بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مُسْنَدُ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1188
صفحہ 49 از 60
حدیث نمبر: 15072 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَطَاءٌ ، جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ , أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ , أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ , وَذَكَرُوا الْعَزْلَ , فَقَالَ:" كُنَّا نَصْنَعُهُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دور باسعادت میں عزل کر لیا کرتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 15072]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5207، م: 1440، وانظر: 1532
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5207، م: 1440، وانظر: 1532
حدیث نمبر: 15073 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَطَاءٌ ، جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ , قَالَ عَطَاءٌ : حِينَ قَدِمَ جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ مُعْتَمِرًا , فَجِئْنَاهُ فِي مَنْزِلِهِ , فَسَأَلَهُ الْقَوْمُ عَنْ أَشْيَاءَ، ثُمَّ ذَكَرُوا لَهُ الْمُتْعَةَ , فَقَالَ:" نَعَمْ، اسْتَمْتَعْنَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبِي بَكْرٍ , وَعُمَرَ حَتَّى إِذَا كَانَ فِي آخِرِ خِلَافَةِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عطاء کہتے ہیں کہ جب سیدنا جابر رضی اللہ عنہ عمرے کے لئے تشریف لائے تو ہم ان کے گھر حاضر ہوئے لوگوں نے ان سے مختلف سوالات پوچھے پھر متعہ کے متعلق پوچھا: انہوں نے فرمایا کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور سیدنا ابوبکر وعمر کے دور میں عورتوں سے متعہ کیا کرتے تھے حتی کے بعد میں سیدنا عمر نے اس کی ممانعت فرما دی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 15073]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1405
الحكم: إسناده صحيح، م: 1405
حدیث نمبر: 15074 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، الْحَجَّاجَ بْنَ أَرْطَاةَ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , قَالَ: سَمِعْتُ الْحَجَّاجَ بْنَ أَرْطَاةَ , عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ،" أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَابَتْ لَهُ الشَّمْسُ بِمَكَّةَ , فَلَمْ يُصَلِّ الْمَغْرِبَ حَتَّى أَتَى سَرِفَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مقام سرف سے غروب آفتاب کے وقت روانہ ہوئے لیکن نماز مکہ مکر مہ میں پہنچ کر پڑھی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 15074]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، الحجاج بن أرطاة وأبو الزبير مدلسان وقد عنعنا ، وقد خالف الحجاج بن أرطاة فى متن هذا الحديث فرواه مقلوبا، وصوابه قد سلف، برقم: 14274
الحكم: إسناده ضعيف، الحجاج بن أرطاة وأبو الزبير مدلسان وقد عنعنا ، وقد خالف الحجاج بن أرطاة فى متن هذا الحديث فرواه مقلوبا، وصوابه قد سلف، برقم: 14274
حدیث نمبر: 15075 مسند احمد
سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ , عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ , سَمِعَهُ مِنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ " أَتَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أُبَيٍّ , بَعْدَ مَا أُدْخِلَ فِي حُفْرَتِهِ , فَوَضَعَهُ عَلَى رُكْبَتِهِ , وَأَلْبَسَهُ قَمِيصَهُ، وَنَفَثَ عَلَيْهِ مِنْ رِيقِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب رئیس المنافقین عبداللہ بن ابی مرگیا اور اسے قبر میں اتارا جا چکا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے قبر سے نکلوایا اور اس کی پیشانی سے پاؤں تک اپنا لعاب دہن ملا اور اسے اپنی قمیض پہنا دی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 15075]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1270، م: 2773
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1270، م: 2773
حدیث نمبر: 15076 مسند احمد
سُفْيَانُ ، عَمْرٌو ، جَابِرًا
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , قَالَ: سَمِعَ عَمْرٌو ، جَابِرًا ، يَقُولُ: سَمِعَتْ أُذُنَايَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قَوْمٌ يَخْرُجُونَ مِنَ النَّارِ، فَيَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میرے کانوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ جہنم سے کچھ لوگوں کو نکال کر جنت میں داخل فرمائیں گے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 15076]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6558، م: 191
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6558، م: 191
حدیث نمبر: 15077 مسند احمد
