مُوسَى ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُوسَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنِ الْبَهْزِيَّةِ أُمِّ مَالِكٍ، كَانَتْ تُهْدِي فِي عُكَّةٍ لَهَا سَمْنًا لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَبَيْنَمَا بَنُوهَا يَسْأَلُونَهَا عَنْ إِدَامٍ، وَلَيْسَ عِنْدَهَا شَيْءٌ، فَعَمَدَتْ إِلَى نِحْيِهَا الَّذِي كَانَتْ تُهْدِي فِيهِ السَّمْنَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَوَجَدَتْ فِيهِ سَمْنًا، فَمَا زَالَ يُقِيمُ لَهَا إِدَامَ بَنِيهَا حَتَّى عَصَرَتْهُ، فَأَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" أَعَصَرْتِيهِ؟"، فَقَالَتْ: نَعَمْ، قَالَ:" لَوْ تَرَكْتِيهِ مَا زَالَ ذَلِكَ مُقِيمًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ام مالک البہزیہ یہ ایک بالٹی میں گھی رکھ کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں ہدیہ بھیجا کر تی تھی ایک دفعہ اس بچوں نے اس سے سالن مانگا اس وقت اس کے پاس کچھ نہ تھا وہ اٹھ کر اس بالٹی کے پاس گئی جس میں وہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو گھی بھیجا کر تی تھی دیکھا تو اس میں گھی موجود تھا چنانچہ وہ کافی عرصے تک اپنے بچوں کو دیتی رہی سالن کے طور پر حتی کے ایک دن اسے اس نے نچوڑ لیا اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آ کر سارا واقعہ بیان کیا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے پوچھا کہ کیا تم نے اسے نچوڑ لیا اس نے کہا جی ہاں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ اگر تم اسے یونہی رہنے دیتیں تو اس میں ہمشیہ گھی رہتا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14740]
حکم دارالسلام
إسناده حسن، قاله أحمد شاكر، م: 2280، وهذا إسناد ضعيف لسوء حفظ ابن لهيعة، وقد توبع
الحكم: إسناده حسن، قاله أحمد شاكر، م: 2280، وهذا إسناد ضعيف لسوء حفظ ابن لهيعة، وقد توبع