بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 14675
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 14675
حدیث نمبر: 14675 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
حَسَنٌ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، أَبُو الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ بَعْدَ أَنْ رَجَعْنَا:" إِنَّ بِالْمَدِينَةِ لَأَقْوَامًا، مَا سِرْتُمْ مَسِيرًا، وَلَا هَبَطْتُمْ وَادِيًا، إِلَّا وَهُمْ مَعَكُمْ، حَبَسَهُمْ الْمَرَضُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ تبوک سے واپسی کے موقع پر میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا کہ مدینہ منورہ میں کچھ ایسے لوگ بھی ہیں کہ تم جس راستے پر بھی چلو اور جس وادی کو بھی طے کر و وہ تمہارے ساتھ ساتھ رہے انہیں مرض نے روک رکھا تھا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14675]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 1911، وهذا إسناد ضعيف من اجل ابن لهيعة
الحكم: حديث صحيح، م: 1911، وهذا إسناد ضعيف من اجل ابن لهيعة
← پچھلی حدیث (14674) باب پر واپس اگلی حدیث (14676) →