بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مُسْنَدُ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1188
صفحہ 22 از 60
حدیث نمبر: 14532 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، سُفْيَانُ ، الْأَعْمَشِ ، أَبِي سُفْيَانَ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ قَبْلَ مَوْتِهِ بِثَلَاثٍ:" لَا يَمُوتَنَّ أَحَدُكُمْ إِلَّا وَهُوَ يُحْسِنُ بِاللَّهِ الظَّنَّ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو وصال سے تین دن پہلے یہ فرماتے ہوئے سنا کہ تم میں سے جس شخص کو بھی موت آئے وہ اس حال میں ہو کہ اللہ کے ساتھ حسن ظن رکھتا ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14532]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، و ھذا إسناده قوي، م: 2877
الحكم: حديث صحيح، و ھذا إسناده قوي، م: 2877
حدیث نمبر: 14533 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ ، يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي عَلَى رَاحِلَتِهِ نَحْوَ الْمَشْرِقِ، فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يُصَلِّيَ الْمَكْتُوبَةَ، نَزَلَ، فَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نوافل اپنی سواری پر ہی مشرق کی جانب رخ کر کے بھی پڑھ لیتے تھے لیکن جب فرض پڑھنے کا ارادہ فرماتے تو سواری سے اتر کر قبلہ رخ ہو کر نماز پڑھتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14533]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 400
الحكم: إسناده صحيح، خ: 400
حدیث نمبر: 14534 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ ، الْقَاسِمُ يَعْنِي ابْنَ الْفَضْلِ وَهُوَ الْحُدَّانِيُّ ، سَعِيدُ بْنُ الْمُهَلَّبِ ، طَلْقِ بْنِ حَبِيبٍ ، جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ يَعْنِي ابْنَ الْفَضْلِ وَهُوَ الْحُدَّانِيُّ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ الْمُهَلَّبِ ، عَنْ طَلْقِ بْنِ حَبِيبٍ ، قَالَ: كُنْتُ مِنْ أَشَدِّ النَّاسِ تَكْذِيبًا بِالشَّفَاعَةِ، حَتَّى لَقِيتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ فَقَرَأْتُ عَلَيْهِ كُلَّ آيَةٍ ذَكَرَهَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِيهَا خُلُودُ أَهْلِ النَّارِ، فَقَالَ: يَا طَلْقُ، أَتُرَاكَ أَقْرَأَ لِكِتَابِ اللَّهِ مِنِّي، وَأَعْلَمَ بِسُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَاتُّضِعْتُ لَهُ، فَقُلْتُ: لَا وَاللَّهِ، بَلْ أَنْتَ أَقْرَأُ لِكِتَابِ اللَّهِ مِنِّي، وَأَعْلَمُ بِسُنَّتِهِ مِنِّي، قَالَ: فَإِنَّ الَّذِي قَرَأْتَ أَهْلُهَا هُمْ الْمُشْرِكُونَ، وَلَكِنْ قَوْمٌ أَصَابُوا ذُنُوبًا فَعُذِّبُوا بِهَا، ثُمَّ أُخْرِجُوا، صُمَّتَا وَأَهْوَى بِيَدَيْهِ إِلَى أُذُنَيْهِ، إِنْ لَمْ أَكُنْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" يَخْرُجُونَ مِنَ النَّارِ" وَنَحْنُ نَقْرَأُ مَا تَقْرَأُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
طلق بن حبیب کہتے ہیں کہ میں پہلے شفاعت کی تکذیب کرنے والے لوگوں میں سب سے زیادہ شدت پسند تھا حتی کہ ایک دن میری ملاقات سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے ہو گئی میں نے ان کے سامنے وہ تمام آیات پڑھ دیں جن میں اللہ تعالیٰ نے جہنمیوں کا جہنم میں ہمیشہ رہنا ذکر کیا ہے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرمانے لگے کہ اے طلق تمہارا کیا خیال ہے کہ تم مجھ سے زیادہ قرآن پڑھتے ہو؟ مجھ سے زیادہ قرآن پڑھنے والے ہیں اور آپ ہی مجھ سے زیادہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی سنت کو جانتے ہیں انہوں نے فرمایا کہ تم نے جتنی بھی آیات پڑھی ہیں ان سب کا تعلق مشرکین سے ہے البتہ وہ لوگ جن سے گناہ سرزد ہوئے ہوں انہیں سزا کے بعد جہنم سے نکال لیا جائے گا یہ دونوں کان بہرے ہو جائیں گے اگر میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے نہ سناہو کہ انہیں جہنم سے نکال لیا جائے گا حالانکہ جو آیات تم پڑھتے ہو ہم بھی وہ پڑھتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14534]
