بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مُسْنَدُ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1188
صفحہ 33 از 60
حدیث نمبر: 14752 مسند احمد
مُوسَى ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرٌ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُوسَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، قَالَ: سَأَلْتُ جَابِرًا عَنِ الْغُسْلِ، قَالَ جَابِرٌ : أَتَتْ ثَقِيفٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: إِنَّ أَرْضَنَا أَرْضٌ بَارِدَةٌ، فَكَيْفَ تَأْمُرُنَا بِالْغُسْلِ؟، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَمَّا أَنَا فَأَصُبُّ عَلَى رَأْسِي ثَلَاثَ مَرَّاتٍ"، وَلَمْ يَقُلْ غَيْرَ ذَلِكَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوزبیر کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے غسل ت کے متعلق سوال پوچھا: تو انہوں نے فرمایا کہ قبیلہ ثقیف کے لوگ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آئے اور کہنے لگے کہ ہمارا علاقہ ٹھنڈا ہے تو آپ ہمیں غسل کے متعلق کیا حکم دیتے ہیں؟ تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ میں تو سر پر تین مرتبہ پانی ڈال لیا کرتا تھا اس کے علاوہ کچھ نہیں فرمایا:۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14752]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن لهيعة، وانظر لزاما فى صفة غسله صلى الله عليه و آله وسلم من الجنابة حديث عائشة فى مسلم: 316
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن لهيعة، وانظر لزاما فى صفة غسله صلى الله عليه وسلم من الجنابة حديث عائشة فى مسلم: 316
حدیث نمبر: 14753 مسند احمد
مُوسَى ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرٌ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُوسَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، قَالَ: سَأَلْتُ جَابِرًا عَنِ الرَّجُلِ يُبَاشِرُ الرَّجُلَ، فَقَالَ جَابِرٌ :" زَجَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوالزبیر کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ مرد دوسرے مرد کے ساتھ اپنا برہنہ جسم لگاسکتا ہے انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے سختی سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14753]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف الضغف ابن لهيعة، وانظر ما بعده
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف الضغف ابن لهيعة، وانظر ما بعده
حدیث نمبر: 14754 مسند احمد
مُوسَى ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرًا
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُوسَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، قَالَ: سَأَلْتُ جَابِرًا : الْمَرْأَةِ تُبَاشِرُ الْمَرْأَةَ، قَالَ:" زَجَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوالزبیر کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ عورت دوسری عورت کے ساتھ اپنا برہنہ جسم لگاسکتی ہے انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے سختی سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14754]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد كسابقه، وأنظر ماقبله
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد كسابقه، وأنظر ماقبله
حدیث نمبر: 14755 مسند احمد
مُوسَى ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرٌ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُوسَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، قَالَ: سَأَلْتُ جَابِرًا عَنِ الرَّجُلِ يُرِيدُ الصِّيَامَ، وَالْإِنَاءُ عَلَى يَدِهِ لِيَشْرَبَ مِنْهُ، فَيَسْمَعُ النِّدَاءَ، قَالَ جَابِرٌ : كُنَّا نُحَدَّثُ أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لِيَشْرَبْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوزبیر کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ ایک آدمی روزہ رکھنا چاہتا ہے ابھی اس کے ہاتھ میں برتن ہے کہ وہ پانی پئے ادھر اذان کی آواز آجاتی ہے انہوں نے فرمایا کہ ہمیں یہ بات بیان کی گئی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اسے پانی پی لینا چاہئے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14755]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن لهيعة
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن لهيعة
حدیث نمبر: 14756 مسند احمد
مُوسَى ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُوسَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" تَطْلُعُ الشَّمْسُ فِي قَرْنِ شَيْطَانٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ سورج شیطان کے سینگوں کے درمیان طلوع ہوتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14756]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن الهيعة
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن الهيعة
حدیث نمبر: 14757 مسند احمد
