مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، الْأَعْمَشُ ، أَبِي صَالِحٍ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ النَّحْرِ، فَقَالَ:" أَيُّ يَوْمٍ أَعْظَمُ حُرْمَةً؟"، فَقَالُوا: يَوْمُنَا هَذَا، قَالَ:" فَأَيُّ شَهْرٍ أَعْظَمُ حُرْمَةً؟"، قَالُوا: شَهْرُنَا هَذَا، قَالَ:" أَيُّ بَلَدٍ أَعْظَمُ حُرْمَةً؟"، قَالُوا: بَلَدُنَا هَذَا، قَالَ:" فَإِنَّ دِمَاءَكُمْ، وَأَمْوَالَكُمْ، عَلَيْكُمْ حَرَامٌ، كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا، فِي بَلَدِكُمْ هَذَا، فِي شَهْرِكُمْ هَذَا، هَلْ بَلَّغْتُ؟"، قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ:" اللَّهُمَّ اشْهَدْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے خطبہ حجۃ الوداع میں دس ذی الحجہ کو صحابہ سے پوچھا کہ سب سے زیادہ حرمت والا دن کونسا ہے صحابہ نے عرض کیا: آج کا دن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا: سب سے زیادہ حرمت والا مہینہ کونسا ہے صحابہ نے عرض کیا: ہمارا یہی شہر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: پھر یاد رکھو تمہاری جان مال ایک دوسرے کے لئے اسی طرح قابل احترام ہیں جیسے اس دن کی حرمت اس مہینے اور اس شہر میں ہے کیا میں نے پیغام الٰہی پہنچادیا؟ انہوں نے کہا جی ہاں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ تو گواہ رہ۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14990]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، وانظر ما بعده
الحكم: إسناده صحيح، وانظر ما بعده