بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مُسْنَدُ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1188
صفحہ 44 از 60
حدیث نمبر: 14972 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، إِسْمَاعِيلُ ، سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ:" بَلَغَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِهِ أَعْتَقَ عَبْدًا لَهُ عَنْ دُبُرٍ، وَلَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ غَيْرُهُ، فَبَاعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَبْدَ بِثَمَانِ مِائَةٍ، وَدَفَعَهُ إِلَى مَوَالِيهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو پتہ چلا کہ ان کے کسی صحابی نے اپنے مدبر غلام کو آزاد کر دیا ہے اس کے علاوہ ان کے پاس کوئی بھی مال نہ تھا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس غلام کو آٹھ سو درہم کے بدلے بیچ دیا اور اسے اس کے آقا کے حوالے کر دیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14972]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 7186، م: 997
الحكم: إسناده صحيح، خ: 7186، م: 997
حدیث نمبر: 14973 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، مَنْصُورٍ ، سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: وُلِدَ لِرَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ غُلَامٌ، فَسَمَّاهُ الْقَاسِمَ، فَقَالَتِ الْأَنْصَارُ: وَاللَّهِ لَا نُكَنِّيكَ بِهِ أَبَدًا، فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَثْنَى عَلَى الْأَنْصَارِ خَيْرًا، ثُمَّ قَالَ:" تَسَمَّوْا بِاسْمِي، وَلَا تَكَنَّوْا بِكُنْيَتِي".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک انصاری کے یہاں ایک بچہ پیدا ہوا انہوں نے اس کا نام قاسم رکھنا چاہا تو انصار نے کہا کہ واللہ ہم تو تمہیں اس نام کی کنیت سے نہیں پکاریں گے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو بات پتہ چلی تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ انصار نے خوب کیا میرے نام پر اپنانام رکھ لیا لیکن میری کنیت پر اپنی کنیت مت رکھا کر و۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14973]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3114، م: 2133
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3114، م: 2133
حدیث نمبر: 14974 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، الْأَعْمَشِ ، أَبِي سُفْيَانَ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: جَاءَ أَبُو حُمَيْدٍ الْأَنْصَارِيُّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَدَحٍ فِيهِ لَبَنٌ يَحْمِلُهُ مَكْشُوفًا، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَلَا كُنْتَ خَمَّرْتَهُ وَلَوْ بِعُودٍ تَعْرِضُهُ عَلَيْهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ابوحمید صبح سویرے ایک برتن میں دودھ لے کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے آپ نے فرمایا کہ تم اسے ڈھک کر کیوں نہیں لائے اگرچہ لکڑی سے ہی ڈھک کر لے آتے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14974]
حکم دارالسلام
إسناده قوي، خ: 5605، م: 2011
الحكم: إسناده قوي، خ: 5605، م: 2011
حدیث نمبر: 14975 مسند احمد
سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ ، شُعْبَة ، مُخَوَّلٍ ، أَبِي جَعْفَرٍ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ ، قَالَ شُعْبَة أَخْبَرَنَا، عَنْ مُخَوَّلٍ ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ ، عَنْ جَابِرٍ ،" أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا اغْتَسَلَ أَفْرَغَ عَلَى رَأْسِهِ ثَلَاثًا"، قَالَ: فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي هَاشِمٍ: إِنَّ شَعْرِي كَثِيرٌ، فَقَالَ جَابِرٌ: إِنَّ شَعْرَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ أَكْثَرَ مِنْ شَعْرِكَ وَأَطْيَبَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کس طرح غسل فرماتے تھے انہوں نے جواب دیا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تین مرتبہ اپنے سر سے پانی بہاتے تھے بنوہاشم کے ایک صاحب کہنے لگے کہ میرے توبال بہت لمبے ہیں سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سر مبارک میں تعداد کے اعتبار سے بھی تم سے زیادہ بال تھے اور مہک کے اعتبار سے بھی سب سے زیادہ تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14975]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، أخرجه البخاري بنحوه: 252