مُوسَى ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرٌ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُوسَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، قَالَ: سَأَلْتُ جَابِرًا عَنْ رُكُوبِ الْهَدْيِ، قَالَ جَابِرٌ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" ارْكَبْهَا بِالْمَعْرُوفِ حَتَّى تَجِدَ ظَهْرًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے ابوزبیر نے ہدی کے جانور پر سوار ہو نے کے متعلق پوچھا: تو انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اگر تم مجبور ہو جاؤ تو اس پر اچھے طریقے پر سوار ہو سکتے ہو تاآنکہ تمہیں کوئی دوسری سواری مل جائے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14757]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 1324، وهذا إسناد ضعيف من أجل ابن الهيعة
الحكم: حديث صحيح، م: 1324، وهذا إسناد ضعيف من أجل ابن الهيعة
حدیث نمبر: 14758 مسند احمد
مُوسَى ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُوسَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّهُ قَالَ:" أَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَوْمِ عَاشُورَاءَ أَنْ نَصُومَهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں یوم عاشورہ کا روزہ رکھنے کا حکم دیا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14758]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لسوء حفظ ابن لهيعة
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لسوء حفظ ابن لهيعة
حدیث نمبر: 14759 مسند احمد
مُوسَى ، وَحَسَنُ بْنُ مُوسَى ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرٌ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُوسَى ، وَحَسَنُ بْنُ مُوسَى ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، قَالَ: سَأَلْتُ جَابِرًا عَنِ النَّحْرِ، فَقَالَ جَابِرٌ :" صَلَّى بِنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ النَّحْرِ بِالْمَدِينَةِ، فَتَقَدَّمَ رِجَالٌ فَنَحَرُوا، وَظَنُّوا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ نَحَرَ، فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ كَانَ نَحَرَ، أَنْ يُعِيدَ نَحْرًا آخَرَ، وَلَا يَنْحَرُوا حَتَّى يَنْحَرَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مدینہ منورہ میں ہمیں دس ذالحجہ کو نماز پڑھائی کچھ لوگوں نے پہلے ہی قربانی کر لی اور وہ یہ سمجھے کہ شاید نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم قربانی کر چکے ہیں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو معلوم ہوا تو آپ نے حکم دیا کہ جس نے پہلے قربانی کر لی ہے وہ دوبارہ قربانی کر ے اور یہ کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے قربانی کرنے سے پہلے قربانی نہ کیا کر یں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14759]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 1964، وهذا إسناد ضعيف من أجل ابن لهيعة، وانظر: 14130
الحكم: حديث صحيح، م: 1964، وهذا إسناد ضعيف من أجل ابن لهيعة، وانظر: 14130
حدیث نمبر: 14760 مسند احمد
مُوسَى ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرًا
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُوسَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، قَالَ: سَأَلْتُ جَابِرًا ، عَنِ الرَّجُلِ يُوَالِي مَوَالِيَ الرَّجُلِ بِغَيْرِ إِذْنِهِ، فَقَالَ: كَتَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى كُلِّ بَطْنٍ عُقُولَهُمْ، ثُمَّ كَتَبَ:" إِنَّهُ لَا يَحِلُّ أَنْ يُوَالِيَ مَوَالِيَ رَجُلٍ بِغَيْرِ إِذْنِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوالزبیر کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ اگر کوئی آدمی اپنے آقا کی اجازت کے بغیر کسی دوسرے سے عقد موالات کر لے تو کیا حکم ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے قبیلے کی ہر شاخ پر دیت کا حصہ ادا کرنا فرض قرار دیا اور یہ بات بھی تحریر فرما دی کہ کسی شخص کے لئے کسی مسلمان آدمی کے غلام سے عقد موالات کرنا اس کی اجازت کے بغیر حلال نہیں ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14760]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 1507، وهذا إسناد ضعيف من أجل ابن الهيعة
الحكم: حديث صحيح، م: 1507، وهذا إسناد ضعيف من أجل ابن الهيعة
حدیث نمبر: 14761 مسند احمد
مُوسَى ، وَحَسَنٌ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُوسَى ، وَحَسَنٌ ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَثَلُ الْمُؤْمِنِ كَمَثَلِ السُّنْبُلَةِ، تَخِرُّ مَرَّةً وَتَسْتَقِيمُ مَرَّةً، وَمَثَلُ الْكَافِرِ مَثَلُ الْأَرْزِ، لَا يَزَالُ مُسْتَقِيمًا حَتَّى يَخِرَّ وَلَا يَشْعُرَ"، قَالَ حَسَنٌ:" الْأَرْزَةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ مسلمان کی مثال گندم کے خوشے کی سی ہے جو کبھی گرتا ہے اور کبھی سنبھلتا ہے اور کافر کی مثال چاول کی سی ہے جو ہمیشہ تنا ہی رہتا ہے یہاں تک کہ وہ گرجاتا ہے اور اس پر بال نہیں آتے (یا اسے پتہ بھی نہیں چلتا) [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14761]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن، ابن لهيعة - وإن كان سيئ الحفظ- لكن روى عنه هذا الحديث عبدالله بن وهب عند ابن عساكر فى تاريخه: 1/ 126، وروايته عنه صالحة عند أهل العلم، لأنه روى عنه قديما قبل احتراق كتبه
