بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مُسْنَدُ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1188
صفحہ 53 از 60
حدیث نمبر: 15152 مسند احمد
حَسَنٌ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، أَبُو الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ , حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ , أَنَّهُ قَالَ:" زَجَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تَصِلَ الْمَرْأَةُ بِرَأْسِهَا شَيْئًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے عورت کو اپنے سر کے ساتھ دوسرے بال ملانے سے سختی سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 15152]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 2126، وهذا إسناد ضعیف لضعف ابن لهيعة، وقد توبع
الحكم: حديث صحيح، م: 2126، وهذا إسناد ضعیف لضعف ابن لهيعة، وقد توبع
حدیث نمبر: 15153 مسند احمد
حَسَنٌ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، أَبُو الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ , حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى أَنْ يَأْكُلَ الرَّجُلُ بِشِمَالِهِ , فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَأْكُلُ بِشِمَالِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بائیں ہاتھ سے کھانا کھانے کی ممانعت فرمائی ہے کیونکہ بائیں ہاتھ سے شیطان کھانا کھاتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 15153]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 2099، وهذا إسناد ضعيف لأجل ابن لهيعة، لكنه قد توبع فيما سلف برقم: 14587
الحكم: حديث صحيح، م: 2099، وهذا إسناد ضعيف لأجل ابن لهيعة، لكنه قد توبع فيما سلف برقم: 14587
حدیث نمبر: 15154 مسند احمد
حَسَنٌ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، أَبُو الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ , حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَثَلُ الْمُؤْمِنِ مَثَلُ السُّنْبُلَةِ , تَسْتَقِيمُ مَرَّةً وَتَخِرُّ مَرَّةً , وَمَثَلُ الْكَافِرِ مَثَلُ الْأَرْزَةِ , لَا تَزَالُ مُسْتَقِيمَةً حَتَّى تَخِرَّ وَلَا تَشْعُرُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مسلمان کی مثال گندم کے خوشے کی سی ہے جو کبھی گرتا ہے اور کبھی سنبھلتا ہے اور کافر کی مثال چاول کی سی ہے جو ہمیشہ تنا ہی رہتا ہے یہاں تک کہ گر جاتا ہے اور اس پر بال نہیں آتے (یا اسے پتہ نہیں چلتا)۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 15154]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن، ابن الهيعة قد روي عنه هذا الحديث عبد الله بن وهب، وروايته عنه صالحة
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن، ابن الهيعة قد روي عنه هذا الحديث عبد الله بن وهب، وروايته عنه صالحة
حدیث نمبر: 15155 مسند احمد
حَسَنٌ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، أَبُو الزُّبَيْرِ ، جَابِرًا
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ , حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، قَالَ: سَأَلْتُ جَابِرًا ، كَمْ طَافَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ الصَّفَا والْمَرْوَةِ؟، فَقَالَ: مَرَّةً وَاحِدَةً".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوالزبیر کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے پوچھا: ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے صرف ایک ہی مرتبہ سعی کی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 15155]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن لهيعة
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن لهيعة
حدیث نمبر: 15156 مسند احمد
سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ ، هُشَيْمٌ ، مُجَالِدٌ ، الشَّعْبِيِّ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ , قَالَ: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ , أَخْبَرَنَا مُجَالِدٌ , عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِكِتَابٍ أَصَابَهُ مِنْ بَعْضِ أَهْلِ الْكُتُبِ , فَقَرَأَهُ عَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَغَضِبَ , وَقَالَ:" أَمُتَهَوِّكُونَ فِيهَا يَا ابْنَ الْخَطَّابِ , وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ , لَقَدْ جِئْتُكُمْ بِهَا بَيْضَاءَ نَقِيَّةً , لَا تَسْأَلُوهُمْ عَنْ شَيْءٍ فَيُخْبِرُوكُمْ بِحَقٍّ فَتُكَذِّبُوا بِهِ , أَوْ بِبَاطِلٍ فَتُصَدِّقُوا بِهِ , وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ , لَوْ أَنَّ مُوسَى كَانَ حَيًّا , مَا وَسِعَهُ إِلَّا أَنْ يَتَّبِعَنِي".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ سیدنا عمر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں ایک کتاب لے کر حاضر ہوئے جو انہیں کسی کتابی سے ہاتھ لگی تھی اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے اسے پڑھنا شروع کر دیا اس پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو غصہ آگیا اور فرمایا کہ اے ابن خطاب کیا تم اس میں گھسنا چاہتے ہواس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے میں تمہارے پاس ایک ایسی شریعت لے کر آیا ہوں جو روشن اور صاف ستھری ہے تم ان اہل کتاب سے کس چیز کے متعلق سوال نہ کیا کر و اور کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ تمہیں صحیح بات بتائیں اور تم اس کی تکذیب کر و اور غلط بتائیں تو تم اس کی تصدیق کر و اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے اگر موسیٰ بھی زندہ ہوتے تو انہیں بھی میری پیروی کے علاوہ کوئی چارہ کار نہ ہوتا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 15156]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف مجالد
الحكم: إسناده ضعيف لضعف مجالد
حدیث نمبر: 15157 مسند احمد
أَبُو سَلَمَةَ الْخُزَاعِيُّ ، شَرِيكٌ ، عَمَّارٍ الدُّهْنِيِّ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ الْخُزَاعِيُّ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ , عَنْ عَمَّارٍ الدُّهْنِيِّ , عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" دَخَلَ يَوْمَ الْفَتْحِ مَكَّةَ , وَعَلَيْهِ عِمَامَةٌ سَوْدَاءُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فتح مکہ کے دن مکہ مکر مہ میں داخل ہوئے تو آپ نے سیاہ عمامہ باندھ رکھا تھا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 15157]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م 1358، وهذا إسناد ضعيف، شريك النخعي ضعيف، وهو متابع، وأبو الزبير لم يصرح بالسماع
الحكم: حديث صحيح، م 1358، وهذا إسناد ضعيف، شريك النخعي ضعيف، وهو متابع، وأبو الزبير لم يصرح بالسماع
حدیث نمبر: 15158 مسند احمد
الْخُزَاعِيُّ ، عَبْدُ الْعَزِيزِ ، عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو ، رَجُلٍ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا الْخُزَاعِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ , عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو , عَنْ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ , عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كُلُوا لَحْمَ الصَّيْدِ , وَأَنْتُمْ حُرُمٌ , مَا لَمْ تَصِيدُوهُ أَوْ يُصَدْ لَكُمْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: حالت احرام میں تمہارے لئے خشکی کا شکار حلال ہے بشرطیکہ کہ تم خود شکار نہ کر و یا اسے تمہاری خاطر شکار نہ کیا گیا ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 15158]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وقد اختلف على عمرو فى إسناد هذا الحديث
الحكم: صحيح لغيره، وقد اختلف على عمرو فى إسناد هذا الحديث
حدیث نمبر: 15159 مسند احمد
الْخُزَاعِيُّ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَبُو الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا الْخُزَاعِيُّ ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ , أَخْبَرَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى زَمَنَ خَيْبَرَ عَنِ الْبَصَلِ وَالْكُرَّاثِ , فَأَكَلَهُمَا قَوْمٌ , ثُمَّ جَاءُوا إِلَى الْمَسْجِدِ , فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَلَمْ أَنْهَ عَنْ هَاتَيْنِ الشَّجَرَتَيْنِ الْمُنْتِنَتَيْنِ؟"، قَالُوا: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ , وَلَكِنْ أَجْهَدَنَا الْجُوعُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ أَكَلَهُمَا فَلَا يَحْضُرْ مَسْجِدَنَا , فَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ تَتَأَذَّى مِمَّا يَتَأَذَّى مِنْهُ بَنُو آدَمَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے خیبر کے زمانے میں پیاز اور لہسن سے منع فرمایا: تھا لیکن کچھ لوگوں نے اسے کھالیا پھر وہ مسجد میں آئے تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ کیا میں تمہیں ان دو بدبو دار درختوں سے کھانے سے منع نہیں کیا تھا لوگوں نے کہا کیوں نہیں یا رسول اللہ!۔ لیکن ہم بھوک سے مغلوب ہو گئے تھے اس پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص اس بدبودار درخت سے کچھ کھائے وہ ہماری مسجد کے قریب نہ آئے کیونکہ جن چیزوں سے انسانوں کو اذیت ہو تی ہے فرشتوں کو بھی ہو تی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 15159]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 564، وانظر: 15014
الحكم: إسناده صحيح، م: 564، وانظر: 15014
حدیث نمبر: 15160 مسند احمد
أَبُو سَعِيدٍ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الْمَوَالِ ، مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الْمَوَالِ , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ , قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ وَهُوَ" يُصَلِّي مُلْتَحِفًا فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ , وَرِدَاؤُهُ مَوْضُوعٌ، فَقُلْنَا لَهُ: تُصَلِّي فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ , وَرِدَاؤُكَ مَوْضُوعٌ؟، قَالَ: لِيَدْخُلَ عَلَيَّ مِثْلُكَ , فَيَرَانِي أُصَلِّي فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ , إِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي هَكَذَا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
محمد بن منکدر کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کے یہاں گیا وہ ایک کپڑے میں لپٹ کر نماز پڑھ رہے تھے حالانکہ دوسری چادر ان کے قریب پڑی ہوئی تھی جب انہوں نے سلام پھیرا تو ہم نے ان سے مسئلہ پوچھا: انہوں نے فرمایا کہ میں نے یہ اس لئے کیا ہے کہ تم جیسے احمق بھی دیکھ لیں کہ میں ایک کپڑے میں نماز پڑھ رہاہوں میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اس طرح نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 15160]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 352، 353
الحكم: إسناده صحيح، خ: 352، 353
حدیث نمبر: 15161 مسند احمد
أَبُو سَعِيدٍ ، زَائِدَةُ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ , حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ , عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" خَيْرُ صُفُوفِ الرِّجَالِ الْمُقَدَّمُ , وَشَرُّهَا الْمُؤَخَّرُ , وَخَيْرُ صُفُوفِ النِّسَاءِ الْمُؤَخَّرُ , وَشَرُّهَا الْمُقَدَّمُ , يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ , إِذَا سَجَدَ الرِّجَالُ فَاغْضُضْنَ أَبْصَارَكُنَّ , لَا تَرَيْنَ عَوْرَاتِ الرِّجَالِ مِنْ ضِيقِ الْأُزُرِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مردوں کی صفوں میں سے سب سے بہترین صف پہلی ہو تی ہے اور سب سے کم ترین صف آخری صف ہو تی ہے جب کہ خواتین کی صفوں میں سب سے کم ترین صف پہلی ہو تی ہے اور سب سے بہترین صف آخری صف ہو تی ہے پھر فرمایا: اے گروہ خواتین جب مرد سجدے میں جائیں تو اپنی نگاہیں پست رکھا کر و اور تہنبدوں کے سوراخوں سے مردوں کی شرمگاہیں نہ دیکھا کر و۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 15161]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن فى المتابعات والشواهد من أجل عبدالله بن محمد بن عقيل
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن فى المتابعات والشواهد من أجل عبدالله بن محمد بن عقيل
حدیث نمبر: 15162 مسند احمد
