إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، كَثِيرِ بْنِ شِنْظِيرٍ ، عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى , قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ , عَنْ كَثِيرِ بْنِ شِنْظِيرٍ , عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ , عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , قَالَ: بَعَثَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَاجَةٍ , فَلَمَّا رَجَعْتُ , سَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ , فَلَمَّا فَرَغَ , قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , سَلَّمْتُ عَلَيْكَ , فَلَمْ تَرُدَّ عَلَيَّ! قَالَ:" إِنِّي كُنْتُ أُصَلِّي"، وَهُوَ عَلَى رَاحِلَتِهِ مُتَوَجِّهًا لِغَيْرِ الْقِبْلَةِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے اپنے کسی کام سے بھیجا میں چلا گیا جب وہ کام کر کے واپس آیا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو سلام کیا لیکن انہوں نے جواب نہ دیا جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں نے آپ کو سلام کیا تھا لیکن آپ نے جواب نہیں دیا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ میں اس وقت نماز پڑھ رہا تھا اس وقت نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنی سواری پر تھے اور جانب قبلہ رخ نہ تھا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 15166]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 1217، م: 540
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 1217، م: 540