بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مُسْنَدُ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1188
صفحہ 29 از 60
حدیث نمبر: 14672 مسند احمد
حَسَنٌ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، أَبُو الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِذَا أَعْجَبَتْ أَحَدَكُمْ الْمَرْأَةُ، فَلْيَعْمِدْ إِلَى امْرَأَتِهِ، فَلْيُوَاقِعْهَا، فَإِنَّ ذَلِكَ يَرُدُّ مِنْ نَفْسِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص کسی عورت کو دیکھے اور وہ اسے اچھی لگے تو اسے چاہئے کہ وہ اپنی بیوی کے پاس آ جائے کیونکہ اس طرح کے جو خیالات دل میں ہو نگے وہ دور ہو جائیں گے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14672]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، م: 1403، وهذا إسناد ضعيف لسوء حفظ ابن لهيعة، وانظر: 14537
الحكم: صحيح لغيره، م: 1403، وهذا إسناد ضعيف لسوء حفظ ابن لهيعة، وانظر: 14537
حدیث نمبر: 14673 مسند احمد
حَدَّثَنَا حَسَنٌ: حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ: حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ، قَالَ: سَأَلْتُ جَابِرًا عَنْ شَأْنِ ثَقِيفٍ إِذْ بَايَعَتْ، فَقَالَ: اشْتَرَطَتْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه و آله وسلم أَنْ لَا صَدَقَةَ عَلَيْهَا وَلَا جِهَادَ
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوالزبیر کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ قبیلہ ثقیف نے کس طرح بیعت کی تھی؟ انہوں نے بتایا کہ مذکورہ قبیلے نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے یہ شرط لگائی تھی کہ ان پر صدقہ ہو گا اور نہ ہی جہاد۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14673]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف كسابقه
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف كسابقه
حدیث نمبر: 14674 مسند احمد
حَسَنٌ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، أَبُو الزُّبَيْرِ ، جَابِرٌ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، قَالَ: وَأَخْبَرَنِي جَابِرٌ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" سَيَصَّدَّقُونَ وَيُجَاهِدُونَ إِذَا أَسْلَمُوا"، يَعْنِي: ثَقِيفًا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: عنقریب یہ لوگ (قبیلہ بنوثقیف والے جب مسلمان ہو جائیں گے تو صدقہ بھی دیں گے اور جہاد بھی کر یں گے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14674]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف كسابقه
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف كسابقه
حدیث نمبر: 14675 مسند احمد
حَسَنٌ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، أَبُو الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ بَعْدَ أَنْ رَجَعْنَا:" إِنَّ بِالْمَدِينَةِ لَأَقْوَامًا، مَا سِرْتُمْ مَسِيرًا، وَلَا هَبَطْتُمْ وَادِيًا، إِلَّا وَهُمْ مَعَكُمْ، حَبَسَهُمْ الْمَرَضُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ تبوک سے واپسی کے موقع پر میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا کہ مدینہ منورہ میں کچھ ایسے لوگ بھی ہیں کہ تم جس راستے پر بھی چلو اور جس وادی کو بھی طے کر و وہ تمہارے ساتھ ساتھ رہے انہیں مرض نے روک رکھا تھا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14675]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 1911، وهذا إسناد ضعيف من اجل ابن لهيعة
الحكم: حديث صحيح، م: 1911، وهذا إسناد ضعيف من اجل ابن لهيعة
حدیث نمبر: 14676 مسند احمد
حَسَنٌ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، أَبُو الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّهُمْ غَزَوْا غَزْوَةً فِيمَا بَيْنَ مَكَّةَ، وَالْمَدِينَةِ، فَهَاجَتْ عَلَيْهِمْ رِيحٌ شَدِيدَةٌ، حَتَّى دَفَعَتِ الرِّحَالَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هَذَا لِمَوْتِ الْمُنَافِقِ"، فَرَجَعْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ، فَوَجَدْنَاهُ مُنَافِقًا عَظِيمَ، النِّفَاقِ قَدْ مَاتَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ مکہ اور مدینہ کے درمیان صحابہ کسی جہاد میں شریک تھے اچانک اتنی تیز آندھی آئی کہ کئی لوگوں کو اڑا کر لے گئی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ یہ ایک منافق کی موت کی علامت ہے چنانچہ جب ہم مدینہ منورہ پہنچے تو پتہ چلا کہ واقعی ایک بہت ہی بڑا منافق مرگیا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14676]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 2782، وهذا إسناد ضعيف لسوء حفظ ابن لهيعة
الحكم: حديث صحيح، م: 2782، وهذا إسناد ضعيف لسوء حفظ ابن لهيعة
حدیث نمبر: 14677 مسند احمد
حَسَنٌ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، أَبُو الزُّبَيْرِ ، جَابِرًا