الحكم: إسناده صحيح، أخرجه البخاري بنحوه: 252
حدیث نمبر: 14976 مسند احمد
عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ ، يَزِيدَ يَعْنِي ابْنَ أَبِي زِيَادٍ ، سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ ، عَنْ يَزِيدَ يَعْنِي ابْنَ أَبِي زِيَادٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" يُجْزِئُ مِنَ الْوَضُوءِ الْمُدُّ مِنَ الْمَاءِ، وَمِنَ الْجَنَابَةِ الصَّاعُ"، فَقَالَ رَجُلٌ: مَا يَكْفِينِي، فَقَالَ جَابِرٌ: قَدْ كَفَى مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنْكَ، وَأَكْثَرُ شَعْرًا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: وضو کے لئے ایک مد پانی اور غسل ت کے لئے ایک صاع پانی کافی ہو جاتا ہے ایک آدمی نے کہا کہ مجھے تو کافی نہیں ہوتا سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اتنی مقدار تو اس ذات کو کفایت کر جاتی تھی جو تجھ سے بہتر تھی اور ان کے بال بھی مجھ سے زیادہ تھے یعنی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14976]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف على بن عاصم الواسطي، ولضعف يزيد بن أبى زياد، لكنهما قد توبعا
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف على بن عاصم الواسطي، ولضعف يزيد بن أبى زياد، لكنهما قد توبعا
حدیث نمبر: 14977 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ سَابِقٍ ، إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَابِقٍ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَعَنَ اللَّهُ الْيَهُودَ، حُرِّمَتْ عَلَيْهِمْ شُحُومُهَا، فَأَكَلُوا أَثْمَانَهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ یہو دیوں پر اللہ کی لعنت ہواللہ نے جب ان پر چربی کو حرام قرار دیا تو انہوں نے اسے پگھلا کر بیچنا اور اس کی قیمت کھانا شروع کر دی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14977]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 2236، م: 1581 ، أبو الزبير لم يصرح بسماعه من جابر، وانظر: 14472
الحكم: حديث صحيح، خ: 2236، م: 1581 ، أبو الزبير لم يصرح بسماعه من جابر، وانظر: 14472
حدیث نمبر: 14978 مسند احمد
مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، زَائِدَةُ ، حُصَيْنٍ ، سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، عَنْ حُصَيْنٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، حَدَّثَنَا جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ:" بَيْنَمَا نَحْنُ نُصَلِّي الْجُمُعَةَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذْ أَقْبَلَتْ عِيرٌ تَحْمِلُ طَعَامًا، قَالَ: فَالْتَفَتُوا إِلَيْهَا حَتَّى مَا بَقِيَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا اثْنَا عَشَرَ رَجُلًا، فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ وَإِذَا رَأَوْا تِجَارَةً أَوْ لَهْوًا انْفَضُّوا إِلَيْهَا وَتَرَكُوكَ قَائِمًا سورة الجمعة آية 11".
حدیث نمبر: 14979 مسند احمد
مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، أَبُو إِسْحَاقَ ، الْأَعْمَشِ ، أَبِي سُفْيَانَ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" بَيْنَ الْعَبْدِ وَبَيْنَ الْكُفْرِ، أَوْ الشِّرْكِ تَرْكُ الصَّلَاةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ بندے اور کفر و شرک کے درمیان حد فاصل نماز کو چھوڑنا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14979]
حکم دارالسلام
إسناده قوي، م: 82
الحكم: إسناده قوي، م: 82
حدیث نمبر: 14980 مسند احمد
مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، أَبُو إِسْحَاقَ ، ابْنِ جُرَيْجٍ ، سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِقَوْمٍ فِي مَجْلِسٍ يَسُلُّونَ سَيْفًا يَتَعَاطَوْنَهُ بَيْنَهُمْ، غَيْرَ مَغْمُودٍ، فَقَالَ:" أَلَمْ أَزْجُرْكُمْ عَنْ هَذَا؟ فَإِذَا سَلَّ أَحَدُكُمْ السَّيْفَ، فَلْيُغْمِدْهُ ثُمَّ لِيُعْطِهِ أَخَاهُ"۔
