يَحْيَى ، جَعْفَرٍ ، أَبِي ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ فِي خُطْبَتِهِ بَعْدَ التَّشَهُّدِ:" إِنَّ أَحْسَنَ الْحَدِيثِ كِتَابُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَأَحْسَنَ الْهَدْيِ هَدْيُ مُحَمَّدٍ"، قَالَ يَحْيَى: وَلَا أَعْلَمُهُ إِلَّا قَالَ:" وَشَرَّ الْأُمُورِ مُحْدَثَاتُهَا" وَكَانَ إِذَا ذَكَرَ السَّاعَةَ أَعْلَى بِهَا صَوْتَهُ، وَاشْتَدَّ غَضَبُهُ، كَأَنَّهُ مُنْذِرُ جَيْشٍ، ثُمَّ يَقُولُ:" بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَةَ كَهَاتَيْنِ" وَأَوْمَأَ وَصَفَ يَحْيَى بِالسَّبَّابَةِ وَالْوُسْطَى.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیا اور اللہ کی حمد وثناء بیان کرنے کے بعد فرمایا: سب سے سچی بات کتاب اللہ ہے،سب سے افضل طریقہ محمد کا طریقہ ہے، بدترین چیز نوایجاد ہیں، پھر جوں جوں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم قیامت کا تذکرہ فرماتے جاتے، آپ کی آواز بلند ہو تی جاتی، اور جوش میں اضافہ ہوتا جاتا اور ایسا محسوس ہوتا کہ جیسے آپ کسی لشکر سے ڈرا رہے ہیں، پھر فرمایا کہ مجھے اور قیامت کو اس طرح بھیجا گیا ہے، یہ کہہ کر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنی شہادت کی انگلی اور درمیانی انگلی کی طرف اشارہ کیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14431]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح كسابقه، م: 867، وأنظر: 14334
الحكم: إسناده صحيح كسابقه، م: 867، وأنظر: 14334