أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ ، قَطَنٌ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ ، حَدَّثَنَا قَطَنٌ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا نَحْسِبُ إِلَّا أَنَّنَا حُجَّاجًا، فَلَمَّا قَدِمْنَا مَكَّةَ نُودِيَ فِينَا:" مَنْ كَانَ مِنْكُمْ لَيْسَ مَعَهُ هَدْيٌ فَلْيَحِلَّ، وَمَنْ كَانَ مَعَهُ هَدْيٌ فَلْيُقِمْ عَلَى إِحْرَامِهِ"، قَالَ: فَأَحَلَّ النَّاسُ بِعُمْرَةٍ، إِلَّا مَنْ كَانَ سَاقَ الْهَدْيَ، قَالَ: وَبَقِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ مِائَةُ بَدَنَةٍ، وَقَدِمَ عَلِيٌّ مِنَ الْيَمَنِ، فَقَالَ لَهُ:" بِأَيِّ شَيْءٍ أَهْلَلْتَ؟"، قَالَ: قُلْتُ: اللَّهُمَّ إِنِّي أُهِلُّ بِمَا أَهَلَّ بِهِ نَبِيُّكَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَأَعْطَاهُ نَيِّفًا عَلَى الثَّلَاثِينَ مِنَ الْبُدْنِ، قَالَ: ثُمَّ بَقِيَا عَلَى إِحْرَامِهِمَا حَتَّى بَلَغَ الْهَدْيُ مَحِلَّهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ روانہ ہوئے ہم یہی سمجھ رہے تھے کہ ہم حج کرنے جارہے ہیں جب ہم مکہ مکر مہ پہنچے تو وہاں اعلان ہو گیا کہ تم میں سے جس کے پاس ہدی کا جانور نہ ہواسے چاہیے کہ احرام کھول دے اور جس کے پاس ہدی کا جانور ہواسے اپنے احرام پر باقی رہنا چاہیے چنانچہ لوگ عمرہ کر کے احرام سے فارغ ہو گئے الاّ یہ کہ کسی کے پاس ہدی کا جانور ہو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بھی حالت احرام میں ہی رہے آپ کے پاس اونٹ سو تھے ادھر سیدنا علی بھی یمن سے آئے تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے پوچھا کہ تم نے کس نیت سے احرام باندھا انہوں نے عرض کیا: کہ میں نے یہ نیت کی تھی کہ اے اللہ میں وہی احرام باندھتاہوں جو آپ کے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے باندھا ہے اس پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں تیس سے زائد اونٹ دیئے اور وہ دونوں حالت احرام میں ہی رہے یہاں تک کہ ہدی کا جانور اپنے ٹھکانہ تک پہنچ گیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14944]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وقطن هذا لم نتبينه، ولعله محرف عن فطر وهو ابن خليفة - فإن كان كذلك فهو تحريف قديم، لكن للحديث طرق أخرى يصح بها، وانظر: 14116 و 14409
الحكم: حديث صحيح، وقطن هذا لم نتبينه، ولعله محرف عن فطر وهو ابن خليفة - فإن كان كذلك فهو تحريف قديم، لكن للحديث طرق أخرى يصح بها، وانظر: 14116 و 14409