حکم دارالسلام
إسناد ضعيف، سعید بن المھلب في عداد المجھولین
الحكم: إسناد ضعيف، سعید بن المھلب في عداد المجھولین
حدیث نمبر: 14535 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، وَمُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، زَائِدَةُ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، وَمُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، قَالَا: حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَبِي بَكْرٍ:" أَيَّ حِينٍ تُوتِرُ؟" قَالَ: أَوَّلَ اللَّيْلِ بَعْدَ الْعَتَمَةِ، قَالَ:" فَأَنْتَ يَا عُمَرُ"، قَالَ: آخِرَ اللَّيْلِ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَمَّا أَنْتَ يَا أَبَا بَكْرٍ، فَأَخَذْتَ بِالْوُثْقَى، وَأَمَّا أَنْتَ يَا عُمَرُ، فَأَخَذْتَ بِالْقُوَّةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سیدنا صدیق اکبر سے پوچھا کہ آپ نماز وتر کب پڑھتے ہیں انہوں نے عرض کیا: کہ نماز عشاء کے بعد رات کے پہلے پہر میں یہی سوال نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سیدنا عمر سے پوچھا: تو انہوں نے عرض کیا: کہ رات کے آخری پہر میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ابوبکر تم نے اس پہلو کو ترجیح دی جس میں اعتماد ہے اور عمر تم نے اس پہلو کو ترجیح دی جس میں قوت ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14535]
حکم دارالسلام
إسناده حسن، وانظر: 14323
الحكم: إسناده حسن، وانظر: 14323
حدیث نمبر: 14536 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، وَأَبُو سَعِيدٍ ، زَائِدَةُ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، وَأَبُو سَعِيدٍ المعنى، قَالَا: حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: تُوُفِّيَ رَجُلٌ فَغَسَّلْنَاهُ، وَحَنَّطْنَاهُ وَكَفَّنَّاهُ، ثُمَّ أَتَيْنَا بِهِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي عَلَيْهِ، فَقُلْنَا نُصَلِّي عَلَيْهِ، فَخَطَا خُطًى، ثُمَّ قَالَ:" أَعَلَيْهِ دَيْنٌ؟" قُلْنَا: دِينَارَانِ، فَانْصَرَفَ فَتَحَمَّلَهُمَا أَبُو قَتَادَةَ، فَأَتَيْنَاهُ، فَقَالَ أَبُو قَتَادَةَ الدِّينَارَانِ عَلَيَّ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أُحِقَّ الْغَرِيمُ، وَبَرِئَ مِنْهُمَا الْمَيِّتُ؟" قَالَ: نَعَمْ، فَصَلَّى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ بَعْدَ ذَلِكَ بِيَوْمٍ:" مَا فَعَلَ الدِّينَارَانِ؟" فَقَالَ: إِنَّمَا مَاتَ أَمْسِ، قَالَ: فَعَادَ إِلَيْهِ مِنَ الْغَدِ، فَقَالَ: قَدْ قَضَيْتُهُمَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْآنَ بَرَدَتْ عَلَيْهِ جِلْدُهُ"، وقَالَ مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو فِي هَذَا الْحَدِيثِ: فَغَسَّلْنَاهُ، وَقَالَ: فَقُلْنَا: تُصَلِّي عَلَيْهِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی فوت ہو گیا ہم نے اسے غسل دیا حنوط لگائی کفن پہنایا اور نماز جنازہ کے لئے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں لے کر حاضر ہوئے چندقدم چل کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا کہ اس پر کوئی قرض ہے لوگوں نے بتایا کہ دو دینار قرض ہے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم واپس چلے گئے سیدنا ابوقتادہ نے ان کی ذمہ داری اپنے اوپر لے لی ہم نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے سیدنا ابوقتادہ نے عرض کیا: کہ یا رسول اللہ! اس کا قرض میرے