بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 14359
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 14359
حدیث نمبر: 14359 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
جَرِيرٌ ، مُغِيرَةَ ، الشَّعْبِيِّ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مُغِيرَةَ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: تُوُفِّيَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ حَرَامٍ يَعْنِي أَبَاهُ أَوْ اسْتُشْهِدَ وَعَلَيْهِ دَيْنٌ، فَاسْتَعَنْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى غُرَمَائِهِ أَنْ يَضَعُوا مِنْ دَيْنِهِ شَيْئًا، فَطَلَبَ إِلَيْهِمْ فَأَبَوْا، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اذْهَبْ فَصَنِّفْ تَمْرَكَ أَصْنَافًا الْعَجْوَةَ عَلَى حِدَةٍ، وَعِذْقَ زَيْدٍ عَلَى حِدَةٍ، وَأَصْنَافَهُ، ثُمَّ ابْعَثْ إِلَيَّ"، قَالَ: فَفَعَلْتُ، فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَلَسَ عَلَى أَعْلَاهُ أَوْ فِي وَسَطِهِ ثُمَّ قَالَ:" كِلْ لِلْقَوْمِ"، قَالَ: فَكِلْتُ لِلْقَوْمِ حَتَّى أَوْفَيْتُهُمْ، وَبَقِيَ تَمْرِي كَأَنَّهُ لَمْ يَنْقُصْ مِنْهُ شَيْءٌ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ان کے والد سیدنا عبداللہ بن عمرو بن حرام رضی اللہ عنہ شہید ہوئے تو ان پر کچھ قرض تھا، میں نے قرض خواہوں سے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ذریعے قرض معاف کرنے کی درخواست کی لیکن انہوں نے انکار کر دیا۔ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے فرمایا: جا کر کھجوروں کو مختلف قسموں میں تقسیم کر کے عجوہ الگ کر لو، عذق زید الگ کر لو اسی طرح دوسری اقسام کو بھی الگ الگ کر لو پھر مجھے بلا لو میں نے ایسا ہی کیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تشریف لائے اور سب سے اوپر یا درمیان میں تشریف فرما ہو گئے اور مجھ سے فرمایا: لوگوں کو ماپ کر دینا شروع کرو چنانچہ میں نے لوگوں کو ماپ کر دینا شروع کر دیا حتیٰ کہ سب کا قرض پورا کر دیا اور میری کھجوریں اسی طرح رہ گئیں گویا کہ اس میں سے کچھ بھی کم نہیں ہوا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14359]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2127
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2127
← پچھلی حدیث (14358) باب پر واپس اگلی حدیث (14360) →