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا مسجد میں ایک جماعت پر گزر ہوا جنہوں نے تلواریں سونت رکھی تھیں اور ایک دوسرے سے انہیں نیام میں ڈالے بغیر ہی تبادلہ کر رہے تھے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تمہیں ایسا کرنے سے سختی سے منع نہیں کیا تھا جب تم تلواریں سونتے ہوئے تو نیام میں ڈال کر ایک دوسرے کو دیا کر و۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14980]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد منقطع، فإن سليمان بن موسي الأشدق لم يسمع من جابر، لكن تابعه أبو الزبير كما فى الحديث الآتي بعدہ
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد منقطع، فإن سليمان بن موسي الأشدق لم يسمع من جابر، لكن تابعه أبو الزبير كما فى الحديث الآتي بعدہ
حدیث نمبر: 14981 مسند احمد
مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، أَبُو إِسْحَاقَ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَبُو الزُّبَيْرِ ، جَابِرًا
حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ ، قَالَ: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا يُحَدِّثُ ذَلِكَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14981]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، وانظر ما قبله
الحكم: إسناده صحيح، وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 14982 مسند احمد
سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، الْحَجَّاجِ الصَّوَّافِ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنِ الْحَجَّاجِ الصَّوَّافِ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ : أَنَّ الطُّفَيْلَ بْنَ عَمْرٍو الدَّوْسِيَّ، أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلْ لَكَ فِي حِصْنٍ حَصِينٍ وَمَنْعَةٍ؟، قَالَ: حِصْنٌ كَانَ لِدَوْسٍ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَأَبَى ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلَّذِي ذَخَرَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِلْأَنْصَارِ، فَلَمَّا هَاجَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمَدِينَةِ، هَاجَرَ إِلَيْهِ الطُّفَيْلُ بْنُ عَمْرٍو، وَهَاجَرَ مَعَهُ رَجُلٌ مِنْ قَوْمِهِ، فَاجْتَوَوْا الْمَدِينَةَ، فَمَرِضَ، فَجَزِعَ، فَأَخَذَ مَشَاقِصَ لَهُ، فَقَطَعَ بِهَا بَرَاجِمَهُ، فَشَخَبَتْ يَدَاهُ حَتَّى مَاتَ، فَرَآهُ الطُّفَيْلُ بْنُ عَمْرٍو فِي مَنَامِهِ، فَرَآهُ فِي هَيْئَةٍ حَسَنَةٍ، وَرَآهُ مُغَطِّيًا يَدَهُ، فَقَالَ لَهُ: مَا صَنَعَ بِكَ رَبُّكَ؟، قَالَ: غَفَرَ لِي بِهِجْرَتِي إِلَى نَبِيِّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَمَا لِي أَرَاكَ مُغَطِّيًا يَدَكَ؟، قَالَ: قَالَ لِي: لَنْ نُصْلِحَ مِنْكَ مَا أَفْسَدْتَ، قَالَ: فَقَصَّهَا الطُّفَيْلُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اللَّهُمَّ وَلِيَدَيْهِ فَاغْفِرْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ طفیل بن عمرو دوسی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے کہ یا رسول اللہ! کیا آپ کو کسی مضبوط قلعے اور پناہ کی ضرورت ہے زمانہ جاہلیت میں قبیلہ دوس کا ایک قلعہ تھا لیکن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انکار کر دیا کہ یہ فضیلت اللہ نے انصار کے لئے چھوڑ رکھی ہے چنانچہ جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہجرت کر کے مدینہ منورہ تشریف لے گئے تو طفیل بن عمرو بھی ہجرت کر کے آ گئے ان کے ساتھ ان کا ایک اور آدمی بھی ہجرت کر کے آگیا وہاں ان کو مدینہ کی آب وہوا موافق نہ آئی اور وہ شخص بیمار ہو گیا اور گھبراہٹ کے عالم میں قینچی پکڑ کر اپنی انگلیاں کاٹ لیں جس اسے اس کے ہاتھ خون سے بھر گئے اور اتناخون بہا کہ وہ مرگیا۔ خواب میں اسے عمرو بن طفیل نے دیکھا وہ بڑی اچھی حالت میں دکھائی دیا البتہ اس کے ہاتھ ڈھکے ہوئے تھے طفیل نے اس سے پوچھا کہ تمہارے رب نے تمہارے ساتھ کیا معاملہ کیا؟ اس نے جواب دیا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی طرف سے ہجرت کی برکت سے اللہ نے مجھے معاف کر دیا انہوں نے پوچھا کہ کیا بات ہے تمہارے ہاتھ ڈھکے ہوئے نظر آرہے ہیں اس نے جواب دیا کہ مجھ سے کہا گیا ہے کہ تم نے جس چیز کو خود خراب کیا ہے ہم اسے صحیح نہیں کر سکتے اگلے دن طفیل نے یہ خواب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو سنایا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دعاء فرمائی کہ اے اللہ اس کے ہاتھوں کا گناہ معاف فرمادے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14982]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، قاله أحمد شاكر، م: 116