ذمے ہے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ مقروض کا حق تم پر آگیا اور مرنے والا اس سے بری ہو گیا انہوں نے عرض کیا: جی ہاں اس پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی پھر ایک دن گزرنے کے بعد نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے پوچھا کہ ان دو دیناروں کا کیا بنا انہوں نے عرض کیا: کہ وہ کل ہی تو مرا ہے بہر حال اگلے دن جب وہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو عرض کیا: کہ میں نے اس کا قرض ادا کر دیا ہے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اب اس کا جسم ٹھنڈا ہوا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14536]
حکم دارالسلام
إسناده حسن من أجل عبد اللہ بن محمد بن عقیل
الحكم: إسناده حسن من أجل عبد اللہ بن محمد بن عقیل
حدیث نمبر: 14537 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَرْبٌ يَعْنِي ابْنَ أَبِي الْعَالِيَةِ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنِي حَرْبٌ يَعْنِي ابْنَ أَبِي الْعَالِيَةِ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى امْرَأَةً وأَعْجَبَتْهُ، فَأَتَى زَيْنَبَ وَهِيَ تَمْعَسُ مَنِيئَةً، فَقَضَى مِنْهَا حَاجَتَهُ، وَقَالَ:" إِنَّ الْمَرْأَةَ تُقْبِلُ فِي صُورَةِ شَيْطَانٍ، وَتُدْبِرُ فِي صُورَةِ شَيْطَانٍ، فَإِذَا رَأَى أَحَدُكُمْ امْرَأَةً فَأَعْجَبَتْهُ، فَلْيَأْتِ أَهْلَهُ، فَإِنَّ ذَلكَ يَرُدُّ مِمَّا فِي نَفْسِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کسی عورت کو دیکھا جو آپ کو اچھی لگی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اسی وقت اپنی زوجہ محترمہ سیدنا زینب کے پاس آئے وہ اس وقت ایک کھال کو رنگ دے رہی تھیں اور ان سے اپنے جسمانی تقاضے پورے کئے اور فرمایا: عورت شیطان کی صورت میں آجاتی ہے جو شخص کسی عورت کو دیکھے اور وہ اسے اچھی لگے تو اسے چاہئے کہ اپنی بیوی کے پاس آ جائے کیونکہ اس طرح جو اس کے دل میں خیالات ہو نگے وہ دور ہو جائیں گے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14537]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، م: 1403 وأبو الزبیر قد صرح بالتحدیث فیما سيأتي برقم: 14744، لکن فی إسناد هناك ابن لهيعه ، وھو سیئ الحفظ
الحكم: صحيح لغيره، م: 1403 وأبو الزبیر قد صرح بالتحدیث فیما سيأتي برقم: 14744، لکن فی إسناد هناك ابن لهيعه ، وھو سیئ الحفظ
حدیث نمبر: 14538 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، ابْنُ الْمُبَارَكِ ، حُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ ، وَهْبُ بْنُ كَيْسَانَ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ وَهُوَ الْأَنْصَارِيُّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ حُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ ، قَالَ: حَدَّثَنِي وَهْبُ بْنُ كَيْسَانَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ وَهُوَ الْأَنْصَارِيُّ ، أن النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَهُ جِبْرِيلُ، فَقَالَ:" قُمْ فَصَلِّهْ" فَصَلَّى الظُّهْرَ حِينَ زَالَتْ الشَّمْسُ، ثُمَّ جَاءَهُ الْعَصْرَ، فَقَالَ:" قُمْ فَصَلِّهْ" فَصَلَّى الْعَصْرَ حِينَ صَارَ ظِلُّ كُلِّ شَيْءٍ مِثْلَهُ، أَوْ قَالَ: صَارَ ظِلُّهُ مِثْلَهُ، ثُمَّ جَاءَهُ الْمَغْرِبَ، فَقَالَ:" قُمْ فَصَلِّهْ" فَصَلَّى حِينَ وَجَبَتْ الشَّمْسُ، ثُمَّ جَاءَهُ الْعِشَاءَ، فَقَالَ:" قُمْ فَصَلِّهْ" فَصَلَّى حِينَ غَابَ الشَّفَقُ، ثُمَّ جَاءَهُ الْفَجْرَ، فَقَالَ:" قُمْ فَصَلِّهْ" فَصَلَّى حِينَ بَرَقَ الْفَجْرُ أَوْ قَالَ: حِينَ سَطَعَ الْفَجْرُ، ثُمَّ جَاءَهُ في الْغَدِ لِلظُّهْرِ، فَقَالَ" قُمْ فَصَلِّهْ" فَصَلَّى الظُّهْرَ حِينَ صَارَ ظِلُّ كُلِّ شَيْءٍ مِثْلَهُ، ثُمَّ جَاءَهُ لِلْعَصْرِ، فَقَالَ:" قُمْ فَصَلِّهْ" فَصَلَّى الْعَصْرَ حِينَ صَارَ ظِلُّ كُلِّ شَيْءٍ مِثْلَيْهِ، ثُمَّ جَاءَهُ لِلْمَغْرِبِ الْمَغْرِبَ وَقْتًا وَاحِدًا لَمْ يَزُلْ عَنْهُ، ثُمَّ جَاءَ لِلْعِشَاءِ الْعِشَاءَ حِينَ ذَهَبَ نِصْفُ اللَّيْلِ أَوْ قَالَ: ثُلُثُ اللَّيْلِ فَصَلَّى الْعِشَاءَ، ثُمَّ جَاءَهُ لِلْفَجْرِ حِينَ أَسْفَرَ جِدًّا، فَقَالَ:" قُمْ فَصَلِّهْ" فَصَلَّى الْفَجْرَ، ثُمَّ قَالَ:" مَا بَيْنَ هَذَيْنِ وَقْتٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس سیدنا جبرائیل آئے اور عرض کیا: کہ کھڑے ہو کر نماز ادا کیجیے چنانچہ آپ نے زوال کے بعد نماز ظہرا دا کی پھر دوبارہ عصر کے وقت آئے اور عرض کیا: کہ کھڑے ہو کر نماز ادا کیجیے چنانچہ آپ نے نماز عصر ادا کی پھر وہ نماز مغرب کے وقت آئے اور عرض کیا: کہ کھڑے ہو کر نماز ادا کیجیے چنانچہ آپ نے غروب شفق کے بعد نماز عشاء ادا فرمائی پھر دوبارہ نماز فجر کے وقت آئے اور عرض کیا: کہ کھڑے ہو کر نماز ادا کیجیے چنانچہ آپ نے طلوع فجر کے وقت نماز فجر ادا کی پھر اگلے دن دوبارہ ظہر کی نماز کے وقت آئے اوعرض کیا: کہ کھڑے ہو کر نماز ادا کر یں چنانچہ آپ نے ہر چیز کا سایہ ایک مثل ہو نے پر نماز ظہرادا فرمائی پھر وہ نماز عصر کے وقت آئے اور عرض کیا: کہ کھڑے ہو کر نماز ادا کر یں چنانچہ آپ نے ہر چیز کا سایہ دو مثل ہو نے پر نماز عصر ادا فرمائی پھر وہ نماز مغرب کے وقت آئے اس کا وہی وقت تھا وہ اس سے ہٹے نہیں پھر نماز عشاء کے لئے اس وقت آئے جب نصف یا تہائی رات بیت چکی تھی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس وقت نماز عشاء ادا فرمائی پھر نماز فجر کے لئے اس وقت آئے جب روشنی خوب پھیل چکی تھی اور عرض کیا: کہ کھڑے ہو کر نماز پڑھیے چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے نماز پڑھی اس کے بعد سیدنا جبرائیل کہنے لگے کہ نمازوں کا وقت دراصل ان دو کے درمیان ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14538]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 14539 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَسَنُ بْنُ عَيَّاشٍ أَخُو أَبِي بَكْرٍ ، جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، أَبِيهِ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ عَيَّاشٍ أَخُو أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: كُنَّا نُصَلِّي الْجُمُعَةَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ نَرْجِعُ فَنُرِيحُ نَوَاضِحَنَا، قَالَ حَسَنٌ: قُلْتُ لِجَعْفَرٍ: وَمَتَى ذَاكَ؟ قَالَ: زَوَالَ الشَّمْسِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ نماز جمعہ پڑھنے کے بعد اپنے گھر واپس لوٹ آتے تھے اور اپنے اونٹوں کو آرام کرنے کے لئے چھوڑ دیتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14539]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م:858
الحكم: إسناده صحيح، م:858
حدیث نمبر: 14540 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، قُطْبَةُ ، الْأَعْمَشِ ، أَبِي سُفْيَانَ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا قُطْبَةُ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا أَجْمَرْتُمْ الْمَيِّتَ فَأَجْمِرُوهُ ثَلَاثًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب تم میت کو دھونی دو تو طاق عدد میں دیا کر و۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14540]
حکم دارالسلام
إسناده قوي
الحكم: إسناده قوي
