أَبُو سَعِيدٍ ، زَائِدَةُ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) قَالَ عَبْد اللَّهِ وَجَدْتُ فِي كِتَابِ أَبِي، حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لِأَبِي بَكْرٍ:" مَتَى تُوتِرُ؟" قَالَ: أَوَّلَ اللَّيْلِ بَعْدَ الْعَتَمَةِ، قَالَ:" فَأَنْتَ يَا عُمَرُ؟"، قَالَ: آخِرَ اللَّيْلِ، قَالَ:" أَمَّا أَنْتَ يَا أَبَا بَكْرٍ، فَأَخَذْتَ بِالثِّقَةِ، وَأَمَّا أَنْتَ يَا عُمَرُ، فَأَخَذْتَ بِالْقُوَّةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے صدیق اکبر سے پوچھا کہ آپ نماز وتر کب پڑھتے ہیں انہوں نے عرض کیا: نماز عشاء کے بعد رات کے پہلے پہر میں، یہی سوال نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سیدنا عمر سے پوچھا: تو انہوں نے عرض کیا: رات کے آخری پہر میں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ ابوبکر تم نے اس پہلو کو ترجیح دی جس میں اعتماد ہے اور عمر نے اس پہلو کو ترجیح دی جس میں قوت ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14323]
حکم دارالسلام
إسناده حسن من أجل عبد الله بن محمد بن عقيل
الحكم: إسناده حسن من أجل عبد الله بن محمد بن عقيل