مُوسَى ، وَحَسَنُ بْنُ مُوسَى ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرٌ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُوسَى ، وَحَسَنُ بْنُ مُوسَى ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، قَالَ: سَأَلْتُ جَابِرًا عَنِ النَّحْرِ، فَقَالَ جَابِرٌ :" صَلَّى بِنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ النَّحْرِ بِالْمَدِينَةِ، فَتَقَدَّمَ رِجَالٌ فَنَحَرُوا، وَظَنُّوا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ نَحَرَ، فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ كَانَ نَحَرَ، أَنْ يُعِيدَ نَحْرًا آخَرَ، وَلَا يَنْحَرُوا حَتَّى يَنْحَرَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مدینہ منورہ میں ہمیں دس ذالحجہ کو نماز پڑھائی کچھ لوگوں نے پہلے ہی قربانی کر لی اور وہ یہ سمجھے کہ شاید نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم قربانی کر چکے ہیں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو معلوم ہوا تو آپ نے حکم دیا کہ جس نے پہلے قربانی کر لی ہے وہ دوبارہ قربانی کر ے اور یہ کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے قربانی کرنے سے پہلے قربانی نہ کیا کر یں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14759]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 1964، وهذا إسناد ضعيف من أجل ابن لهيعة، وانظر: 14130
الحكم: حديث صحيح، م: 1964، وهذا إسناد ضعيف من أجل ابن لهيعة، وانظر: 14130