا پورے لشکر میں اس جیسا اونٹ نہیں تھا میں نے اسے دوڑایا تو سب لوگ مجھ سے پیچھے رہ گئے اچانک چلتے چلتے میر اونٹ ایک جگہ کھڑا ہو گیا اب وہ حرکت بھی نہیں کر رہا تھا مجھے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی آواز آئی کہ جابر رضی اللہ عنہ تمہارے اونٹ کو کیا ہوا میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے سمجھ نہیں آ رہا کہ اسے کیا ہوا ہے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ اسے پکڑ کر رکھو اور مجھے کوڑا دو اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے ایک ضرب لگائی وہ مجھے سب سے آگے لے گیا اس موقع پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: جابر رضی اللہ عنہ کیا تم اپنا اونٹ مجھے بیچتے ہو؟ میں نے عرض کیا: جی یا رسول اللہ! نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: مدینہ پہنچ کر۔ مدینہ پہنچ کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے صحابہ کے ساتھ مسجد نبوی میں داخل ہوئے میں نے اپنے اونٹ کو باندھا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ رہا آپ کا اونٹ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم باہر نکل کر اس کے گرد چکر لگانے اور فرمانے لگے میر اونٹ کتناخوبصورت ہے پھر فرمایا: اے فلاں جا کر چند اوقیہ سونا لے آؤ اور جابر رضی اللہ عنہ کو دیدو جب میں نے قیمت وصول کر لی تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تمہیں قیمت پوری پوری مل گئی۔ میں نے عرض کیا: جی یا رسول اللہ! نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دو مرتبہ یہ قیمت بھی تمہاری ہوئی اور اونٹ بھی تمہارا ہوا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 15004]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2470 و 2861، م: 715
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2470 و 2861، م: 715
حدیث نمبر: 15005 مسند احمد
أَبُو سَعِيدٍ ، أَبُو عَقِيلٍ ، أَبُو الْمُتَوَكِّلِ ، جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَقِيلٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْمُتَوَكِّلِ ، قَالَ: أَتَيْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، فَقُلْتُ: حَدِّثْنِي بِحَدِيثٍ شَهِدْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: تُوُفِّيَ وَالِدِي وَتَرَكَ عَلَيْهِ عِشْرِينَ وَسْقًا تَمْرًا دَيْنًا , وَلَنَا تُمْرَانٌ شَتَّى وَالْعَجْوَةُ لَا يَفِي بِمَا عَلَيْنَا مِنَ الدَّيْنِ , فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ , فَبَعَثَ إِلَى غَرِيمِي , فَأَبَى إِلَّا أَنْ يَأْخُذَ الْعَجْوَةَ كُلَّهَا , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" انْطَلِقْ فَأَعْطِهِ"، فَانْطَلَقْتُ إِلَى عَرِيشٍ لَنَا أَنَا وَصَاحِبَةٌ لِي , فَصَرَمْنَا تَمْرَنَا , وَلَنَا عَنْزٌ نُطْعِمُهَا مِنَ الْحَشَفِ قَدْ سَمُنَتْ , إِذَا أَقْبَلَ رَجُلَانِ إِلَيْنَا , إِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعُمَرُ , فَقُلْتُ: مَرْحَبًا يَا رَسُولَ اللَّهِ , مَرْحَبًا يَا عُمَرُ، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا جَابِرُ , انْطَلِقْ بِنَا حَتَّى نَطُوفَ فِي نَخْلِكَ هَذَا"، فَقُلْتُ: نَعَمْ، فَطُفْنَا بِهَا , وَأَمَرْتُ بِالْعَنْزِ فَذُبِحَتْ , ثُمَّ جِئْنَا بِوِسَادَةٍ , فَتَوَسَّدَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِوِسَادَةٍ مِنْ شَعْرٍ حَشْوُهَا لِيفٌ , فَأَمَّا عُمَرُ فَمَا وَجَدْتُ لَهُ مِنْ وِسَادَةٍ , ثُمَّ جِئْنَا بِمَائِدَةٍ لَنَا عَلَيْهَا رُطَبٌ وَتَمْرٌ وَلَحْمٌ , فَقَدَّمْنَاهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعُمَرَ، فَأَكَلَا وَكُنْتُ أَنَا رَجُلًا مِنْ نِشْوِيِّ الْحَيَاءُ , فَلَمَّا ذَهَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَضُ , قَالَتْ صَاحِبَتِي: يَا رَسُولَ اللَّهِ , دَعَوَاتٌ مِنْكَ، قَالَ:" نَعَمْ، فَبَارَكَ اللَّهُ لَكُمْ"، قَالَ:" نَعَمْ , فَبَارَكَ اللَّهُ لَكُمْ"، ثُمَّ بَعَثْتُ بَعْدَ ذَلِكَ إِلَى غُرَمَائِي , فَجَاءُوا بِأَحْمِرَةٍ وَجَوَالِيقَ , وَقَدْ وَطَّنْتُ نَفْسِي أَنْ أَشْتَرِيَ لَهُمْ مِنَ الْعَجْوَةِ، أُوفِيهِمُ الْعَجْوَةَ الَّذِي عَلَى أَبِي , فَأَوْفَيْتُهُمْ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ عِشْرِينَ وَسْقًا مِنَ الْعَجْوَةِ، وَفَضَلَ فَضْلٌ حَسَنٌ، فَانْطَلَقْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُبَشِّرُهُ بِمَا سَاقَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَيَّ، فَلَمَّا أَخْبَرْتُهُ، قَالَ:" اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ , اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ"، فَقَالَ لِعُمَرَ:" إِنَّ جَابِرًا قَدْ أَوْفَى غَرِيمَهُ"، فَجَعَلَ عُمَرُ يَحْمَدُ اللَّهَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابومتوکل کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان سے عرض کیا: کہ مجھے کوئی ایسی حدیث سنائی جس کا آپ نے مشاہدہ کیا ہوانہوں نے فرمایا کہ میرے والد صاحب کا انتقال ہو گیا ان پر کچھ وسق کھجوروں کا قرض تھا ہمارے پاس مختلف قسم کی چند کھجوریں اور کچھ عجوہ تھی جس سے ہمارا قرض ادا نہیں ہو سکتا تھا چنانچہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر یہ بات ذکر کر دی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے قرض خواہ کے پاس بھیجا لیکن اس نے سوائے عجوہ کے کوئی دوسری کھجور لینے سے انکار کر دیا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جا کر اسے عجوہ ہی دیدو چنانچہ میں اپنے خیمے میں پہنچا اور کھجوروں کو کاٹنا شروع کر دیا ہمارے پاس ایک بکری بھی تھی جسے ہم گھاس پھوس کھلایا کرتے تھے اور وہ خوب صحت مند ہو گئی تھی۔ اچانک ہم نے دیکھا کہ دو آدمی چلے آرہے ہیں قریب آئے تو دیکھا کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور سیدنا عمر تھے میں نے ان دونوں کو خوش آمدید کہا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جابر رضی اللہ عنہ ہمارے ساتھ چلو ہم تمہارے باغ کا ایک چکر لگانا چاہتے ہیں میں نے عرض کیا: بہت بہتر چنانچہ ہم نے باغ کا ایک چکر لگایا ادھر میں نے اپنی بیوی کو حکم دیا اور اس نے بکری کا بچہ ذبح کر لیا پھر ہم ایک تکیہ لائے جس سے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ٹیک لگائی وہ بالوں کا بنا ہوا تھا اور اس میں کھجور کی چھال بھری ہوئی تھی لیکن سیدنا عمر کے لئے دوسرا تکیہ نہ مل سکا۔ تھوڑی دیر بعد میں نے دسترخوان بچھایا اور اس پر دو طرح کھجوریں اور گوشت لا کر رکھا اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور سیدنا عمر کے سامنے پیش کیا ان دونوں نے کھانا تناول فرمایا: مجھ پر فطری طور حیاء کا غلبہ تھا جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اٹھ کر جانے لگے تو میری بیوی نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے دعا کی درخواست کی چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمارے لئے برکت کی دعا کی اس کے بعد میں نے اپنے قرض خواہوں کو بلا بھیجا وہ درانتیاں اور قینچیاں لے کر آ گئے لیکن اس ذات کی قسم جس کی دست قدرت میں میری جان ہے میں نے انہیں اس باغ میں بیس وسق عجوہ کھجور ادا کر دی اور اس کے باوجود بھی وہ بڑی مقدار میں بچ گئی میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ خوش خبری سنانے چلا گیا کہ اللہ نے مجھ پر کتنی مہربانی فرمائی ہے جب میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ خوش خبری سنائی تو آپ نے دو مرتبہ فرمایا: اللھم لک الحمد پھر سیدنا عمر سے فرمایا کہ جابر رضی اللہ عنہ نے اپنے قرض خواہوں کا ساراقرض اتاردیا سیدنا عمر بھی اللہ کا شکر کرنے لگے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 15005]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح كسابقه
الحكم: إسناده صحيح كسابقه
حدیث نمبر: 15006 مسند احمد
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ ، سُفْيَانُ ، الْأَعْمَشِ ، أَبِي سُفْيَانَ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ فَلْيَزْرَعْهَا، أَوْ لِيَمْنَحْهَا أَخَاهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس شخص کے پاس کوئی زمین ہواسے چاہئے کہ وہ خود اس میں کھیتی باڑی کر ے یا اپنے بھائی کو ہدیہ کے طور پردے دے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 15006]
حکم دارالسلام
إسناده قوي ، خ: 2340، م: 1536
الحكم: إسناده قوي ، خ: 2340، م: 1536
حدیث نمبر: 15007 مسند احمد
حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ ، مَالِكٍ ، جَعْفَرٍ ، أَبِيهِ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ جَعْفَرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" رَمَلَ مِنَ الْحَجَرِ إِلَى الْحَجَرِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حجر اسودوالے کونے سے حجراسود والے کونے تک رمل کیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 15007]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1263
الحكم: إسناده صحيح، م: 1263
حدیث نمبر: 15008 مسند احمد
حَمَّادٌ الْخَيَّاطُ ، عَاصِمُ بْنُ عُمَرَ ، عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَمَّادٌ الْخَيَّاطُ ، حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ أَضْحَى يَوْمًا مُحْرِمًا مُلَبِّيًا حَتَّى غَرَبَتِ الشَّمْسُ، غَرَبَتْ بِذُنُوبِهِ كَمَا وَلَدَتْهُ أُمُّهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص ایک دن میں حالت احرام میں تلبیہ کہتا ہوا گزرے یہاں تک کہ سورج غروب ہو جائے تو وہ اس کے گناہوں کو لے کر غروب ہو گا اور وہ ایساصاف ہو جائے گا جیسے اس کی ماں نے اسے آج ہی جنم دیا ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 15008]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، عاصم بن عمر ، وعاصم بن عبيد الله ضعيفان، وقد اضطربا فى إسناده
الحكم: إسناده ضعيف، عاصم بن عمر ، وعاصم بن عبيد الله ضعيفان، وقد اضطربا فى إسناده
حدیث نمبر: 15009 مسند احمد
سَهْلُ بْنُ يُوسُفَ ، حَجَّاجٍ ، عَطَاءٍ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ يُوسُفَ ، عَنْ حَجَّاجٍ , عَنْ عَطَاءٍ , عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ," أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابَهُ حِينَ قَدِمُوا، لَمْ يَزِيدُوا عَلَى طَوَافٍ وَاحِدٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور آپ کے صحابہ جب مکہ مکر مہ آئے تو انہوں نے ایک سے زیادہ طواف نہیں کئے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 15009]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل حجاج بن أرطاة، وقد صرح بالتحديث عند الدارقطني ، وانظر: 14900
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل حجاج بن أرطاة، وقد صرح بالتحديث عند الدارقطني ، وانظر: 14900
حدیث نمبر: 15010 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، زُهَيْرٌ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ , عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: أَرَأَيْتَ إِنْ جَاهَدْتُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ بِنَفْسِي وَمَالِي حَتَّى أُقْتَلَ صَابِرًا مُحْتَسِبًا، مُقْبِلًا غَيْرَ مُدْبِرٍ، أَأَدْخُلُ الْجَنَّةَ؟، قَالَ:" نَعَمْ، إِلَّا أَنْ تَدَعَ دَيْنًا لَيْسَ عِنْدَكَ وَفَاءٌ لَهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا یہ بتائیے کہ اگر میں اپنی جان مال کے ساتھ اللہ کے راستے میں جہاد کر وں اور ثابت قدم رہتے ہوئے ثواب کی نیت رکھتے ہوئے آگے بڑھتے ہوئے اور پشت پھیرے بغیر شہید ہو جاؤں تو کیا میں جنت میں داخل ہو جاؤں گا؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں! جبکہ تم اس حال میں نہ مرو کہ تم پر کچھ قرض ہواور اسے ادا کرنے کے لئے تمہارے پاس کچھ نہ ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 15010]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن، عبدالله بن محمد بن عقيل حسن الحديث فى المتابعات والشواهد
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن، عبدالله بن محمد بن عقيل حسن الحديث فى المتابعات والشواهد
حدیث نمبر: 15011 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، سُفْيَانَ ، مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ:" جَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُنِي، لَيْسَ بِرَاكِبٍ بَغْلًا، وَلَا بِرْذَوْنًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میری عیادت کے لئے تشریف لائے اس وقت وہ خچر پر سوار تھے اور نہ ہی گھوڑے پر۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 15011]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5664، م: 1616
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5664، م: 1616