الحكم: إسناده صحيح، قاله أحمد شاكر، م: 116
حدیث نمبر: 14983 مسند احمد
أَبُو دَاوُدَ ، رَبَاحٌ الْمَكِّيُّ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا رَبَاحٌ الْمَكِّيُّ ، عَنِ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَمَرَهُمْ أَنْ يَرْمُوا الْجِمَارَ مِثْلَ حَصَى الْخَذْفِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے صحابہ کو حکم دیا کہ شیطان کو کنکر یاں ٹھیکر ی کی بنی ہوئی مارا کر و۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14983]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف رباح المكي، لكنه توبع، وانظر: 14219
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف رباح المكي، لكنه توبع، وانظر: 14219
حدیث نمبر: 14984 مسند احمد
وَكِيعٌ ، سُفْيَانَ ، جَعْفَرٍ ، أَبِيهِ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ , عَنْ جَعْفَرٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ جَابِرٍ , قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُومُ فَيَخْطُبُ، فَيَحْمَدُ اللَّهَ، وَيُثْنِي عَلَيْهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ، وَيَقُولُ:" مَنْ يَهْدِهِ اللَّهُ فَلَا مُضِلَّ لَهُ , وَمَنْ يُضْلِلْ فَلَا هَادِيَ لَهُ , إِنَّ خَيْرَ الْحَدِيثِ كِتَابُ اللَّهِ , وَخَيْرَ الْهَدْيِ هَدْيُ مُحَمَّدٍ، وَشَرَّ الْأُمُورِ مُحْدَثَاتُهَا، وَكُلَّ مُحْدَثَةٍ بِدْعَةٌ"، وَكَانَ إِذَا ذَكَرَ السَّاعَةَ احْمَرَّتْ وَجْنَتَاهُ , وَعَلَا صَوْتُهُ , وَاشْتَدَّ غَضَبُهُ، كَأَنَّهُ مُنْذِرُ جَيْشٍ صَبَّحَكُمْ مَسَّاكُمْ،" مَنْ تَرَكَ مَالًا فَلِلْوَرَثَةِ , وَمَنْ تَرَكَ ضَيَاعًا , أَوْ دَيْنًا فَعَلَيَّ وَإِلَيَّ، وَأَنَا وَلِيُّ الْمُؤْمِنِينَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیا اور اللہ کی حمد وثناء بیان کرنے کے بعد فرمایا: اللہ جس شخص کو ہدایت دے دے اسے کوئی گمراہ نہیں کر سکتا اور جسے وہ گمراہ کر دے اسے کوئی ہدایت نہیں کر سکتا سب سے سچی بات کتاب اللہ ہے سب سے افضل طریقہ محمد کا طریقہ ہے بدترین چیزیں نو چیزیں ہیں اور ہر نو ایجاد چیز بدعت ہے پھر جوں جوں آپ قیامت کا تذکر ہ فرماتے جاتے آپ کی آواز بلند ہو تی جاتی چہرہ مبارک سرخ ہوتا جاتا اور جوش میں اضافہ ہوتا جاتا اور ایسا محسوس ہوتا کہ جیسے آپ کسی لشکر سے ڈرا رہے ہیں اور پھر فرمایا کہ تم پر صبح کو قیامت آگئی یا شام کو جو شخص مال و دولت چھوڑ جائے وہ اس کے اہل خانہ کا ہے اور جو شخص قرض یا بچے چھوڑ جائے وہ میرے ذمے ہے اور میں مسلمانوں پر ان کی جان سے زیادہ حق رکھتا ہوں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14984]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 867
الحكم: إسناده صحيح، م: 867
حدیث نمبر: 14985 مسند احمد
أَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ الْوَصَّافِيُّ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ الْوَصَّافِيُّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ، قَالَ: دَخَلَ عَلَى جَابِرٍ نَفَرٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَدَّمَ إِلَيْهِمْ خُبْزًا وَخَلًّا، فَقَالَ: كُلُوا، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ" نِعْمَ الْإِدَامُ الْخَلُّ , إِنَّهُ هَلَاكٌ بِالرَّجُلِ أَنْ يَدْخُلَ عَلَيْهِ النَّفَرُ مِنْ إِخْوَانِهِ، فَيَحْتَقِرَ مَا فِي بَيْتِهِ أَنْ يُقَدِّمَهُ إِلَيْهِمْ , وَهَلَاكٌ بِالْقَوْمِ أَنْ يَحْتَقِرُوا مَا قُدِّمَ إِلَيْهِمْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عبداللہ بن عبید کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کے پاس نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے کچھ صحابہ تشریف لائے انہوں نے اس کے سامنے روئی اور سرکہ پیش کیا اور کہا کہ کھائیے میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ سرکہ بہترین سالن ہے یہ بات انسان کے لئے باعث ہلاکت ہے کہ اس کے پاس اس کے بھائی آئیں اور اس کے پاس جو کچھ گھر میں موجود ہو وہ اسے ان کے سامنے پیش کرنے میں اپنی تحقیر سمجھے اور لوگوں کے لئے بھی یہ بات باعث ہلاکت ہے کہ ان کے سامنے جو کچھ پیش کیا جائے وہ اسے حقیر سمجھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14985]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، عبيدالله ابن الوليد الوصافي متفق على ضعفه ، وقد اضطرب فى إسناد هذا الحديث، وقوله صلى الله عليه و آله وسلم: « نعم الإدام الخل » صحيح من غير هذا الطريق انظر: 14225
الحكم: إسناده ضعيف، عبيدالله ابن الوليد الوصافي متفق على ضعفه ، وقد اضطرب فى إسناد هذا الحديث، وقوله ﷺ: « نعم الإدام الخل » صحيح من غير هذا الطريق انظر: 14225
حدیث نمبر: 14986 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيدٍ ، عَبْدُ الْمَلِكِ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: لَمَّا مَاتَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَيٍّ، أَتَى ابْنُهُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّكَ إِنْ لَمْ تَأْتِهِ لَمْ نَزَلْ نُعَيَّرُ بِهَذَا، فَأَتَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَوَجَدَهُ قَدْ أُدْخِلَ فِي حُفْرَتِهِ، فَقَالَ:" أَفَلَا قَبْلَ أَنْ تُدْخِلُوهُ!" فَأُخْرِجَ مِنْ حُفْرَتِهِ، فَتَفَلَ عَلَيْهِ مِنْ قَرْنِهِ إِلَى قَدَمِهِ، وَأَلْبَسَهُ قَمِيصَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب رئیس المنافقین عبداللہ بن ابی مرگیا تو اس کے صاحبزادے جو مخلص مسلمان تھے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے یا رسول اللہ! اگر آپ نے اس کی نماز جنازہ میں شرکت نہیں کی تو لوگ ہمیں ہمیشہ عار دلاتے رہیں گے چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس کے پاس تشریف لے گئے دیکھا تو اسے قبر میں اتارا جا چکا تھا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اسے قبر میں اتارنے سے پہلے مجھے کیوں نہ بتایا پھر اسے قبر سے نکلوایا اس کی پیشانی سے پاؤں تک اپنا لعاب دہن ملا اسے اپنی قمیض پہنا دی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14986]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 1270، م: 2773، وأبو الزبير لم يصرح بالسماع، لكنه متابع، وانظر: 15075
الحكم: حديث صحيح، خ: 1270، م: 2773، وأبو الزبير لم يصرح بالسماع، لكنه متابع، وانظر: 15075
حدیث نمبر: 14987 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي نَجِيحٍ ، مُجَاهِدٍ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي نَجِيحٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ ، قَالَ: كَانَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي عُذْرَةَ، يُقَالُ لَهُ: أَبُو مَذْكُورٍ، وَكَانَ لَهُ عَبْدٌ قِبْطِيٌّ فَأَعْتَقَهُ عَنْ دُبُرٍ مِنْهُ , وَكَانَ ذَا حَاجَةٍ , قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ ذَا حَاجَةٍ , فَلْيَبْدَأْ بِنَفْسِهِ"، قَالَ: فَأَمَرَهُ أَنْ يَسْتَنْفِعَ بِهِ، فَبَاعَهُ مِنْ نُعَيْمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ النَّحَّامِ الْعَدَوِيِّ بِثَمَانِ مِائَةِ دِرْهَمٍ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دور باسعادت میں ایک انصاری آدمی جس کا نام مذکور تھا اپنا غلام جس کا نام یعقوب تھا یہ کہہ کر آزاد کر دیا جس کے علاوہ اس کے پاس کسی قسم کا مال نہ تھا کہ میرے مرنے کے بعد تم آزاد ہو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اس کی حالت زار کا پتہ چلا تو فرمایا کہ یہ غلام مجھ سے کون خریدے گا؟ نعیم بن عبداللہ نے اسے آٹھ سو درہم کے عوض خرید لیا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے وہ پیسے اسے دے دئیے اور فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی شخص تنگدست ہو تو وہ اپنی ذات سے صدقے کا آغاز کر ے اگر بچ جائے تو اپنے بچوں پر پھر اپنے قریبی رشتہ داروں پر اور پھر دائیں بائیں خرچ کر ے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14987]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 997، وهذا إسناد حسن من أجل محمد بن إسحاق، وقد صرح بالتحديث عند البيهقي، وانظر: 14133 و 14273
