حَسَنٌ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، أَبُو الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّهُمْ غَزَوْا غَزْوَةً فِيمَا بَيْنَ مَكَّةَ، وَالْمَدِينَةِ، فَهَاجَتْ عَلَيْهِمْ رِيحٌ شَدِيدَةٌ، حَتَّى دَفَعَتِ الرِّحَالَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هَذَا لِمَوْتِ الْمُنَافِقِ"، فَرَجَعْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ، فَوَجَدْنَاهُ مُنَافِقًا عَظِيمَ، النِّفَاقِ قَدْ مَاتَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ مکہ اور مدینہ کے درمیان صحابہ کسی جہاد میں شریک تھے اچانک اتنی تیز آندھی آئی کہ کئی لوگوں کو اڑا کر لے گئی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ یہ ایک منافق کی موت کی علامت ہے چنانچہ جب ہم مدینہ منورہ پہنچے تو پتہ چلا کہ واقعی ایک بہت ہی بڑا منافق مرگیا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14676]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 2782، وهذا إسناد ضعيف لسوء حفظ ابن لهيعة
الحكم: حديث صحيح، م: 2782، وهذا إسناد ضعيف لسوء حفظ ابن لهيعة