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، قَالَ: سَأَلْتُ جَابِرًا عَنِ الْعَقَبَةِ، فَقَالَ: شَهِدَهَا سَبْعُونَ، فَوَافَقَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ آخِذٌ بِيَدِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَخَذْتُ وَأَعْطَيْتُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوالزبیر کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے بیعت عقبہ کے متعلق پوچھا: تو انہوں نے بتایا کہ اس موقع پر ستر آدمی شریک تھے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس اس حال میں تشریف لائے تھے کہ کہ سیدنا عباس نے ان کا ہاتھ تھاما ہوا تھا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے بیعت لے لی اور وعدہ دے دیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14677]
حکم دارالسلام
حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن لهيعة، وقد توبع
الحكم: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن لهيعة، وقد توبع
حدیث نمبر: 14678 مسند احمد
حَسَنٌ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، أَبُو الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَيَسِيرَنَّ رَاكِبٌ فِي جَنْبِ وَادِي الْمَدِينَةِ، فَلَيَقُولَنَّ: لَقَدْ كَانَ فِي هَذِهِ مَرَّةً حَاضِرَةٌ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ كَثِيرٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ایک وقت ایسا ضرور آئے گا جب ایک سوار وادی مدینہ کے ایک پہلو میں چل رہا ہو گا اور کہے گا کہ کبھی یہاں بھی موت سے مؤمن آباد ہوا کرتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14678]
حکم دارالسلام
حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف كسابقه
الحكم: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف كسابقه
حدیث نمبر: 14679 مسند احمد
حَسَنٌ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، أَبُو الزُّبَيْرِ ، جَابِرٌ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي جَابِرٌ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" لَيَتْرُكَنَّهَا أَهْلُهَا مُرْطِبَةً"، قَالُوا: فَمَنْ يَأْكُلُهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ؟، قَالَ:" عَافِيَةُ الطَّيْرِ وَالسِّبَاعِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ مدینہ منورہ کو ایک وقت میں یہاں کے رہنے والے چھوڑ دیں گے حالانکہ اس وقت مدینہ منورہ میں بہت عمدہ حالت ہو گی صحابہ نے پوچھا: یا رسول اللہ! پھر اسے کون کھائے گا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: درندے اور پرندے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14679]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف من أجل ابن لهيعة
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف من أجل ابن لهيعة
حدیث نمبر: 14680 مسند احمد
حَسَنٌ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، أَبُو الزُّبَيْرِ ، جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَخْبَرَنِي جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَيَأْتِيَنَّ عَلَى الْمَدِينَةِ زَمَانٌ يَنْطَلِقُ النَّاسُ مِنْهَا إِلَى الْآفَاقِ يَلْتَمِسُونَ الرَّخَاءَ، فَيَجِدُونَ رَخَاءً، ثُمَّ يَأْتُونَ، فَيَتَحَمَّلُونَ بِأَهْلِيهِمْ إِلَى الرَّخَاءِ، وَالْمَدِينَةُ خَيْرٌ لَهُمْ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ مدینہ منورہ پر ایک ایسا زمانہ ضرور آئے گا جب لوگ یہاں سے مدینہ منورہ کے کونے کونے کی طرف آسانی کی تلاش میں نکل جائیں گے انہیں آسانی اور سہو لیات مل جائیں گی اور وہ واپس آ کر اپنے گھر والوں کو بھی انہی سہو لیات میں لے جائیں گے حالانکہ اگر انہیں نہیں پتہ ہوتا تو مدینہ منورہ پھر بھی ان کے لئے بہتر تھا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14680]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف الضعف ابن لهيعة، وانظر ما قبله، وله شاهد من حديث سفيان بن أبى زهير عند البخاري: 1875، ومسلم: 1388
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف الضعف ابن لهيعة، وانظر ما قبله، وله شاهد من حديث سفيان بن أبى زهير عند البخاري: 1875، ومسلم: 1388
حدیث نمبر: 14681 مسند احمد
حَسَنٌ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، أَبُو الزُّبَيْرِ ، جَابِرٌ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَخْبَرَنِي جَابِرٌ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" رُؤْيَا الرَّجُلِ الْمُؤْمِنِ، جُزْءٌ مِنَ النُّبُوَّةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ مرد مومن کا خواب اجزاء نبوت میں سے ایک جزو ہوتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14681]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن لهيعة
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن لهيعة
حدیث نمبر: 14682 مسند احمد
حَسَنٌ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، أَبُو الزُّبَيْرِ ، جَابِرًا
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، قَالَ: سَأَلْتُ جَابِرًا عَنْ مِيثَرَةِ الْأُرْجُوَانِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا أَرْكَبُهَا، وَلَا أَلْبَسُ قَمِيصًا مَكْفُوفًا بِحَرِيرٍ، وَلَا أَلْبَسُ الْقَسِّيَّ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوالزبیر کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کے سرخ کجاوے کے بارے میں پوچھا: تو انہوں نے بتایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: میں اس پر سوار نہیں ہوتا اور میں ایسی قمیض نہیں پہنتا جس کے کف ریشمی ہوں اور نہ ہی ریشمی لباس پہنتا ہوں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14682]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن لهيعة
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن لهيعة
حدیث نمبر: 14683 مسند احمد
حَسَنٌ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، أَبُو الزُّبَيْرِ ، جَابِرًا
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، قَالَ: سَأَلْتُ جَابِرًا عَنِ الْفَأْرَةِ تَمُوتُ فِي الطَّعَامِ أَوْ الشَّرَابِ، أَطْعَمُهُ؟، قَالَ: لَا، زَجَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ، كُنَّا نَضَعُ السَّمْنَ فِي الْجِرَارِ، فَقَالَ:" إِذَا مَاتَتِ الْفَأْرَةُ فِيهِ فَلَا تَطْعَمُوهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوالزبیر کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ اگر کوئی چوہا کسی کھانے پینے کی چیز میں گر جائے تو کیا میں اسے کھا سکتا ہوں انہوں نے فرمایا کہ نہیں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے سختی سے منع فرما دیا ہم لوگ مٹکوں میں گھی رکھتے تھے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جب اس میں کوئی چوہا مر جائے تو اسے مت کھایا کر و۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14683]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، ابن الهيعة سيئ الحفظ
الحكم: إسناده ضعيف، ابن الهيعة سيئ الحفظ
حدیث نمبر: 14684 مسند احمد
حَسَنٌ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، أَبُو الزُّبَيْرِ ، جَابِرًا
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، قَالَ: سَأَلْتُ جَابِرًا عَنِ الضَّبِّ، فَقَالَ: أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهِ، فَقَالَ:" لَا أَطْعَمُهُ" وَقَذِرَهُ، فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يُحَرِّمْهُ، وَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَيَنْفَعُ بِهِ غَيْرَ وَاحِدٍ، وَهُوَ طَعَامُ عَامَّةِ الرِّعَاءِ، وَلَوْ كَانَ عِنْدِي لَطَعِمْتُهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوالزبیر کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے گوہ کے متعلق پوچھا: تو انہوں نے بتایا کہ ایک مرتبہ ان کے پاس گوہ لائی گئی تھی تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: میں اسے نہیں کھاتا بلکہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے گھن محسوس کی ہے سیدنا عمر فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے حرام قرار نہیں دیا اس لئے اللہ بہت سے لوگوں کے ذریعے فائدہ پہنچا دیتا ہے اور یہ عام طور پر چرواہوں کا کھانا ہے اور اگر میرے پاس گوہ ہو تی تو میں اسے کھا لیتا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14684]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف السوء حفظ ابن لهيعة، وأخرجه مسلم موقوفا: 1950، من طريق معقل عن أبى الزبير ، قال: سألت جابرا عن الضب فقال: لا تطعموه، وقذره، ثم ذكر قصة عمر
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف السوء حفظ ابن لهيعة، وأخرجه مسلم موقوفا: 1950، من طريق معقل عن أبى الزبير ، قال: سألت جابرا عن الضب فقال: لا تطعموه، وقذره، ثم ذكر قصة عمر
حدیث نمبر: 14685 مسند احمد
حَسَنٌ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، أَبُو الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا يُقِيمُ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، ثُمَّ يُخَالِفُهُ إِلَى مَقْعَدِهِ فَيَقْعُدُ فِيهِ، وَلَكِنْ لِيَقُولَنَّ: تَفَسَّحُوا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم میں سے کوئی شخص اپنے بھائی کو جمعہ کے دن بھی اس کی جگہ سے اٹھا کر خود وہاں نہ بیٹھے بلکہ اسے جگہ کشادہ کرنے کی ترغیب دینی چاہیے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14685]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 2178، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن الهيعة، وقد توبع
الحكم: حديث صحيح، م: 2178، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن الهيعة، وقد توبع
حدیث نمبر: 14686 مسند احمد