أَبُو سَعِيدٍ ، زَائِدَةُ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ , عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , قَالَ: مَشَيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , إِلَى امْرَأَةٍ مِنَ الْأَنْصَارِ , فَذَبَحَتْ لَنَا شَاةً , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَيَدْخُلَنَّ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ"، فَدَخَلَ أَبُو بَكْرٍ , فَقَالَ:" لَيَدْخُلَنَّ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ"، فَدَخَلَ عُمَرُ , فَقَالَ:" لَيَدْخُلَنَّ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ" , فَقَالَ:" اللَّهُمَّ إِنْ شِئْتَ , فَاجْعَلْهُ عَلِيًّا"، فَدَخَلَ عَلِيٌّ، ثُمَّ أُتِينَا بِطَعَامٍ , فَأَكَلْنَا , فَقُمْنَا إِلَى صَلَاةِ الظُّهْرِ , وَلَمْ يَتَوَضَّأْ أَحَدٌ مِنَّا , ثُمَّ أُتِينَا بِبَقِيَّةِ الطَّعَامِ , ثُمَّ قُمْنَا إِلَى الْعَصْرِ , وَمَا مَسَّ أَحَدٌ مِنَّا مَاءً.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ ایک انصاری خاتون کے یہاں دعوت کھانے میں شریک تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ابھی تمہارے پاس ایک جنتی آدمی آئے گا تھوڑی دیر بعد سیدنا صدیق اکبر تشریف لائے پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ابھی تمہارے پاس ایک اور جنتی آدمی آئے گا تھوڑ دیر بعد سیدنا عمر تشریف لائے پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پھر فرمایا کہ ابھی تمہارے تمہارے پاس ایک اور جنتی آدمی آئے گا اور فرمانے لگے کہ اے اللہ اگر تو چاہتا تو آنے والا علی ہوتا چنانچہ سیدنا علی ہی آئے پھر کھانالایا گیا جو ہم نے کھالیا پھر ہم نماز ظہر کے لئے اٹھے اور ہم میں سے کسی نے بھی وضو نہیں کیا نماز کے بعد باقی ماندہ کھانا لایا گیا پھر نماز عصر کے لئے اٹھے تو ہم میں سے کسی نے پانی کو ہاتھ تک نہیں لگایا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 15162]
حکم دارالسلام
إسناده محتمل للتحسين من أجل عبدالله ابن محمد بن عقيل
الحكم: إسناده محتمل للتحسين من أجل عبدالله ابن محمد بن عقيل
حدیث نمبر: 15163 مسند احمد
مُؤَمَّلٌ ، سُفْيَانُ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ , حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ , قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُهِلِّينَ بِالْحَجِّ , فَقَدِمْنَا مَكَّةَ فَطُفْنَا بِالْبَيْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَحِلُّوا وَاجْعَلُوهَا عُمْرَةً , إِلَّا مَنْ سَاقَ الْهَدْيَ"، قَالَ: فَسَطَعَتِ الْمَجَامِرُ , وَوُقِعَتِ النِّسَاءُ , فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ التَّرْوِيَةِ , أَهْلَلْنَا بِالْحَجِّ، قَالَ سُرَاقَةُ بْنُ مَالِكِ بْنِ جُعْشُمٍ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , عُمْرَتُنَا هَذِهِ , أَلِعَامِنَا أَمْ لِلْأَبَدِ؟، قَالَ: لَا , بَلْ لِلْأَبَدِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ حج کا تلبیہ پڑھتے ہوئے روانہ ہوئے جب ہم مکہ مکر مہ پہنچے تو ہم نے خانہ کعبہ کا طواف کیا صفامروہ کی سعی کی اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جس شخص کے پاس قربانی کا جانور نہ ہو وہ اپنا احرام کھول لے چنانچہ اس کے بعد ہم اپنی بیویوں کے پاس بھی گئے سلے ہوئے کپڑے بھی پہنے اور خوشبو بھی لگائی۔ آٹھ ذی الحجہ کو ہم نے حج کا احرام باندھا اسی دوران سیدنا سراقہ بن مالک بھی آ گئے اور کہنے لگے یارسول اللہ کیا عمرہ کا صرف حکم اس سال کے لئے ہے یا ہمیشہ کے لئے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ ہمیشہ کے لئے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 15163]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف مؤمل بن إسماعيل
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف مؤمل بن إسماعيل
حدیث نمبر: 15164 مسند احمد
مُؤَمَّلٌ ، سُفْيَانُ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ , حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنْ عِشْتُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ , نَهَيْتُ أَنْ يُسَمَّى بَرَكَةُ وَيَسَارٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اگر میں زندہ رہا تو ان شاء اللہ سختی سے لوگوں کو برکت اور یسار اور نافع جیسے نام رکھنے سے منع کر دوں گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 15164]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 2138، وهذا إسناد ضعيف، مؤمل بن إسماعيل سيئ الحفظ، وقد توبع
الحكم: حديث صحيح، م: 2138، وهذا إسناد ضعيف، مؤمل بن إسماعيل سيئ الحفظ، وقد توبع
