بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 14520
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 14520
حدیث نمبر: 14520 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، غَالِبُ بْنُ سُلَيْمَانَ أَبُو صَالِحٍ ، كَثِيرِ بْنِ زِيَادٍ البُرْسَانِيِّ ، أَبِي سُمَيَّةَ ، جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا غَالِبُ بْنُ سُلَيْمَانَ أَبُو صَالِحٍ ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ زِيَادٍ البُرْسَانِيِّ ، عَنْ أَبِي سُمَيَّةَ ، قَالَ: اخْتَلَفْنَا هَاهُنَا فِي الْوُرُودِ، فَقَالَ بَعْضُنَا: لَا يَدْخُلُهَا مُؤْمِنٌ، وَقَالَ بَعْضُنَا: يَدْخُلُونَهَا جَمِيعًا، ثُمَّ يُنَجِّي اللَّهُ الَّذِينَ اتَّقَوْا، فَلَقِيتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، فَقُلْتُ لَهُ: إِنَّا اخْتَلَفْنَا ها هنا فِي الْوُرُودِ، فَقَالَ: يَرِدُونها جميعًا، وقَالَ سليمانُ مرةً: يَدْخُلونَها جميعًا، فقلت له: إنَّا اختَلَفْنا في ذلك الوُرودِ، فقال: بَعْضُنَا لَا يَدْخُلُهَا مُؤْمِنٌ، وَقَالَ بَعْضُنَا: يَدْخُلُونَهَا جَمِيعًا، فَأَهْوَى بِإِصْبَعَيْهِ إِلَى أُذُنَيْهِ، وَقَالَ: صُمَّتَا إِنْ لَمْ أَكُنْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" الْوُرُودُ الدُّخُولُ، لَا يَبْقَى بَرٌّ وَلَا فَاجِرٌ إِلَّا دَخَلَهَا، فَتَكُونُ عَلَى الْمُؤْمِنِ بَرْدًا وَسَلَامًا كَمَا كَانَتْ عَلَى إِبْرَاهِيمَ، حَتَّى إِنَّ لِلنَّارِ أَوْ قَالَ: لِجَهَنَّمَ ضَجِيجًا مِنْ بَرْدِهِمْ ثُمَّ يُنَجِّي اللَّهُ الَّذِينَ اتَّقَوْا وَيَذَرُ الظَّالِمِينَ فِيهَا جِثِيًّا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوسمیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہمارے درمیان جہنم میں ورد جس کے بارے میں قرآن میں آتا ہے کہ ہر شخص جہنم میں وارد ہو گا کے متعلق اختلاف رائے ہو گیا کچھ لوگ کہنے لگے کہ مسلمان جہنم میں داخل نہیں ہوں گے اور کچھ لوگ کہنے لگے کہ داخل تو سب ہوں گے البتہ اللہ تعالیٰ متقیوں کو جہنم سے نجات عطا فرمائے گا میں اس سلسلے میں سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے جا کر ملا اور ان سے عرض کیا: کہ ہمارے درمیان اس مسئلے میں اختلاف ہو گیا بعض لوگ کہہ رہے ہیں کہ مسلمان جہنم میں داخل نہیں ہوں گے اور بعض کہنا ہے کہ سب ہی داخل ہوں گے اس پر انہوں نے اپنی انگلی سے اپنے کانوں کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا کہ یہ کان بہرے ہو جائیں گے اگر میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے نہ سنا ہو کہ ورد سے مراد دخول ہے اور کوئی نیک و بد ایسا نہیں رہے گا جو جہنم میں داخل نہ ہوالبتہ مومن پر وہ اس طرح ٹھنڈک اور سلامتی کا ذریعہ بن جائے گی جیسے سیدنا ابراہیم کے لئے ہو گئی تھی حتی کہ مومنین کی ٹھنڈک سے جہنم چیخنے لگی گے پھر اللہ متقیوں کو اس سے نجات عطا فرمادے گا اور ظالموں کو اس میں گھٹنوں کے بل پر چھوڑ دے گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14520]
حکم دارالسلام
إسناد ضعيف لجهالة أبي سمية
الحكم: إسناد ضعيف لجهالة أبي سمية
← پچھلی حدیث (14519) باب پر واپس اگلی حدیث (14521) →