بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 14295
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 14295
حدیث نمبر: 14295 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
سُفْيَانُ ، ابْنِ الْمُنْكَدِرِ ، جَابِرًا
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ ابْنِ الْمُنْكَدِرِ ، سَمِعَ جَابِرًا ، يَقُولُ: جِيءَ بِأَبِي يَوْمَ أُحُدٍ، فَوُضِعَ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُسَجًّى، فَجَعَلْتُ أُرِيدُ أَنْ أَكْشِفَ عَنْ وَجْهِهِ، وَيَنْهَانِي قَوْمِي، فَسَمِعَ بَاكِيَةً وَقَالَ مَرَّةً: صَوْتَ صَائِحَةٍ، فَقَالَ:" مَنْ هَذَا؟" فَقَالُوا: ابْنَةُ عَمْرٍو أَوْ أُخْتُ عَمْرٍو، قَالَ:" فَلِمَ تَبْكِينَ أَوْ قَالَ أَتَبْكِينَ؟ فَمَا زَالَتْ الْمَلَائِكَةُ تُظِلُّهُ بِأَجْنِحَتِهَا حَتَّى رُفِعَتْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب میرے والد صاحب غزوہ احد میں شہید ہوئے اور انہیں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے لا کر رکھا گیا، ان پر کپڑا ڈھانپ دیا گیا تھا تو میں ان کے چہرے سے کپڑا ہٹانے لگا، لوگوں نے مجھے منع کرنا شروع کر دیا، لیکن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے منع نہیں کیا، اسی اثناء میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک عورت کے رونے کی آواز سنی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: یہ کون ہے، لوگوں نے بتایا: بنت عمرو یا اخت عمرو، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تم کیوں رو رہی ہو، فرشتے اس پر مسلسل سایہ کئے رہے یہاں تک کہ اسے اٹھا لیا گیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14295]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1293، م: 2471
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1293، م: 2471
← پچھلی حدیث (14294) باب پر واپس اگلی حدیث (14296) →