بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 15028
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 15028
حدیث نمبر: 15028 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
يَعْقُوبُ ، أَبِي ، ابْنِ إِسْحَاقَ ، سَعِيدُ بْنُ مِينَاءَ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ , حَدَّثَنَا أَبِي , عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ , حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ مِينَاءَ , عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , قَالَ: عَمِلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْخَنْدَقِ , قَالَ: فَكَانَتْ عِنْدِي شُوَيْهَةُ عَنْزٍ جَذَعٌ سَمِينَةٌ , قَالَ: فَقُلْتُ: وَاللَّهِ لَوْ صَنَعْنَاهَا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَأَمَرْتُ امْرَأَتِي , فَطَحَنَتْ لَنَا شَيْئًا مِنْ شَعِيرٍ، وَصَنَعَتْ لَنَا مِنْهُ خُبْزًا , وَذَبَحَتْ تِلْكَ الشَّاةَ، فَشَوَيْنَاهَا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَلَمَّا أَمْسَيْنَا وَأَرَادَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الِانْصِرَافَ عَنِ الْخَنْدَقِ , قَالَ: وَكُنَّا نَعْمَلُ فِيهِ نَهَارًا، فَإِذَا أَمْسَيْنَا رَجَعْنَا إِلَى أَهْلِنَا، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنِّي قَدْ صَنَعْتُ لَكَ شُوَيْهَةً كَانَتْ عِنْدَنَا , وَصَنَعْنَا مَعَهَا شَيْئًا مِنْ خُبْزِ هَذَا الشَّعِيرِ , فَأُحِبُّ أَنْ تَنْصَرِفَ مَعِي إِلَى مَنْزِلِي، وَإِنَّمَا أُرِيدُ أَنْ يَنْصَرِفَ مَعِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَحْدَهُ , قَالَ: فَلَمَّا قُلْتُ لَهُ ذَلِكَ، قَالَ:" نَعَمْ" , ثُمَّ" أَمَرَ صَارِخًا، فَصَرَخَ أَنْ انْصَرِفُوا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى بَيْتِ جَابِرٍ"، قَالَ: قُلْتُ: إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ، فَأَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَأَقْبَلَ النَّاسُ مَعَهُ , قَالَ: فَجَلَسَ وَأَخْرَجْنَاهَا إِلَيْهِ , قَالَ:" فَبَرَكَ وَسَمَّى ثُمَّ أَكَلَ , وَتَوَارَدَهَا النَّاسُ , كُلَّمَا فَرَغَ قَوْمٌ قَامُوا وَجَاءَ نَاسٌ , حَتَّى صَدَرَ أَهْلُ الْخَنْدَقِ عَنْهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ خندق کی کھدائی کر رہے تھے میرے پاس بکری کا ایک چھ ماہ کا بچہ تھا میں نے دل میں سوچا کہ کیوں نہ اسے بھون کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے لئے کھانے کا انتظام کر لیں چنانچہ میں نے اپنی بیوی سے کہا اس نے کچھ جو پیسے اور اس سے روٹیاں پکائیں اور بکری ذبح کی جسے ہم نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے لئے بھون لیا۔ جب شام ہوئی اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم خندق سے واپسی کا ارادہ کرنے لگے کہ ہم لوگ دن بھر کام کرتے تھے اور شام کو گھر واپس آجاتے تھے میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں نے تھوڑا ساگوشت بھونا ہے جو ہمارے پاس تھا اور اس کے ساتھ جو کی کچھ روٹیاں پکائی ہیں میری خواہش ہے کہ آپ میرے ساتھ میرے گھر چلیں میرا ارادہ یہ تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تنہا میرے ساتھ چلیں گے لیکن جب میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے چلنے کے لئے کہا تو آپ نے فرمایا: اچھا اور ایک منادی کو حکم دیا کہ جس نے پورے لشکر میں اعلان کر وا دیا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ جابر رضی اللہ عنہ کے گھر چلو میں نے اپنے دل میں انا للہ وانا الیہ راجعون پڑھا اتنے میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور سارے لوگ آ گئے اور آ کر بیٹھ گئے ہم نے جو کچھ پکایا تھا وہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے لا کر رکھ دیا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس میں برکت کی دعا فرمائی اور بسم اللہ پڑھ کر اسے تناول فرمایا: لوگ آتے جاتے تھے اور کھاتے تھے حتی کہ تمام اہل خندق نے سیر ہو کر وہ کھانا کھالیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 15028]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ- بنحوه-: 3070، م: 2039، وهذا إسناد حسن من أجل ابن إسحاق، وهو متابع
الحكم: حديث صحيح، خ- بنحوه-: 3070، م: 2039، وهذا إسناد حسن من أجل ابن إسحاق، وهو متابع
← پچھلی حدیث (15027) باب پر واپس اگلی حدیث (15029) →