أَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ الْوَصَّافِيُّ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ الْوَصَّافِيُّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ، قَالَ: دَخَلَ عَلَى جَابِرٍ نَفَرٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَدَّمَ إِلَيْهِمْ خُبْزًا وَخَلًّا، فَقَالَ: كُلُوا، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ" نِعْمَ الْإِدَامُ الْخَلُّ , إِنَّهُ هَلَاكٌ بِالرَّجُلِ أَنْ يَدْخُلَ عَلَيْهِ النَّفَرُ مِنْ إِخْوَانِهِ، فَيَحْتَقِرَ مَا فِي بَيْتِهِ أَنْ يُقَدِّمَهُ إِلَيْهِمْ , وَهَلَاكٌ بِالْقَوْمِ أَنْ يَحْتَقِرُوا مَا قُدِّمَ إِلَيْهِمْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عبداللہ بن عبید کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کے پاس نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے کچھ صحابہ تشریف لائے انہوں نے اس کے سامنے روئی اور سرکہ پیش کیا اور کہا کہ کھائیے میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ سرکہ بہترین سالن ہے یہ بات انسان کے لئے باعث ہلاکت ہے کہ اس کے پاس اس کے بھائی آئیں اور اس کے پاس جو کچھ گھر میں موجود ہو وہ اسے ان کے سامنے پیش کرنے میں اپنی تحقیر سمجھے اور لوگوں کے لئے بھی یہ بات باعث ہلاکت ہے کہ ان کے سامنے جو کچھ پیش کیا جائے وہ اسے حقیر سمجھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14985]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، عبيدالله ابن الوليد الوصافي متفق على ضعفه ، وقد اضطرب فى إسناد هذا الحديث، وقوله صلى الله عليه و آله وسلم: « نعم الإدام الخل » صحيح من غير هذا الطريق انظر: 14225
الحكم: إسناده ضعيف، عبيدالله ابن الوليد الوصافي متفق على ضعفه ، وقد اضطرب فى إسناد هذا الحديث، وقوله ﷺ: « نعم الإدام الخل » صحيح من غير هذا الطريق انظر: 14225