حدیث نمبر: 15165 مسند احمد
مُؤَمَّلٌ ، حَمَّادٌ ، عَلِيٌّ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، أَبِي نَضْرَةَ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ , حَدَّثَنَا حَمَّادٌ , حَدَّثَنَا عَلِيٌّ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ , عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ جَابِرٍ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِابْنِ صَائِدٍ:" مَا تَرَى؟"، قَالَ: أَرَى عَرْشًا عَلَى الْمَاءِ , أَوْ قَالَ عَلَى الْبَحْرِ , حَوْلَهُ حَيَّاتٌ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" ذَاكَ عَرْشُ إِبْلِيسَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ابن صائد سے پوچھا کہ اے ابن صائد تو کیا دیکھتا ہے اس نے کہا کہ میں پانی پر ایک تخت دیکھتا ہوں جس کے اردگرد سانپ ہیں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ وہ ابلیس کا تخت ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 15165]
حکم دارالسلام
صحيح دون قوله: « حوله حيات » ، م- بنحوه مطولا-: 2926، وهذا إسناد ضعيف لضعف مؤمل بن إسماعيل، ولضعف على بن زيد
الحكم: صحيح دون قوله: « حوله حيات » ، م- بنحوه مطولا-: 2926، وهذا إسناد ضعيف لضعف مؤمل بن إسماعيل، ولضعف على بن زيد
حدیث نمبر: 15166 مسند احمد
إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، كَثِيرِ بْنِ شِنْظِيرٍ ، عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى , قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ , عَنْ كَثِيرِ بْنِ شِنْظِيرٍ , عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ , عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , قَالَ: بَعَثَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَاجَةٍ , فَلَمَّا رَجَعْتُ , سَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ , فَلَمَّا فَرَغَ , قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , سَلَّمْتُ عَلَيْكَ , فَلَمْ تَرُدَّ عَلَيَّ! قَالَ:" إِنِّي كُنْتُ أُصَلِّي"، وَهُوَ عَلَى رَاحِلَتِهِ مُتَوَجِّهًا لِغَيْرِ الْقِبْلَةِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے اپنے کسی کام سے بھیجا میں چلا گیا جب وہ کام کر کے واپس آیا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو سلام کیا لیکن انہوں نے جواب نہ دیا جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں نے آپ کو سلام کیا تھا لیکن آپ نے جواب نہیں دیا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ میں اس وقت نماز پڑھ رہا تھا اس وقت نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنی سواری پر تھے اور جانب قبلہ رخ نہ تھا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 15166]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 1217، م: 540
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 1217، م: 540
حدیث نمبر: 15167 مسند احمد
إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، حَمَّادٌ ، كَثِيرِ بْنِ شِنْظِيرٍ ، عَطَاءٍ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى , حَدَّثَنَا حَمَّادٌ , عَنْ كَثِيرِ بْنِ شِنْظِيرٍ , عَنْ عَطَاءٍ , عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" خَمِّرُوا الْآنِيَةَ , وَأَوْكِئُوا الْأَسْقِيَةَ , وَأَجِيفُوا الْبَابَ , وَأَطْفِئُوا الْمَصَابِيحَ عِنْدَ الرُّقَادِ , فَإِنَّ الْفُوَيْسِقَةَ رُبَّمَا اجْتَرَّتِ الْفَتِيلَةَ فَأَحْرَقَتِ الْبَيْتَ , وَأَكْفِتُوا صِبْيَانَكُمْ عِنْدَ الْمَسَاءِ , فَإِنَّ لِلْجِنِّ انْتِشَارًا وَخَطْفَةً".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ رات کو سوتے وقت دروازے بند کر لیا کر و اور برتنوں کو ڈھانپ دیا کر و اور چراغ بجھادیا کر و اور مشکیزوں کا منہ باندھ دیا کر و کیونکہ شیطان بند دروازہ کو نہیں کھول سکتا کوئی پردہ نہیں ہٹاسکتا کوئی بندھن نہیں کھول سکتا اور بعض اوقات ایک چوہا پورے گھر کو جلانے کا سبب بن جاتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 15167]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 3316، م: 2012، وهذا إسناد حسن كسابقه
الحكم: حديث صحيح، خ: 3316، م: 2012، وهذا إسناد حسن كسابقه