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن، ابن لهيعة - وإن كان سيئ الحفظ- لكن روى عنه هذا الحديث عبدالله بن وهب عند ابن عساكر فى تاريخه: 1/ 126، وروايته عنه صالحة عند أهل العلم، لأنه روى عنه قديما قبل احتراق كتبه
حدیث نمبر: 14762 مسند احمد
مُوسَى ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرٌ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُوسَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، قَالَ: سَأَلْتُ جَابِرًا عَنْ خُسُوفِ الشَّمْسِ وَالْقَمَرِ، قَالَ جَابِرٌ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ إِذَا خُسِفَا، أَوْ أَحَدُهُمَا، فَإِذَا رَأَيْتُمْ ذَلِكَ، فَصَلُّوا حَتَّى يَنْجَلِيَ خُسُوفُ أَيِّهِمَا خُسِفَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوزبیر کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے سورج گرہن کے متعلق پوچھا: انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ چاند اور سورج گرہن کو گہن لگ جاتا ہے جب تم ایسی چیز دیکھا کر و تو اس وقت تک نماز پڑھتے رہا کر و جب تک گہن ختم نہ ہو جائے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14762]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف من أجل ابن لهيعة
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف من أجل ابن لهيعة
حدیث نمبر: 14763 مسند احمد
مُوسَى ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرٌ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُوسَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، قَالَ: سَأَلْتُ جَابِرًا، عَنِ الْقَتِيلِ الَّذِي قُتِلَ فَأَذَّنَ فِيهِ سُحَيْمٌ، فَقَالَ جَابِرٌ : أَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُحَيْمًا أَنْ يُؤَذِّنَ فِي النَّاسِ: أَنْ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلَّا مُؤْمِنٌ"، قَالَ جَابِرٌ: وَلَا أَعْلَمُهُ قُتِلَ أَحَدٌ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوزبیر کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے اس مقتول کے متعلق پوچھا: جس کے قتل ہو نے کے بعد سحیم نے منادی کی تھی انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سحیم کو حکم دیا ہے کہ لوگوں میں منادی کر دیں کہ جنت میں صرف وہی شخص داخل ہو گا جو مؤمن ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14763]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف ابن لهيعة، وقد صح الحديث من غير طريقه وبغير هذه السياقة، انظر: 15429، وأما قصة القتيل فانظر: 8090، فهاتان حادثتان مختلفتان، قد خلط بينهما ابن لهيعة، وأخطأ فى اسم المنادي، وانظر ما بعده
الحكم: إسناده ضعيف لضعف ابن لهيعة، وقد صح الحديث من غير طريقه وبغير هذه السياقة، انظر: 15429، وأما قصة القتيل فانظر: 8090، فهاتان حادثتان مختلفتان، قد خلط بينهما ابن لهيعة، وأخطأ فى اسم المنادي، وانظر ما بعد
حدیث نمبر: 14764 مسند احمد
حَسَنٌ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، أَبُو الزُّبَيْرِ ، جَابِرًا
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، قَالَ: سَأَلْتُ جَابِرًا عَنِ الْقَتِيلِ الَّذِي قُتِلَ، فَأَذَّنَ فِيهِ سُحَيْمٌ، قَالَ: كُنَّا بِحُنَيْنٍ، فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُحَيْمًا أَنْ يُؤَذِّنَ فِي النَّاسِ: أَنْ لَا يَدْخُلَ الْجَنَّةَ إِلَّا مُؤْمِنٌ"، قَالَ: وَلَا أَعْلَمُهُ قُتِلَ أَحَدٌ، قَالَ مُوسَى بْنُ دَاوُدَ: قَتَلَ أَحَدًا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوزبیر کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے اس مقتول کے متعلق پوچھا: جس کے قتل ہو نے کے بعد سحیم نے منادی کی تھی انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سحیم کو حکم دیا ہے کہ لوگوں میں منادی کر دیں کہ جنت میں صرف وہی شخص داخل ہو گا جو مؤمن ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14764]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف كسابقه، وانظر ما قبله
الحكم: إسناده ضعيف كسابقه، وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 14765 مسند احمد
مُوسَى ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرٌ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُوسَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، قَالَ: سَأَلْتُ جَابِرًا: أَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الطِّيَرَةِ وَالْعَدْوَى شَيْئًا؟، قَالَ جَابِرٌ : سَمِعْتُهُ يَقُولُ:" كُلُّ عَبْدٍ طَائِرُهُ فِي عُنُقِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے ہر بندے کا پرندہ (نامہ اعمال) اس کی گردن میں لٹکا ہوا ہو گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14765]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف ابن لهيعة
الحكم: إسناده ضعيف لضعف ابن لهيعة
حدیث نمبر: 14766 مسند احمد
