عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، سُفْيَانُ ، الْأَعْمَشِ ، وَمَنْصُورٍ ، سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ , عَنِ الْأَعْمَشِ ، وَمَنْصُورٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ , عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ: إِنَّ لِي جَارِيَةً , وَأَنَا أَعْزِلُ عَنْهَا، فَقَالَ لَهُ:" مَا يُقَدَّرْ يَكُنْ"، فَلَمْ يَلْبَثْ أَنْ حَمَلَتْ , فَجَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ , أَلَمْ تَرَ أَنَّهَا حَمَلَتْ؟، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا قَضَى اللَّهُ لِنَفْسٍ أَنْ تَخْرُجَ إِلَّا هِيَ كَائِنَةٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا کہ میری ایک باندی ہے جو ہماری خدمت بھی کر تی ہے اور پانی بھر کر بھی لاتی ہے میں رات کو اس کے پاس چکر بھی لگاتا ہوں لیکن اس کے ماں بننے کو بھی اچھا نہیں سمجھتا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اگر تم چاہتے ہواس سے عزل کر لیا کر وں ورنہ جو مقدر میں ہے وہ تو ہو کر رہے گا چنانچہ کچھ عرصے بعد وہی آدمی دوبارہ آیا اور کہنے لگا کہ وہ باندی بوجھل ہو گئی ہے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: میں نے تو تمہیں پہلے ہی بتادیا تھا کہ جو مقدر میں ہے وہ تو ہو کر رہے گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 15174]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، وانظر: 14362
الحكم: إسناده صحيح، وانظر: 14362