عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ ، عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ ، الْحُصَيْنُ ، سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا الْحُصَيْنُ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: عَطِشَ النَّاسُ يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ يَدَيْهِ رَكْوَةٌ يَتَوَضَّأُ مِنْهَا، إِذْ جَهَشَ النَّاسُ نَحْوَهُ، فَقَالَ:" مَا شَأْنُكُمْ؟" قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّهُ لَيْسَ لَنَا مَاءٌ نَشْرَبُ مِنْهُ، وَلَا مَاءٌ نَتَوَضَّأُ بِهِ إِلَّا مَا بَيْنَ يَدَيْكَ، فَوَضَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ فِي الرَّكْوَةِ، فَجَعَلَ الْمَاءُ يَفُورُ مِنْ بَيْنِ أَصَابِعِهِ كَأَمْثَالِ الْعُيُونِ، فَشَرِبْنَا وَتَوَضَّأْنَا، فَقُلْتُ: كَمْ كُنْتُمْ؟ قَالَ: لَوْ كُنَّا مِائَةَ أَلْفٍ كَفَانَا، كُنَّا خَمْسَ عَشْرَةَ مِائَةً.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حدیبیہ کے موقع پر لوگوں کو پیاس نے ستایا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس صرف ایک پیالہ تھا جس سے آپ وضو فرما رہے تھے لوگ گھبرائے ہوئے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آئے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا کہ کیا ہوا لوگوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہمارے پاس پینے کے لئے پانی ہے اور نہ ہی وضو کے لئے سوائے اس پانی کے جو آپ کے سامنے ہے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس پیالہ میں اپنا دست مبارک رکھ دیا ان انگلیوں کے درمیان سے چشموں کی طرح ابلنے لگاہم سب نے اسے پیا اور وضو کیا راوی نے پوچھا کہ اس وقت آپ کتنے لوگ تھے انہوں نے جواب دیا کہ اگر ہم ایک لاکھ بھی ہوتے تو وہ پانی ہمیں کافی ہو جاتا لیکن اس وقت ہم صرف پندرہ سو تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14522]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3576، م: 1856
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3576، م: 1856