خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ ، خَالِدٌ ، حُمَيْدٍ الْأَعْرَجِ ، مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ , حَدَّثَنَا خَالِدٌ , عَنْ حُمَيْدٍ الْأَعْرَجِ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ , عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ نَقْرَأُ الْقُرْآنَ , وَفِينَا الْعَجَمِيُّ وَالْأَعْرَابِيُّ , قَالَ: فَاسْتَمَعَ , فَقَالَ:" اقْرَءُوا , فَكُلٌّ حَسَنٌ , وَسَيَأْتِي قَوْمٌ يُقِيمُونَهُ كَمَا يُقَامُ الْقِدْحُ , يَتَعَجَّلُونَهُ وَلَا يَتَأَجَّلُونَهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مسجد میں داخل ہوئے تو دیکھا کہ کچھ لوگ قرآن کر یم کی تلاوت کر رہے ہیں ہم میں عجمی اور دیہاتی بھی تھے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: قرآن کر یم کی تلاوت کیا کر و اور اس کے ذریعے اللہ کا فضل مانگو اس سے پہلے کہ ایسی قوم آ جائے جو اسے اپنے تیروں کی جگہ رکھ لے گی اور وہ جلد بازی کر یں گے اس میں کسی قسم کی تاخیر نہیں کر یں گے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 15273]
الحكم: إسناده صحيح