مُصْعَبُ بْنُ سَلَّامٍ ، الْأَجْلَحُ ، الذَّيَّالِ بْنِ حَرْمَلَةَ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُصْعَبُ بْنُ سَلَّامٍ ، سَمِعْتُهُ مِنْ أَبِي مَرَّتَيْنِ، حَدَّثَنَا الْأَجْلَحُ ، عَنِ الذَّيَّالِ بْنِ حَرْمَلَةَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: أَقْبَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ سَفَرٍ، حَتَّى إِذَا دَفَعْنَا إِلَى حَائِطٍ مِنْ حِيطَانِ بَنِي النَّجَّارِ، إِذَا فِيهِ جَمَلٌ لَا يَدْخُلُ الْحَائِطَ أَحَدٌ إِلَّا شَدَّ عَلَيْهِ، قَالَ: فَذَكَرُوا ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَاءَ حَتَّى أَتَى الْحَائِطَ، فَدَعَا الْبَعِيرَ، فَجَاءَ وَاضِعًا مِشْفَرَهُ إِلَى الْأَرْضِ، حَتَّى بَرَكَ بَيْنَ يَدَيْهِ، قَالَ: فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هَاتُوا خِطَامَه" فَخَطَمَهُ وَدَفَعَهُ إِلَى صَاحِبِهِ، قَالَ: ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَى النَّاسِ، فَقَالَ:" إِنَّهُ لَيْسَ شَيْءٌ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ، إِلَّا يَعْلَمُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ، إِلَّا عَاصِيَ الْجِنِّ وَالْإِنْسِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ کسی سفر سے واپس آ رہے تھے جب ہم نجار کے ایک باغ کے قریب پہنچے تو پتہ چلا کہ اس باغ میں ایک اونٹ ہے جو باغ میں داخل ہو نے والے ہر شخص پر حملہ کر دیتا ہے۔ لوگوں نے یہ بات نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے ذکر کی تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس باغ میں تشریف لائے اور اس اونٹ کو بلایا وہ اپنی گردن جھکائے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو گیا اور آپ کے سامنے آ کر بیٹھ گیا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ اس کی لگام لاؤ، وہ لگام اس کے منہ میں ڈال کر اونٹ اس کے مالک کے حوالے کر دیا، پھر لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا کہ آسمان و زمین کے درمیان جتنی چیزیں ہیں سوائے نافرمان جنات اور انسانوں کے سب جانتے ہیں کہ میں اللہ کا رسول ہوں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14333]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن، مصعب بن سلام مختلف فيه، لكنه متابع، والذیال بن حرملة روی عنه جمع، ووثقه ابن حبان، فحديثه حسن
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن، مصعب بن سلام مختلف فيه، لكنه متابع، والذیال بن حرملة روی عنه جمع، ووثقه ابن حبان، فحديثه حسن