هَاشِمٌ ، زُهَيْرٌ ، أَبُو الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنَّ لِي جَارِيَةً، وَهِيَ خَادِمُنَا وَسَائسنا، أَطُوفُ عَلَيْهَا، وَأَنَا أَكْرَهُ أَنْ تَحْمِلَ، قَالَ:" اعْزِلْ عَنْهَا إِنْ شِئْتَ، فَإِنَّهُ سَيَأْتِيهَا مَا قُدِّرَ لَهَا"، قَالَ: فَلَبِثَ الرَّجُلُ، ثُمَّ أَتَاهُ، فَقَالَ: إِنَّ الْجَارِيَةَ قَدْ حَمَلَتْ، قَالَ:" قَدْ أَخْبَرْتُكَ، أَنَّهُ سَيَأْتِيهَا مَا قُدِّرَ لَهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا کہ میری ایک باندی ہے جو ہماری خدمت بھی کرتی ہے اور پانی بھی بھر کر لاتی ہے، میں رات کو اس کے پاس چکر بھی لگاتا ہوں، لیکن اس کے ماں بننے کو بھی اچھا نہیں سمجھتا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اگر تم چاہتے ہو تو اس سے عزل کر لیا کرو، ورنہ جو مقدر میں ہے وہ تو ہو کر رہے گا، چنانچہ کچھ عرصے بعد وہی آدمی دوبارہ آیا اور کہنے لگا کہ وہ باندی بوجھل ہو گئی ہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے تو تمہیں پہلے ہی بتا دیا تھا کہ جو مقدر میں ہے وہ تو ہو کر رہے گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14346]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 1439 ، أبو الزبير مدلس، وقد عنعن، وهو متابع
الحكم: حديث صحيح، م: 1439 ، أبو الزبير مدلس، وقد عنعن، وهو متابع