مُوسَى ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُوسَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا كَفَّنَ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ فَلْيُحْسِنْ كَفَنَهُ، وَصَلُّوا عَلَى الْمَيِّتِ أَرْبَعَ تَكْبِيرَاتٍ فِي اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ سَوَاءً".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی شخص اپنے بھائی کو کفن دے تو اچھے طریقے سے اسے کفنائے اور یہ کہ اپنے مردوں پر خواہ دن ہو یا رات چار تکبیرات پڑھا کر و۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14766]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف ابن لهيعة، لكن الشطر الأول منه صحيح، تابعه عليه غير واحد، انظر: 14145
الحكم: إسناده ضعيف لضعف ابن لهيعة، لكن الشطر الأول منه صحيح، تابعه عليه غير واحد، انظر: 14145
حدیث نمبر: 14767 مسند احمد
مُوسَى ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُوسَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى عَنْ ثَمَنِ السِّنَّوْرِ وَهُوَ الْقِطُّ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بلی کی قیمت استعمال کرنے سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14767]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف من أجل ابن لهيعة، وانظر: 14166
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف من أجل ابن لهيعة، وانظر: 14166
حدیث نمبر: 14768 مسند احمد
مُوسَى ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُوسَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ، وَجَنَازَةُ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ بَيْنَ أَيْدِيهِمْ:" اهْتَزَّ لَهَا عَرْشُ الرَّحْمَنِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا سعد بن معاذ کا جنازہ رکھا ہوا تھا اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرما رہے تھے کہ اس پر رحمن کا عرش بھی ہل گیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14768]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 3803، م: 2466، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن لهيعة
الحكم: حديث صحيح، خ: 3803، م: 2466، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن لهيعة
حدیث نمبر: 14769 مسند احمد
مُوسَى ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُوسَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" يَأْكُلُ أَهْلُ الْجَنَّةِ فِيهَا وَيَشْرَبُونَ، وَلَا يَمْتَخِطُونَ، وَلَا يَتَغَوَّطُونَ، وَلَا يَبُولُونَ، إِنَّمَا طَعَامُهُمْ جُشَاءٌ، رَشْحٌ كَرَشْحِ الْمِسْكِ، وَيُلْهَمُونَ التَّسْبِيحَ وَالتَّحْمِيدَ، كَمَا يُلْهَمُونَ النَّفَسَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جنت میں اہل جنت کھائیں پئیں گے لیکن پاخانہ پیشاب کر یں گے اور نہ ہی ناک صاف کر یں گے یا تھوک پھینکیں گے ان کا کھانا ایک ڈکار سے ہضم ہو جائے گا اور ان کا پسینہ مشک کی خوشبو کی طرح ہو گا اور وہ اس طرح تسبیح وتحمید کرتے ہوں گے جیسے بےاختیار سانس لیتے ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14769]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 2835، وهذا إسناد ضعيف من أجل ابن لهيعة، وقد توبع، وانظر: 15117
الحكم: حديث صحيح، م: 2835، وهذا إسناد ضعيف من أجل ابن لهيعة، وقد توبع، وانظر: 15117
حدیث نمبر: 14770 مسند احمد
حُجَيْنٌ ، وَيُونُسُ ، لَيْثٌ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُجَيْنٌ ، وَيُونُسُ ، قَالَا: حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، قَالَ يُونُسُ: عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ" نَهَى عَنِ اشْتِمَالِ الصَّمَّاءِ، وَالِاحْتِبَاءِ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ، وَأَنْ يَرْفَعَ الرَّجُلُ إِحْدَى رِجْلَيْهِ عَلَى الْأُخْرَى وَهُوَ مُسْتَلْقٍ عَلَى ظَهْرِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ کوئی آدمی ایک کپڑے میں اپنا جسم لپیٹے اور نہ ہی گوٹ مار کر بیٹھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14770]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2099
الحكم: إسناده صحيح، م: 2099
حدیث نمبر: 14771 مسند احمد
حُجَيْنٌ ، وَيُونُسُ ، اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُجَيْنٌ ، وَيُونُسُ ، قَالَا: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ عَبْدًا لِحَاطِبٍ جَاءَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَشْتَكِي حَاطِبًا، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَيَدْخُلَنَّ حَاطِبٌ النَّارَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كَذَبْتَ، لَا يَدْخُلُهَا، فَإِنَّهُ شَهِدَ بَدْرًا وَالْحُدَيْبِيَةَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا حاطب بن ابی بلتعہ کا ایک غلام اپنے آقا کی شکایت لے کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا کہ یا رسول اللہ! حاطب ضرور جہنم میں داخل ہو گا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: نہیں تم غلط کہتے ہو وہ جہنم میں نہیں جائے کیونکہ وہ غزوہ بدر و حدیبیہ میں شریک تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14771]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2495
الحكم: إسناده صحيح، م: 2495