مُوسَى ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرًا ، جَابِرًا
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُوسَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَأَلَ جَابِرًا أَسَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" إِذَا دَخَلَ الرَّجُلُ بَيْتَهُ يُسَلِّمُ". (حديث مرفوع) (حديث موقوف) " وَالْمُؤْمِنُ يَأْكُلُ فِي مِعًى وَاحِدٍ"؟ قَالَ: نَعَمْ. (حديث مرفوع) (حديث موقوف) قَالَ: قَالَ: وَسَأَلْتُ جَابِرًا أَسَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" إِذَا دَخَلَ الرَّجُلُ بَيْتَهُ فَذَكَرَ اسْمَ اللَّهِ حِينَ يَدْخُلُ، وَحِينَ يَطْعَمُ، قَالَ الشَّيْطَانُ: لَا مَبِيتَ لَكُمْ، وَلَا عَشَاءَ هَاهُنَا، وَإِنْ دَخَلَ فَلَمْ يَذْكُرِ اسْمَ اللَّهِ عِنْدَ دُخُولِهِ، قَالَ: أَدْرَكْتُمُ الْمَبِيتَ، وَإِنْ لَمْ يَذْكُرْ اسْمَ اللَّهِ عِنْدَ مَطْعَمِهِ، قَالَ: أَدْرَكْتُمُ الْمَبِيتَ وَالْعَشَاءَ"؟، قَالَ: نَعَمْ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوزبیر نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا آپ نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب انسان گھر میں داخل ہو تو اسے چاہیے کہ وہ سلام کرے۔ اور یہ کہ مومن ایک آنت میں کھاتا ہے، انہوں نے فرمایا: ہاں۔ اور میں نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا آپ نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ بھی فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب کوئی شخص اپنے گھر میں داخل ہو اور داخل ہوتے وقت اور کھانا کھاتے وقت اللہ کا نام لے تو شیطان کہتا ہے کہ یہاں تمہاری رات گزارنے کی جگہ ہے نہ کھانا۔ اور اگر گھر میں داخل ہوتے وقت اللہ کا نام نہ لے تو وہ کہتا ہے کہ تم کو رات گزارنے کی جگہ تو مل گئی اور اگر کھانا کھاتے وقت اللہ کا نام نہ لے تو وہ کہتا ہے کہ تمہیں کھانا اور ٹھکانہ دونوں مل گیا انہوں نے فرمایا: ہاں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14729]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 2061، وهذا إسناد ضعيف لسوء حفظ ابن لهيعة، وقد توبع، وسيأتي الشطر الثاني برقم: 15108، وهو فى مسلم: 2018
الحكم: حديث صحيح، م: 2061، وهذا إسناد ضعيف لسوء حفظ ابن لهيعة، وقد توبع، وسيأتي الشطر الثاني برقم: 15108، وهو فى مسلم: 2018