مُوسَى ، وَحَسَنٌ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، أَبُو الزُّبَيْرِ ، جَابِرًا
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُوسَى ، وَحَسَنٌ ، وَاللَّفْظُ لَفْظُ حَسَنٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، قَالَ: سَأَلْتُ جَابِرًا : هَلْ سَمِعْتَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" الرَّجُلُ فِي صَلَاةٍ مَا انْتَظَرَ الصَّلَاةَ؟"، قَالَ: انْتَظَرْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةً لِصَلَاةِ الْعَتَمَةِ، فَاحْتَبَسَ عَلَيْنَا، حَتَّى كَانَ قَرِيبًا مِنْ شَطْرِ اللَّيْلِ، أَوْ بَلَغَ ذَلِكَ، ثُمَّ جَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَصَلَّيْنَا، ثُمَّ قَالَ:" اجْلِسُوا"، فَخَطَبَنَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ النَّاسَ قَدْ صَلَّوْا وَرَقَدُوا، وَأَنْتُمْ لَمْ تَزَالُوا فِي صَلَاةٍ مَا انْتَظَرْتُمْ الصَّلَاةَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوالزبیر کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا آپ نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ انسان جب تک نماز کا انتظار کرتا رہتا ہے نماز میں ہی شمار ہوتا ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ ایک مرتبہ ہم نے نماز عشاء کے لئے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا انتظار کیا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نا آئے یہاں تک کہ رات کا ایک حصہ بیت گیا پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تشریف لائے تو ہم نے نماز پڑھی پھر فرمایا کہ بیٹھ جاؤ اور ہمارے سامنے خطبہ دیتے ہوئے فرمایا کہ لوگوں نے نماز پڑھی اور سوگئے اور تم مسلسل نماز میں ہی رہے یعنی جتنی دیر تم نے نماز کا انتظار کیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14743]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن لهيعة
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن لهيعة