سُفْيَانُ ، عَمْرٍو ، سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ عَمْرٍو , عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ , أَنَّ أَمِيرًا كَانَ بِالْمَدِينَةِ يُقَالُ لَهُ: طَارِقٌ ," قَضَى بِالْعُمْرَى لِلْوَارِثِ" , عَلَى قَوْلِ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سلیمان بن یسار کہتے ہیں کہ مدینہ منورہ میں ایک گورنر تھا جس کا نام طارق تھا اس نے یہ فیصلہ دیا تھا کہ عمری کا حق وارث کے لئے ہو گا اور اسنے اس کی دلیل اس نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کی حدیث سے دی تھی جو انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حوالے سے نقل کی تھی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 15077]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، وانظر صحيح مسلم: 1625
الحكم: إسناده صحيح، وانظر صحيح مسلم: 1625
حدیث نمبر: 15078 مسند احمد
سُفْيَانُ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرًا
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، سَمِعَ جَابِرًا , يَقُولُ:" لَمْ نُبَايِعْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمَوْتِ , إِنَّمَا بَايَعْنَاهُ عَلَى أَنْ لَا نَفِرَّ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم نے صلح حدیبیہ کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اس بات پر بیعت کی تھی کہ ہم میدان جنگ سے راہ فرار اختیار نہیں کر یں گے موت پر بیعت نہیں کی تھی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 15078]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1856
الحكم: إسناده صحيح، م: 1856
حدیث نمبر: 15079 مسند احمد
سُفْيَانُ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرًا
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، سَمِعَ جَابِرًا , يَقُولُ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنْ كَسْبِ الْحَجَّامِ , فَقَالَ:" اعْلِفْهُ نَاضِحَكَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کسی شخص نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سینگی لگانے کی اجرت کے متعلق سوال کیا تو آپ نے فرمایا: ان پیسوں کا چارہ خرید کر اپنے اونٹ کو کھلادو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 15079]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 15080 مسند احمد
سُفْيَانُ ، ابْنُ عَقِيلٍ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , حَدَّثَنَا ابْنُ عَقِيلٍ , عَنْ جَابِرٍ أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَكَلَ خُبْزًا وَلَحْمًا , فَصَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے روٹی اور گوشت تناول فرمایا: اور تازہ وضو کئے بغیر نماز پڑھ لی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 15080]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل عبدالله بن محمد بن عقيل، وهو متابع
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل عبدالله بن محمد بن عقيل، وهو متابع
حدیث نمبر: 15081 مسند احمد
حَمَّادُ بْنُ أُسَامَةَ ، هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ رَافِعٍ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ أُسَامَةَ , حَدَّثَنِي هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ , حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ رَافِعٍ , عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ أَحْيَا أَرْضًا مَيْتَةً , فَهِيَ لَهُ , وَمَا أَكَلَتِ الْعَافِيَةُ مِنْهُ , لَهُ بِهِ صَدَقَةٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص کسی ویران بنجر زمین کو آباد کر ے وہ اس کی ہو گی اور جتنے جانور اس میں سے کھائیں گے اسے ان سب پر صدقے کا ثواب ملے گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 15081]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 15082 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا ، حَجَّاجٌ ، عَطَاءٍ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا , أَخْبَرَنَا حَجَّاجٌ , عَنْ عَطَاءٍ , وَعَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ , عَنْ جَابِرٍ أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى أَنْ يُبَاعَ مَا فِي رُءُوسِ النَّخْلِ بِتَمْرٍ كَيْلًا"
حکم دارالسلام
حديث صحيح، حجاج بن أرطاة مدلس، وقد عنعنه، لكنه متابع
الحكم: حديث صحيح، حجاج بن أرطاة مدلس، وقد عنعنه، لكنه متابع
حدیث نمبر: 15083 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا ، حَجَّاجٌ ، عَطَاءٍ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا , أَخْبَرَنَا حَجَّاجٌ , عَنْ عَطَاءٍ , وَعَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى أَنْ تُبَاعَ الثِّمَارُ حَتَّى يَبْدُوَ صَلَاحُهَا , وَأَنْ تُبَاعَ سَنَتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ درختوں پر لگی ہوئی کھجوروں کی کٹی ہوئی کھجوروں کے عوض ناپ کر بیچا جائے۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پھل پکنے سے پہلے اور کئی سالوں کے ٹھیکے پر پھلوں کی خریدوفروخت سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 15083]
حکم دارالسلام
حديث صحيح كسابقه، م: 1536
الحكم: حديث صحيح كسابقه، م: 1536
