عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، زُهَيْرٌ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ , عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: أَرَأَيْتَ إِنْ جَاهَدْتُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ بِنَفْسِي وَمَالِي حَتَّى أُقْتَلَ صَابِرًا مُحْتَسِبًا، مُقْبِلًا غَيْرَ مُدْبِرٍ، أَأَدْخُلُ الْجَنَّةَ؟، قَالَ:" نَعَمْ، إِلَّا أَنْ تَدَعَ دَيْنًا لَيْسَ عِنْدَكَ وَفَاءٌ لَهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا یہ بتائیے کہ اگر میں اپنی جان مال کے ساتھ اللہ کے راستے میں جہاد کر وں اور ثابت قدم رہتے ہوئے ثواب کی نیت رکھتے ہوئے آگے بڑھتے ہوئے اور پشت پھیرے بغیر شہید ہو جاؤں تو کیا میں جنت میں داخل ہو جاؤں گا؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں! جبکہ تم اس حال میں نہ مرو کہ تم پر کچھ قرض ہواور اسے ادا کرنے کے لئے تمہارے پاس کچھ نہ ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 15010]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن، عبدالله بن محمد بن عقيل حسن الحديث فى المتابعات والشواهد
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن، عبدالله بن محمد بن عقيل حسن الحديث فى المتابعات والشواهد