الحكم: حديث صحيح، م: 997، وهذا إسناد حسن من أجل محمد بن إسحاق، وقد صرح بالتحديث عند البيهقي، وانظر: 14133 و 14273
حدیث نمبر: 14988 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ ، مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ , عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ , قَالَ: دَخَلَ إِلَى جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أُنَاسٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَرَّبَ إِلَيْهِمْ خُبْزًا وَخَلًّا، فَقَالَ: كُلُوا , فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ" نِعْمَ الْإِدَامُ الْخَلُّّ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عبداللہ بن عبید کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کے پاس نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے کچھ صحابہ تشریف لائے انہوں نے اس کے سامنے روئی اور سرکہ پیش کیا اور کہا کہ کھائیے میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ سرکہ بہترین سالن ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14988]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف عبيدالله بن الوليد الوصافي، لكن تابعه عليه غير واحد
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف عبيدالله بن الوليد الوصافي، لكن تابعه عليه غير واحد
حدیث نمبر: 14989 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، الْأَعْمَشُ ، أَبِي سُفْيَانَ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ , قَالَ: مَرِضَ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ مَرَضًا , فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَبِيبًا , فَكَوَاهُ عَلَى أَكْحَلِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک طبیب سیدنا ابی بن کعب کے پاس بھیجا اس نے ان کے بازو کی رگ کو کاٹا پھر اس کو داغ دیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14989]
حکم دارالسلام
إسناده قوي، م: 2207
الحكم: إسناده قوي، م: 2207
حدیث نمبر: 14990 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، الْأَعْمَشُ ، أَبِي صَالِحٍ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ النَّحْرِ، فَقَالَ:" أَيُّ يَوْمٍ أَعْظَمُ حُرْمَةً؟"، فَقَالُوا: يَوْمُنَا هَذَا، قَالَ:" فَأَيُّ شَهْرٍ أَعْظَمُ حُرْمَةً؟"، قَالُوا: شَهْرُنَا هَذَا، قَالَ:" أَيُّ بَلَدٍ أَعْظَمُ حُرْمَةً؟"، قَالُوا: بَلَدُنَا هَذَا، قَالَ:" فَإِنَّ دِمَاءَكُمْ، وَأَمْوَالَكُمْ، عَلَيْكُمْ حَرَامٌ، كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا، فِي بَلَدِكُمْ هَذَا، فِي شَهْرِكُمْ هَذَا، هَلْ بَلَّغْتُ؟"، قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ:" اللَّهُمَّ اشْهَدْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے خطبہ حجۃ الوداع میں دس ذی الحجہ کو صحابہ سے پوچھا کہ سب سے زیادہ حرمت والا دن کونسا ہے صحابہ نے عرض کیا: آج کا دن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا: سب سے زیادہ حرمت والا مہینہ کونسا ہے صحابہ نے عرض کیا: ہمارا یہی شہر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: پھر یاد رکھو تمہاری جان مال ایک دوسرے کے لئے اسی طرح قابل احترام ہیں جیسے اس دن کی حرمت اس مہینے اور اس شہر میں ہے کیا میں نے پیغام الٰہی پہنچادیا؟ انہوں نے کہا جی ہاں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ تو گواہ رہ۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14990]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، وانظر ما بعده
الحكم: إسناده صحيح، وانظر ما بعده
حدیث نمبر: 14991 مسند احمد
عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ ، عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، الْأَعْمَشِ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14991]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، وانظر ما قبله
الحكم: إسناده صحيح، وانظر ما قبله