حدیث نمبر: 14541 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، وَأَبُو أَحْمَدَ ، عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ يَزِيدَ الْأَنْصَارِيُّ ، عُقْبَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جَابِرٍ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، وَأَبُو أَحْمَدَ ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ يَزِيدَ الْأَنْصَارِيُّ ، قَالَ أَبُو أَحْمَدَ: مَديني حَدَّثَنِي عُقْبَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جَابِرٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: كُنَّا نُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْجُمُعَةَ، ثُمَّ نَرْجِعُ فَنَقِيلُ، قَالَ أَبُو أَحْمَدَ، ثُمَّ نَرْجِعُ إِلَى بَنِي سَلِمَةَ فَنَقِيلُ وَهُوَ عَلَى مِيلَيْنِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ نماز جمعہ پڑھنے کے بعد اپنے گھر واپس لوٹ جاتے تھے اور قیلولہ کرتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14541]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة عقبة بن عبدالرحمن بن جابر ، وله شاهد من حديث سهل بن سعد عند مسلم: 859
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة عقبة بن عبدالرحمن بن جابر ، وله شاهد من حديث سهل بن سعد عند مسلم: 859
حدیث نمبر: 14542 مسند احمد
أَبُو أَحْمَدَ ، عَبْدُ الْحَمِيدِ ، عُقْبَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: كُنَّا نُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَغْرِبَ، ثُمَّ نَرْجِعُ إِلَى بَنِي سَلِمَةَ، فَنَرَى مَوَاقِعَ النَّبْلِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ نماز مغرب پڑھ کر بنو سلمہ میں واپس لوٹتے تھے تو ہمیں تیر گرنے کی جگہ بھی دکھائی دے رہی ہو تی تھی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14542]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف كسابقه
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف كسابقه
حدیث نمبر: 14543 مسند احمد
أَبُو أَحْمَدَ ، سُفْيَانُ ، الْأَعْمَشِ ، أَبِي سُفْيَانَ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يُبْعَثُ كُلُّ عَبْدٍ عَلَى مَا مَاتَ عَلَيْهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص جس حال میں فوت ہو گا اللہ اسے اسی حال میں اٹھائے گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14543]
حکم دارالسلام
إسناده قوي، م: 2878
الحكم: إسناده قوي، م: 2878
حدیث نمبر: 14544 مسند احمد
(حديث مرفوع) (حديث موقوف) قَالَ: وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ فِي اللَّيْلِ لَسَاعَةً لَا يُوَافِقُهَا عَبْدٌ مُسْلِمٌ يَسْأَلُ اللَّهَ فِيهَا شَيْئًا، إِلَّا أَعْطَاهُ إِيَّاهُ، وَهِيَ فِي كُلِّ لَيْلَةٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ روزانہ ہر رات میں ایک ایسی گھڑی ضرور آتی ہے جو اگر کسی بندہ مسلم کو مل جائے تو وہ اس میں اللہ سے جو بھی دعا کر ے گا وہ دعا ضرور قبول ہو گی اور ایسا ہر رات میں ہوتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14544]
حکم دارالسلام
إسناده قوي، م: 757
الحكم: إسناده قوي، م: 757
حدیث نمبر: 14545 مسند احمد
أَبُو أَحْمَدَ ، سُفْيَانُ ، الْأَعْمَشِ ، أَبِي سُفْيَانَ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" النَّاسُ تَبَعٌ لِقُرَيْشٍ فِي الْخَيْرِ وَالشَّرِّ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: لوگ خیر اور شر دونوں میں قریش کے تابع ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14545]
حکم دارالسلام
إسناده قوي، م: 1819
الحكم: إسناده قوي، م: 1819
حدیث نمبر: 14546 مسند احمد