حدیث نمبر: 15168 مسند احمد
إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، مَالِكٌ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى , أَخْبَرَنَا مَالِكٌ , عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى عَنْ أَكْلِ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ بَعْدَ ثَلَاثٍ , ثُمَّ قَالَ بَعْدَ ذَلِكَ:" كُلُوا , وَتَزَوَّدُوا , وَادَّخِرُوا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تین دن کے بعد قربانی کا گوشت کھانے سے منع فرما دیا تھا بعد میں فرمایا کہ اب اسے کھاؤ زاد راہ بناؤ اور ذخیرہ کر و۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 15168]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، من 1972، وانظر: 15139
الحكم: حديث صحيح، من 1972، وانظر: 15139
حدیث نمبر: 15169 مسند احمد
إِسْحَاقُ ، مَالِكٌ ، جَعْفَرٍ ، أَبِيهِ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ , أَخْبَرَنِي مَالِكٌ , عَنْ جَعْفَرٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" رَمَلَ مِنَ الْحَجَرِ الْأَسْوَدِ , حَتَّى انْتَهَى إِلَيْهِ , ثَلَاثَةَ أَطْوَافٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حجر اسود والے کونے سے طواف شروع کیا رمل کرتے ہوئے چلے آئے یہاں تک کہ دوبارہ حجر اسود پر آ گئے اس طرح تین چکر وں میں رمل کیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 15169]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1263
الحكم: إسناده صحيح، م: 1263
حدیث نمبر: 15170 مسند احمد
عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، مَالِكٌ ، إِسْحَاقُ ، مَالِكٌ ، جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، أَبِيهِ ، جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ : مَالِكٌ . ح , وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ , أَخْبَرَنَا مَالِكٌ , عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ , عَنْ أَبِيهِ , أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ , قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ خَرَجَ مِنَ الْمَسْجِدِ , وَهُوَ يُرِيدُ الصَّفَا , وَهُوَ يَقُولُ:" نَبْدَأُ بِمَا بَدَأَ اللَّهُ بِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مسجد حرام سے نکل کر صفا کی طرف جانے لگے تو میں نے آپ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ ہم وہیں سے ابتداء کر یں گے جہاں سے اللہ نے ابتداء کی ہے (پہلے ذکر کیا ہے)۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 15170]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 15171 مسند احمد
عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، مَالِكٌ ، إِسْحَاقُ ، مَالِكٌ ، جَعْفَرٍ ، أَبِيهِ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ : مَالِكٌ . ح , وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ , أَخْبَرَنَا مَالِكٌ , عَنْ جَعْفَرٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا وَقَفَ عَلَى الصَّفَا يُكَبِّرُ ثَلَاثًا، وَيَقُولُ:" لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ , لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ , وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ"، وَفِي حَدِيثِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ يَصْنَعُ ذَلِكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ , وَيَدْعُو , وَيَصْنَعُ عَلَى الْمَرْوَةِ مِثْلَ ذَلِكَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب بھی صفامروہ پہاڑی پر کھڑے ہوتے تو تین مرتبہ اللہ اکبر کہتے اور پھر یہ کلمات پڑھتے کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں ہے حکومت اسی کی ہے اور تمام تعریفیں بھی اسی کی ہیں وہ ہر چیز پر قادر ہے ایک دوسری سند میں یہ بھی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تین مرتبہ اس طرح کرنے کے بعد دعا فرماتے اور مروہ پر بھی یہی دہراتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 15171]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، والحديث قطعة من حديث جعفر السالف برقم: 14440
الحكم: إسناده صحيح، والحديث قطعة من حديث جعفر السالف برقم: 14440