حدیث نمبر: 15084 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ ، حَجَّاجٌ ، عَطَاءٍ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ ، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ , عَنْ عَطَاءٍ , وَعَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ , عَنْ جَابِرٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى أَنْ يُبَاعَ مَا فِي رُءُوسِ النَّخْلِ بِتَمْرٍ مَكِيلٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ درختوں پر لگی ہوئی کھجوروں کو کٹی ہوئی کھجوروں کے عوض ناپ کر بیچا جائے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 15084]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهو مكرر: 15082
الحكم: حديث صحيح، وهو مكرر: 15082
حدیث نمبر: 15085 مسند احمد
عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَبْدُ الْمَلِكِ ، عَطَاءٍ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ , عَنْ عَطَاءٍ , عَنْ جَابِرٍ , قَالَ: شَهِدْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي يَوْمِ عِيدٍ ," بَدَأَ بِالصَّلَاةِ قَبْلَ الْخُطْبَةِ , بِغَيْرِ أَذَانٍ وَلَا إِقَامَةٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ عیدالفطر کے دن میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھا انہوں نے بغیر اذان و اقامت کے خطبے سے پہلے نماز پڑھائی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 15085]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 978، م: 885، وانظر: 15101
الحكم: إسناده صحيح، خ: 978، م: 885، وانظر: 15101
حدیث نمبر: 15086 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ يَمَانٍ ، الْمُثَنَّى ، عَطَاءٍ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَمَانٍ , عَنِ الْمُثَنَّى , عَنْ عَطَاءٍ , عَنْ جَابِرٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" طَافَ طَوَافًا وَاحِدًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک ہی طواف کیا تھا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 15086]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، المثنى بن الصباح ضعيف، ويحيى بن يمان شيخ أحمد ليس بذاك القوي، وانظر: 14900
الحكم: إسناده ضعيف، المثنى بن الصباح ضعيف، ويحيى بن يمان شيخ أحمد ليس بذاك القوي، وانظر: 14900
حدیث نمبر: 15087 مسند احمد
زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، حُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ ، أَبُو الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ , حَدَّثَنِي حُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ , حَدَّثَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنَّ أَخِي مَاتَ , فَكَيْفَ أُكَفِّنُهُ؟، قَالَ:" أَحْسِنْ كَفَنَهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس ایک آدمی آیا اور کہنے لگا کہ میر ابھائی فوت ہو گیا ہے میں اسے کس طرح کفن دوں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ اسے اچھے طریقے سے کفناؤ۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 15087]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد قوي ، وانظر: 14145
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد قوي ، وانظر: 14145
حدیث نمبر: 15088 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، قَتَادَةُ ، سُلَيْمَانَ بْنِ قَيْسٍ الْيَشْكُرِيِّ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ , حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ , حَدَّثَنَا قَتَادَةُ , عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ قَيْسٍ الْيَشْكُرِيِّ , عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ:" مَنْ حَاطَ حَائِطًا عَلَى أَرْضٍ , فَهِيَ لَهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص کسی زمین پر چاردیواری کر کے باغ بنالے وہ زمین اسی کی ہو گی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 15088]
حکم دارالسلام
رجاله ثقات رجال الشيخين غير سليمان بن قيس اليشكري، وهو ثقة، لكن رواية قتاده عنه صحيفة، ولم يسمع منه، وانظر: 14271
الحكم: رجاله ثقات رجال الشيخين غير سليمان بن قيس اليشكري، وهو ثقة، لكن رواية قتاده عنه صحيفة، ولم يسمع منه، وانظر: 14271
حدیث نمبر: 15089 مسند احمد
يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ ، الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ ، جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ , عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ , قَالَ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ : قُلْتُ لِجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , فَقَالَ جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ : يَا ابْنَ أَخِي , أَنَا أَعْلَمُ النَّاسِ بِهَذَا الْحَدِيثِ , كُنْتُ فِيمَنْ رَجَمَ الرَّجُلَ يَعْنِي مَاعِزًا , إِنَّا لَمَّا رَجَمْنَاهُ وَجَدَ مَسَّ الْحِجَارَةِ , فَقَالَ: أَيْ قَوْمِ , رُدُّونِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَإِنَّ قَوْمِي هُمْ قَتَلُونِي وَغَرُّونِي مِنْ نَفْسِي، وَقَالُوا: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيْرُ قَاتِلِكَ، قَالَ: فَلَمْ نَنْزَعْ عَنِ الرَّجُلِ حَتَّى فَرَغْنَا مِنْهُ , قَالَ: فَلَمَّا رَجَعْنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرْنَا لَهُ قَوْلَهُ , فَقَالَ:" أَلَا تَرَكْتُمُ الرَّجُلَ وَجِئْتُمُونِي بِهِ" , إِنَّمَا أَرَادَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَتَثَبَّتَ فِي أَمْرِهِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حسن بن محمد کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے سیدنا ماعز کے رجم کا واقعہ پوچھا: تو انہوں نے فرمایا کہ بھتیجے اس حدیث کے متعلق میں سب سے زیادہ جانتا ہوں کیونکہ میں بھی ان لوگوں میں شامل تھا جنہوں نے انہیں پتھر مارے جب ہم انہیں پتھر مارنے لگے اور انہیں اس کی تکلیف ہوئی تو وہ کہنے لگے کہ لوگو مجھے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ہاں واپس لے چلو میری قوم نے تو مجھے مار ہی ڈالا اور مجھے دھوکے میں رکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تمہیں کسی صورت میں قتل نہیں کر یں گے لیکن ہم نے اپنا ہاتھ نہ کھینچا یہاں تک کہ انہیں ختم کر ڈالا جب ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس واپس آئے تو ہم نے ان کی بات نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے کی تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ تم نے انہیں چھوڑ کیوں نہ دیا اور میرے پاس کیوں نہ لائے دراصل نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم چاہ رہے تھے اس سے اس معاملے میں مزید تحقیق کر لیتے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 15089]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 15090 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الْوَاسِطِيُّ يَعْنِي الْمُزَنِيَّ ، أَبُو يُوسُفَ الْحَجَّاجُ يَعْنِي ابْنَ أَبِي زَيْنَبَ الصَّيْقَلَ ، أَبِي سُفْيَانَ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الْوَاسِطِيُّ يَعْنِي الْمُزَنِيَّ , حَدَّثَنَا أَبُو يُوسُفَ الْحَجَّاجُ يَعْنِي ابْنَ أَبِي زَيْنَبَ الصَّيْقَلَ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ , قَالَ:" مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرَجُلٍ , وَهُوَ يُصَلِّي وَقَدْ وَضَعَ يَدَهُ الْيُسْرَى عَلَى الْيُمْنَى , فَانْتَزَعَهَا وَوَضَعَ الْيُمْنَى عَلَى الْيُسْرَى".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا گزر ایک شخص پر ہوا جو نماز پڑھ رہا تھا اور اس نے اپنا بایاں ہاتھ دائیں ہاتھ پر رکھا ہوا تھا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کا ہاتھ اٹھا کر دائیں ہاتھ کو بائیں ہاتھ کے اوپر رکھ دیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 15090]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، الحجاج بن أبى زينب الصيقل فيه ضعف، وقد اضطرب فى إسناد هذا الحديث
الحكم: إسناده ضعيف، الحجاج بن أبى زينب الصيقل فيه ضعف، وقد اضطرب فى إسناد هذا الحديث
حدیث نمبر: 15091 مسند احمد
يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ، الْحَسَنِ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ , حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ , عَنِ الْحَسَنِ , عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا كُنْتُمْ فِي الْخِصْبِ , فَأَمْكِنُوا الرَّكْبَ أَسِنَّتَهَا , وَلَا تَعْدُوا الْمَنَازِلَ , وَإِذَا كُنْتُمْ فِي الْجَدْبِ فَاسْتَنْجُوا , وَعَلَيْكُمْ بِالدُّلْجَةِ , فَإِنَّ الْأَرْضَ تُطْوَى بِاللَّيْلِ , فَإِذَا تَغَوَّلَتْ بِكُمُ الْغِيلَانُ فَبَادِرُوا بِالْأَذَانِ , وَلَا تُصَلُّوا عَلَى جَوَادِ الطُّرُقِ , وَلَا تَنْزِلُوا عَلَيْهَا , فَإِنَّهَا مَأْوَى الْحَيَّاتِ وَالسِّبَاعِ , وَلَا تَقْضُوا عَلَيْهَا الْحَوَائِجَ فَإِنَّهَا الْمَلَاعِنُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب تم سرسبز و شاداب علاقے میں سفر کر و تو اپنی سواریوں کو وہاں کی شادابی سے فائدہ اٹھانے کا موقع دیا کر و اور منزل سے آگے نہ بڑھا کر و اور جب خشک زمین پر سفر کرنے لگو تو وہاں سے تیزی سے گزر جایا کر و اور اس صورت میں رات کے اندھیرے میں سفر کرنے کو ترجیح دو کیونکہ رات کے وقت ایسا محسوس ہوتا ہے کہ گویا زمین لپٹی جارہی ہے اور اگر راستے میں بھٹک جاؤ تو اذان دیا کر و نیز راستے کے بیچ میں کھڑے ہو کر نماز نہ پڑھا کر و اور نہ ہی وہاں پڑاؤ کر و کیونکہ وہ سانپوں اور درندوں کے ٹھکانے ہوتے ہیں اور یہاں قضاء حاجت بھی نہ کیا کر و کیونکہ یہ لعنت کا سبب ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 15091]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره دون قصة الغيلان، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، فإن الحسن البصري لم يسمع من جابر
الحكم: صحيح لغيره دون قصة الغيلان، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، فإن الحسن البصري لم يسمع من جابر