أَبُو أَحْمَدَ ، سُفْيَانُ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ" نَهَى أَنْ يَشْتَمِلَ الرَّجُلُ الصَّمَّاءَ، وَأَنْ يَحْتَبِيَ فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ لَيْسَ عَلَى فَرْجِهِ مِنْهُ شَيْءٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ کوئی ایک کپڑے میں اپناجسم نہ لپیٹے اور نہ ہی گوٹ مار کر بیٹھے کہ اس کی شرمگاہ پر کچھ بھی نہ ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14546]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 2099، و أبو أحمد - وهو محمد بن عبدالله بن الزبير الأسدي مولاهم ثقة إلا أنه أخطأ هنا، فجعله من حديث سفيان عن عبدالله بن محمد بن عقيل، عن جابر، والصواب أنه من حديث سفيان عن أبى الزبير ، عن جابر كما برقم: 14121
الحكم: حديث صحيح، م: 2099، و أبو أحمد - وهو محمد بن عبدالله بن الزبير الأسدي مولاهم ثقة إلا أنه أخطأ هنا، فجعله من حديث سفيان عن عبدالله بن محمد بن عقيل، عن جابر، والصواب أنه من حديث سفيان عن أبى الزبير ، عن
حدیث نمبر: 14547 مسند احمد
شَاذَانُ ، أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، الْأَعْمَشِ ، أَبِي سُفْيَانَ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا شَاذَانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا رَأَى مَا فُسِحَ لَهُ فِي قَبْرِهِ يَقُولُ: دَعُونِي أُبَشِّرُ أَهْلِي، فَيُقَالُ لَهُ: اسْكُنْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب مردہ یہ دیکھتا ہے کہ اس کی قبر کتنی کشادہ کر دی گئی ہے تو وہ فرشتوں سے کہتا ہے کہ مجھے چھوڑ دو تاکہ میں اپنے گھر والوں کو خوشخبری سنا کر آؤں لیکن اس سے کہا جاتا ہے کہ تم یہیں ٹھہر کر سکون حاصل کر و۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14547]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل أبى بكر بن عياش
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل أبى بكر بن عياش
حدیث نمبر: 14548 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ مَيْمُونٍ أَبُو النَّضْرِ الزَّعْفَرَانِيُّ ، جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، أَبِيهِ ، جَابِرًا
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَيْمُونٍ أَبُو النَّضْرِ الزَّعْفَرَانِيُّ ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ سَأَلْتُ جَابِرًا مَتَى كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الْجُمُعَةَ؟ فَقَالَ: كُنَّا نُصَلِّيهَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ نَرْجِعُ فَنُرِيحُ نَوَاضِحَنَا، قَالَ جَعْفَرٌ وَإِرَاحَةُ النَّوَاضِحِ حِينَ تَزُولُ الشَّمْسُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
محمد کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے پوچھا: نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جمعہ کی نماز کب پڑھتے تھے؟ انہوں نے فرمایا کہ کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ نماز جمعہ پڑھنے کے بعد اپنے گھر واپس لوٹ آتے تھے اور اپنے اونٹوں کو آرام کرنے کے لئے چھوڑ دیتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14548]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 858، وهذا إسناد حسن فى المتابعات و الشواهد لأجل محمد بن ميمون الزعفراني، تابعه حسن بن عياش، وهو ثقة، انظر: 14539
الحكم: حديث صحيح، م: 858، وهذا إسناد حسن فى المتابعات و الشواهد لأجل محمد بن ميمون الزعفراني، تابعه حسن بن عياش، وهو ثقة، انظر: 14539
حدیث نمبر: 14549 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ مَيْمُونٍ ، جَعْفَرٌ ، أَبِيهِ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَيْمُونٍ ، حَدَّثَنِي جَعْفَرٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّ الْبُدْنَ الَّتِي نَحَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَتْ مِائَةَ بَدَنَةٍ، نَحَرَ بِيَدِهِ ثَلَاثًا وَسِتِّينَ، وَنَحَرَ عَلِيٌّ مَا غَبَرَ، وَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ كُلِّ بَدَنَةٍ بِبَضْعَةٍ، فَجُعِلَتْ فِي قِدْرٍ، ثُمَّ شَرِبَا مِنْ مَرَقِهَا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم قربانی کے لئے جن اونٹوں کو لے کر گئے تھے ان کی تعداد سو تھی جن میں سے ٦٣ اونٹ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے دست مبارک سے ذبح کئے تھے اور بقیہ اونٹ سیدنا علی نے ذبح کئے تھے اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حکم دیا کہ ہر اونٹ کا تھوڑا تھوڑا گوشت لے کر ہنڈیا میں ڈالا جائے پھر دونوں حضرات نے اس کا شوربہ نوش فرمایا:۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14549]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن فى المتابعات والشواهد لأجل محمد بن ميمون، فهو ضعيف يعتبر به
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن فى المتابعات والشواهد لأجل محمد بن ميمون، فهو ضعيف يعتبر به
حدیث نمبر: 14550 مسند احمد
أَبُو أَحْمَدَ ، سُفْيَانُ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ امْرَأَةٍ مِنَ الْأَنْصَارِ صَنَعَتْ لَهُ طَعَامًا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَدْخُلُ عَلَيْكُمْ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ"، فَدَخَلَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَهَنَّيْنَاهْ، ثُمَّ قَالَ:" يَدْخُلُ عَلَيْكُمْ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ" فَدَخَلَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَهَنَّيْنَاهْ، ثُمَّ قَالَ:" يَدْخُلُ عَلَيْكُمْ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ" فَرَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُدْخِلُ رَأْسَهُ تَحْتَ الْوَدِيِّ، فَيَقُولُ:" اللَّهُمَّ، إِنْ شِئْتَ جَعَلْتَهُ عَلِيًّا" فَدَخَلَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَهَنَّيْنَاهْ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ ایک انصاری خاتون کے یہاں کھانے کی دعوت میں شریک تھے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ابھی تمہارے پاس ایک جنتی آدمی آئے گا تھوڑی دیر بعد سیدنا صدیق اکبر تشریف لائے ہم نے انہیں مبارک باد دی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ابھی تمہارے پاس ایک اور جنتی آدمی آئے گا تھوڑ دیر بعد سیدنا عمر تشریف لائے ہم نے انہیں بھی مبارک باد دی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پھر فرمایا کہ ابھی تمہارے پاس ایک اور جنتی آدمی آئے گا اس وقت میں نے دیکھا کہ کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم درختوں کے پودوں کے نیچے سے سر نکال کر دیکھنے لگے کہ اور فرمانے لگے کہ اے اللہ اگر تو چاہتا تو آنے والا علی ہوتا چنانچہ سیدنا علی ہی آئے اور ہم نے انہیں بھی مبارک باد دی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14550]
حکم دارالسلام
إسناده محتمل للتحسين من أجل عبدالله بن محمد بن عقيل
الحكم: إسناده محتمل للتحسين من أجل عبدالله بن محمد بن عقيل
حدیث نمبر: 14551 مسند احمد
أَبُو أَحْمَدَ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ ، سُفْيَانُ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" خَيْرُ صُفُوفِ الرِّجَالِ الْمُقَدَّمُ وَشَرُّهَا الْمُؤَخَّرُ، وَخَيْرُ صُفُوفِ النِّسَاءِ الْمُؤَخَّرُ، وَشَرُّهَا الْمُقَدَّمُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مردوں کی صفوں میں سے بہترین صف پہلی ہو تی ہے اور سب سے کم ترین آخری صف ہو تی ہے جب کہ خواتین کی صفوں میں سے سب سے کم ترین صف پہلی ہو تی ہے اور سب سے بہترین صف آخری ہو تی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14551]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن فى المتابعات والشواهد من أجل عبد الله بن محمد بن عقيل
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن فى المتابعات والشواهد من أجل عبد الله بن محمد بن عقيل