مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ , أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ , أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ , قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ , يَقُولُ: لَمَّا بُنِيَتِ الْكَعْبَةُ , كَانَ الْعَبَّاسُ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْقُلَانِ حِجَارَةً , فَقَالَ الْعَبَّاسُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اجْعَلْ إِزَارَكَ، قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ: عَلَى رَقَبَتِكَ مِنَ الْحِجَارَةِ، فَخَرَّ إِلَى الْأَرْضِ , وَطَمَحَتْ عَيْنَاهُ إِلَى السَّمَاءِ , فَقَامَ فَقَالَ:" إِزَارِي , إِزَارِي"، فَقَامَ فَشَدَّهُ عَلَيْهِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب خانہ کعبہ کی تعمیر شروع ہوئی تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور سیدنا عباس بھی پتھر اٹھا کر لانے لگے سیدنا عباس کہنے لگے کہ کہ اپنا تہبند اتار کر کندھے پر رکھ لیں تاکہ پتھر سے کندھے زخمی نہ ہو جائیں تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایسا کرنا چاہا تو بےہو ش ہو کر گرپڑے اور آپ کی نظریں آسمان کی طرف اٹھی کی اٹھی رہ گئیں پھر جب ہو ش میں آئے تو فرمایا کہ میرا تہبند، میرا تہبند اور اسے اچھی طرح مضبوطی سے باندھ لیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 15068]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3829، م: 340
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3829، م: 340