حَسَنٌ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، أَبُو الزُّبَيْرِ ، جَابِرًا
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، قَالَ: سَأَلْتُ جَابِرًا عَنِ الرَّجُلِ يَتَوَلَّى مَوْلَى الرَّجُلِ بِغَيْرِ إِذْنِهِ، فَقَالَ: كَتَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى كُلِّ بَطْنٍ عُقُولَهُمْ، ثُمَّ كَتَبَ" إِنَّهُ لَا يَحِلُّ أَنْ يُتَوَلَّى مَوْلَى رَجُلٍ مُسْلِمٍ بِغَيْرِ إِذْنِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوالزبیر کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ اگر کوئی آدمی اپنے آقا کی اجازت کے بغیر کسی دوسرے سے عقد موالات کر لے تو کیا حکم ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے قبیلے کی ہر شاخ پر دیت کا حصہ ادا کرنا فرض قرار دیا اور یہ بات بھی تحریر فرمادی کہ کسی شخص کے لئے کسی مسلمان آدمی کے غلام سے عقد موالات کرنا اس کی اجازت کے بغیر حلال نہیں ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14686]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 1507، وهذا إسناد ضعيف لأجل ابن لهيعة، وانظر مابعده
الحكم: حديث صحيح، م: 1507، وهذا إسناد ضعيف لأجل ابن لهيعة، وانظر مابعده
حدیث نمبر: 14687 مسند احمد
حَسَنٌ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، أَبُو الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" لَعَنَ فِي صَحِيفَتِهِ مَنْ فَعَلَ ذَلِكَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے صحیفے میں ایسا کرنے والے پر لعنت فرمائی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14687]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 1507، وانظر ما قبله
الحكم: حديث صحيح، م: 1507، وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 14688 مسند احمد
حَسَنٌ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، أَبُو الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" مَنْ تَرَكَ دِينَارًا فَهُوَ كَيَّةٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص ایک دینار چھوڑ جائے وہ ایک داغ ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14688]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن لهيعة
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن لهيعة
حدیث نمبر: 14689 مسند احمد
حَسَنٌ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، أَبُو الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِذَا ثُوِّبَ بِالصَّلَاةِ، فُتِحَتْ أَبْوَابُ السَّمَاءِ، وَاسْتُجِيبَ الدُّعَاءُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب نماز کے لئے اعلان کیا جاتا ہے تو آسمان کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور دعائیں قبول کی جاتی ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14689]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف كسابقه
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف كسابقه
حدیث نمبر: 14690 مسند احمد
حَسَنٌ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، أَبُو الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا، وَنَظَرَ إِلَى الشَّامِ، فَقَالَ:" اللَّهُمَّ أَقْبِلْ بِقُلُوبِهِمْ"، وَنَظَرَ إِلَى الْعِرَاقِ، فَقَالَ نَحْوَ ذَلِكَ، وَنَظَرَ قِبَلَ كُلِّ أُفُقٍ فَفَعَلَ ذَلِكَ، وَقَالَ:" اللَّهُمَّ ارْزُقْنَا مِنْ ثَمَرَاتِ الْأَرْضِ، وَبَارِكْ لَنَا فِي مُدِّنَا وَصَاعِنَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے شام کی جانب رخ کیا اور میں نے آپ کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ اے اللہ ان کے دلوں کو پھیر دے پھر عراق کی طرف رخ کیا اور یہی دعاء فرمائی اور افق کی سمت رخ کر کے اسی طرح دعاء کرنے کے بعد فرمایا: اے اللہ ہمیں زمین کے پھل عطا فرما اور ہمارے مد اور ہمارے صاع میں برکت عطا فرما۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14690]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، ابن لهيعة - وإن كان سيئ الحفظ - لكن روى عنه هذا الحديث عبدالله بن وهب عند ابن عساكر فى تاريخه: 126\1وروايته عنه صالحة عند أهل العلم،وأبو الزبير لم يصرح بسماعه
الحكم: صحيح لغيره، ابن لهيعة - وإن كان سيئ الحفظ - لكن روى عنه هذا الحديث عبدالله بن وهب عند ابن عساكر فى تاريخه: 126\1وروايته عنه صالحة عند أهل العلم،وأبو الزبير لم يصرح بسماعه
حدیث نمبر: 14691 مسند احمد
حَسَنٌ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، أَبُو الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" طَيْرُ كُلِّ عَبْدٍ فِي عُنُقِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ہر بندے کا نامہ اعمال اس کی گردن میں لٹکا ہوا ہو گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14691]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف ابن لهيعة
الحكم: إسناده ضعيف لضعف ابن لهيعة