عَبْدُ الصَّمَدِ ، وَأَبُو سَعِيدٍ ، زَائِدَةُ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، وَأَبُو سَعِيدٍ المعنى، قَالَا: حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: تُوُفِّيَ رَجُلٌ فَغَسَّلْنَاهُ، وَحَنَّطْنَاهُ وَكَفَّنَّاهُ، ثُمَّ أَتَيْنَا بِهِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي عَلَيْهِ، فَقُلْنَا نُصَلِّي عَلَيْهِ، فَخَطَا خُطًى، ثُمَّ قَالَ:" أَعَلَيْهِ دَيْنٌ؟" قُلْنَا: دِينَارَانِ، فَانْصَرَفَ فَتَحَمَّلَهُمَا أَبُو قَتَادَةَ، فَأَتَيْنَاهُ، فَقَالَ أَبُو قَتَادَةَ الدِّينَارَانِ عَلَيَّ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أُحِقَّ الْغَرِيمُ، وَبَرِئَ مِنْهُمَا الْمَيِّتُ؟" قَالَ: نَعَمْ، فَصَلَّى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ بَعْدَ ذَلِكَ بِيَوْمٍ:" مَا فَعَلَ الدِّينَارَانِ؟" فَقَالَ: إِنَّمَا مَاتَ أَمْسِ، قَالَ: فَعَادَ إِلَيْهِ مِنَ الْغَدِ، فَقَالَ: قَدْ قَضَيْتُهُمَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْآنَ بَرَدَتْ عَلَيْهِ جِلْدُهُ"، وقَالَ مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو فِي هَذَا الْحَدِيثِ: فَغَسَّلْنَاهُ، وَقَالَ: فَقُلْنَا: تُصَلِّي عَلَيْهِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی فوت ہو گیا ہم نے اسے غسل دیا حنوط لگائی کفن پہنایا اور نماز جنازہ کے لئے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں لے کر حاضر ہوئے چندقدم چل کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا کہ اس پر کوئی قرض ہے لوگوں نے بتایا کہ دو دینار قرض ہے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم واپس چلے گئے سیدنا ابوقتادہ نے ان کی ذمہ داری اپنے اوپر لے لی ہم نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے سیدنا ابوقتادہ نے عرض کیا: کہ یا رسول اللہ! اس کا قرض میرے ذمے ہے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ مقروض کا حق تم پر آگیا اور مرنے والا اس سے بری ہو گیا انہوں نے عرض کیا: جی ہاں اس پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی پھر ایک دن گزرنے کے بعد نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے پوچھا کہ ان دو دیناروں کا کیا بنا انہوں نے عرض کیا: کہ وہ کل ہی تو مرا ہے بہر حال اگلے دن جب وہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو عرض کیا: کہ میں نے اس کا قرض ادا کر دیا ہے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اب اس کا جسم ٹھنڈا ہوا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14536]
حکم دارالسلام
إسناده حسن من أجل عبد اللہ بن محمد بن عقیل
الحكم: إسناده حسن من أجل عبد اللہ بن محمد بن عقیل